چین کے 2026 میں انسان بردار خلائی مشن

چین کے 2026 میں انسان بردار خلائی مشن
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین کا انسان بردار خلائی پروگرام مرحلہ وار استحکام اور توسیع کی جانب گامزن ہے۔ 2026 کے لیے طے شدہ نئے خلائی مشنز اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ چین نہ صرف اپنے خلائی اسٹیشن کے باقاعدہ آپریشن کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ چاند پر انسان بردار مشن کے طویل المدت ہدف کی سمت بھی عملی پیش رفت کر رہا ہے۔ تازہ اعلانات کے مطابق 2026 میں چین کی جانب سے دو انسان بردار خلائی مشن اور ایک کارگو خلائی جہاز روانہ کیا جائے گا۔

ہانگ کانگ یا مکاؤ خصوصی انتظامی خطے سے تعلق رکھنے والا ایک خلاباز رواں برس ہی خلائی اسٹیشن کے مشن میں حصہ لے سکتا ہے، جو چین کے خلائی پروگرام میں وسیع تر شمولیت کی علامت ہوگا۔شین زو-23 مشن کے عملے میں شامل ایک خلاباز مدار میں ایک سالہ قیام کا تجربہ انجام دے گا، جس کا مقصد طویل المدت خلائی قیام سے متعلق سائنسی اور تکنیکی پہلوؤں کا مزید جائزہ لینا ہے۔

اس وقت چین کا خلائی اسٹیشن مستحکم طور پر مدار میں کام کر رہا ہے اور اس کی کارکردگی تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔ اطلاق اور ترقی کے مرحلے میں داخل ہونے کے بعد انسان بردار خلائی پروگرام کے تحت چھ عملہ بردار مشن، چار کارگو سپلائی مشن اور سات خلائی جہاز واپسی مشن کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ 2025 میں پہلا ہنگامی لانچ بھی انجام دیا گیا۔

اب تک چھ خلاباز عملے طویل المدت قیام کر چکے ہیں۔ مجموعی طور پر 13 بیرونی خلائی سرگرمیاں انجام دی گئیں، جن میں خلائی جہاز کے باہر سائنسی آلات کی تنصیب اور منتقلی شامل تھی۔ بیرونی مرمتی کارروائیاں بھی مکمل کی گئیں اور ایک خلاباز کی جانب سے طویل ترین واحد بیرونی خلائی سرگرمی کا عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا۔

چوتھے بیچ کے خلاباز امیدواروں کا انتخاب بھی مکمل ہو چکا ہے، جس میں ہانگ کانگ اور مکاؤ سے تعلق رکھنے والے پے لوڈ ماہرین شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروگرام میں تکنیکی مہارتوں کی وسعت اور تنوع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب چین کے انسان بردار قمری پروگرام کی تیاری بھی منظم انداز میں جاری ہے۔ چین نے 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ لانگ مارچ-10 کیریئر راکٹ، منگ زو عملہ بردار خلائی جہاز اور لان یوئے قمری لینڈر سمیت اہم پروازی مصنوعات کی تیاری جاری ہے۔ منگ زو خلائی جہاز کا زیرو ہائٹ ابورٹ ٹیسٹ، لان یوئے لینڈر کا لینڈنگ اور ٹیک آف تجربہ، لانگ مارچ-10 نظام کا اسٹیٹک فائر اور کم بلندی پر مظاہراتی تجربہ، اور زیادہ سے زیادہ متحرک دباؤ پر ابورٹ ٹیسٹ جیسے اہم مراحل مکمل کیے جا چکے ہیں۔

2026 میں جنوبی صوبہ ہائی نان کے وین چھانگ خلائی لانچ مرکز پر قمری مشن کے لیے معاون تنصیبات اور زمینی سپورٹ نظام کی تعمیر میں مزید تیزی لائی جائے گی، تاکہ مستقبل کے قمری مشنز کے لیے بنیادی ڈھانچہ مضبوط بنایا جا سکے۔

چین کے انسان بردار خلائی پروگرام نے اپنے آغاز سے ہی پرامن استعمال، مساوات، باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کے اصولوں کو برقرار رکھا ہے۔ اسی تناظر میں 2025 میں چین اور پاکستان کے درمیان خلابازوں کے انتخاب اور تربیت سے متعلق معاہدہ طے پایا، جس کے تحت ایک پاکستانی خلاباز پے لوڈ ماہر کی حیثیت سے مختصر مدتی خلائی مشن میں حصہ لے گا اور چین کے خلائی اسٹیشن پر سائنسی تجربات انجام دے گا۔

2026 کے مجوزہ انسانی خلائی مشنز چین کے خلائی پروگرام کے استحکام اور توسیع کی واضح علامت ہیں۔ خلائی اسٹیشن کے باقاعدہ آپریشن، طویل المدت قیام کے تجربات، قمری مشن کی تیاری اور بین الاقوامی تعاون اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین مرحلہ وار اور منظم حکمتِ عملی کے تحت خلائی تحقیق کو آگے بڑھا رہا ہے۔ آئندہ برسوں میں یہ پیش رفت نہ صرف سائنسی میدان میں نئی راہیں کھول سکتی ہے بلکہ عالمی خلائی تعاون کے امکانات کو بھی مزید تقویت دے سکتی ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093467 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More