رائےvsپائے

ایک معقول انسان کو ہمیشہ رائے بھی اپنی اور پائے بھی اپنی والی کے پکائے ہی پسند آتے ہیں۔
کسی بھی چیز کے کھانے اور ذائقے کی بات کی جائے تو اسکا تعلق بہت سے عوامل
سے ہوتا ہے۔ آپکی بھوک کی شدت، ارد گرد ماحول، کس نے پکایا، کس نے سرو کیا
کیسے پٹخ کے دیا
کھا مر والے سٹائل میں یا عزت سے دیا گیا،کس کے ساتھ کھا رہے تھے
اسطرح کی بہت سی باتیں کھانے کے ذا ئقے کا تعین کرتی ہیں۔
آخر کو پینو یا پروین کے ساتھ کھائے پائے کا ذائقہ پرویز کے ساتھ کھائے جانے والے
کھانے سے کچھ تو مختلف ہوگا ہی۔۔۔۔

پائے بکری بھینس گائے کسی کے بھی ہوں انکو اچھی طرح پکانا ضروری ہے تاکہ
انکا ذائقہ اچھا ہو اور ادھ پکا نہ ہو۔ اسی طرح اگر انسان کے معاملے میں بھی دیکھا جائے تو
جو انسان زندگی میں جتنے ٹھڈے سوٹے کھا کر رائے بنا پاتا ہے اسکی سوچ اتنی ہی
میچور اور دوسروں سے ہٹ کر ہو گی۔
(کبھی کبھی ایسا نہیں بھی ہوتا)
انسان کی رائے چاہے سیاسیات معاشیات دینیات انسانیات کسی بھی معاملے میں ہو
بچپن محرومیاں نعمتیں سہولتیں ماریں تعلیم سب چیزیں مل کر بناتی ہیں۔



آپ کسی بھی شوربے والے کھانے میں پانی ڈالتے جائیں ڈالتے جائیں یہ شوربہ ہی
کہلائے گا۔ ذائقہ متاثر ہوگا یا نہیں یہ کھانے والے کی تربیت پر ہے ۔۔۔۔۔۔اگر آپکی خاتون خانہ نے
ایسا شوربہ کھلا کھلا کر اچھی تربیت کی ہوگی تو یہ شوربہ چپ چاپ کھالیا جائیگا گا مگر
رائے کے معاملے میں یوں ہے کہ ایک پرسن اے ۔۔۔۔۔۔۔ دلیلوں کو اپنی رائے کے مطابق لے
کر آئے گااور وہ اپنی
رائے پر جما رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے والا پرسن بی اپنی رائے پر جما رہے گا
دونوں کی دلیلیں ملا کرشوربے کی دیگ بن جائیگی مگر کوئی بھی ہار نہیں مانے گا

سوشل میڈیا پر ایک مشہور پوسٹ یقینی سب نے پڑھ رکھی ہوگی کہ



اگر آجکے دور میں کوئی آپ سے کہے کہ ہاتھی اڑتا ہے تو آپنے
کہنا ہے کل تار پر بیٹھا دیکھا تھا۔

پائے کوئی دوسرا کھلائے ست بسم اللہ
اپنے پلے سے کھلانے پڑیں استغفراللہ

رائے لچکدار ہونی چاہئے مگر ہمارے ہاں ہر ایک گنڈاسا پکڑ کر خود کو جج جیوری جلاد سمجھ لیتا ہے
جس وجہ سے اپنی رائے سلیقے سے بتانا بھی مشکل ہے بالکل ویسے ہی جیسے
آپ پائے کتنے ہی سلیقے سے پیش کریں کوئی نہ کوئی کیڑا نکال ہی دے گا۔
جیسے مسکین سے پایوں کا فائدہ بہت ہے ان میں کیلشیم اور کئی طرح کے نمکیات پائے
جاتے ہیں۔
اسی طرح اپنی رائے بس اپنے تک رکھنے کے بھی فوائد بہت سے ہیں
ورنہ اگر آپ نے رائے دینی چاہی تو

ایک امیچور یا کم
exposure
والا آپکو بحث میں الجھائے گا
الجھاتے الجھاتے اپنی بات آپکے دماغ میں ٹھونسائے گا
ٹھونساتے ٹھونساتے آپکو اپنی رائے کا انتقال فرمانے میں مدد ضرور دے گا۔

پائے اچھے نہ بنے ہوں تو گھر والی کو ڈر کے مارے نہیں بتا سکتے مارے گی
اگر رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوں تو سامنے والے کو نہیں بتا سکتے کہ اتفاق
نہیں کرتے
کیوں کہ تب بھی مار تو پڑے گی ہی مگر لفظوں کی
کیونکہ سمجھدار انسان اگر سمجھ لے کہ رائے لوگوں کو کتنی پیاری ہوتی ہے وہ
کسی کو بھی رائے بدلنے پر آمادہ کرنا چھوڑ دے۔

sana
About the Author: sana Read More Articles by sana: 275 Articles with 357208 views A writer who likes to share routine life experiences and observations which may be interesting for few and boring for some but sprinkled with humor .. View More