شرق الاوسط کی آگ، افغانستان کی جارحیت اور اسلامی دنیا کی خاموشی:کیا پاکستان تنہا ہے؟از ڈاکٹر افضل رضوی — آسٹریلیا:

شرق الاوسط کی آگ، افغانستان کی جارحیت اور اسلامی دنیا کی خاموشی:کیا پاکستان تنہا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی — آسٹریلیا
دنیا ایک بار پھر شرق الاوسط کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں نے خطے کو کھلی جنگ کے دہانے سے آگے دھکیل دیا ہے۔ فلسطین میں جاری انسانی بحران، خلیجی ریاستوں کی دفاعی تیاریوں اور عالمی طاقتوں کی صف بندی نے صورتحال کو غیر معمولی حد تک نازک بنا دیا ہے۔
سوال اب یہ نہیں کہ کشیدگی بڑھے گی یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ اس آگ کا پھیلاؤ کہاں تک ہوگا اور کون اس کی لپیٹ میں آئے گا؟
امریکہ کی اولین ترجیح اسرائیل کی سلامتی اور ایران کے اثر و رسوخ کو محدود رکھنا ہے۔ ایران اس کے برعکس اپنی دفاعی حکمت عملی کو پراکسی نیٹ ورکس، میزائل صلاحیت اور علاقائی اتحادوں کے ذریعے مستحکم کر رہا ہے۔
خلیج میں متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور سعودی عرب کھلے تصادم سے بچنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ان کی ترجیح معیشت، سرمایہ کاری اور داخلی استحکام ہے۔ وہ بیانات دیتے ہیں، مگر عملی عسکری صف بندی سے گریزاں ہیں۔یوں شرق الاوسط ایک بار پھر بلاکس میں تقسیم ہو چکا ہے؛مگر یہ تقسیم نظریاتی سے زیادہ اسٹریٹجک اور معاشی مفادات پر مبنی ہے۔پاکستان ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔سرحدی کشیدگی کے تناظر میں افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی سرگرمیاں داخلی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
اب سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان کو افغانستان کے محاذ پر اس لیے مصروف رکھا جا رہا ہے تاکہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ اسٹریٹجک ہم آہنگی سے دور رہے؟ اس دعوے کے براہِ راست شواہد محدود ہیں، مگر جغرافیائی سیاست میں ''ٹائمنگ'' ہمیشہ اہم ہوتی ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت تین بڑے دباؤ کے درمیان توازن کی کوشش ہے:داخلی سلامتی، معاشی استحکام، اور عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی گنجائش۔
یہ کہنا کہ پاکستان ''گھٹنے ٹیک چکا ہے'' ایک جذباتی نعرہ ہو سکتا ہے، مگر زمینی حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔ پاکستان نہ مکمل امریکی کیمپ میں شامل ہے، نہ کھلے طور پر کسی مخالف بلاک کا حصہ بننے کو تیار ہے۔ وہ اس وقت سفارتی احتیاط کی راہ پر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بڑے عرب ملک نے کھلی عسکری حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ تنظیم تعاون اسلامی (OIC)کی سطح پر بھی کوئی فیصلہ کن اجتماعی اقدام سامنے نہیں آیا۔عرب ریاستیں ایران کے ساتھ مکمل محاذ آرائی سے گریز کر رہی ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ اپنے معاشی اور دفاعی تعلقات کو بھی متاثر نہیں کرنا چاہتیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی دنیا کی آواز منتشر ہیاور اجتماعی حکمت عملی کا فقدان نمایاں ہے۔
تاریخ میں خلافتِ راشدہ کو سیاسی و نظریاتی وحدت کی مثال سمجھا جاتا ہے، مگر آج کی اسلامی دنیا قومی ریاستوں میں منقسم ہے۔ ہر ریاست کے اپنے مفادات، اپنے اتحاد اور اپنی ترجیحات ہیں۔ایران، ترکی، سعودی عرب، مصر، پاکستان،سب اپنی الگ اسٹریٹجک سمت رکھتے ہیں۔ نظریاتی ہم آہنگی کی جگہ جغرافیائی سیاست اور اقتصادی مفادات نے لے لی ہے۔
آج کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ اتحاد کیوں نہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی نظام میں کوئی متحد اسلامی بلاک عملی طور پر ممکن بھی ہے؟شرق الاوسط میں جنگ شروع ہو چکی ہے۔ طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ عرب دنیا محتاط ہے۔ امریکہ سرگرم ہے۔ ایران مزاحمت کی پوزیشن میں ہے۔ اسرائیل عسکری برتری دکھا رہا ہے۔اور پاکستان اس آگ کے دائرے کے کنارے کھڑا ہے؛نہ مکمل تنہا، نہ مکمل محفوظ۔ اسے جذباتی نعروں سے زیادہ حقیقت پسندانہ سفارت، داخلی اتحاد اور معاشی خود انحصاری کی ضرورت ہے۔
اگر داخلی استحکام کمزور ہو اور خارجہ پالیسی دباؤ میں ہو تو کوئی بھی ریاست تنہا محسوس ہوتی ہے۔ مگر اگر داخلی یکجہتی مضبوط ہو تو مشکل ترین حالات میں بھی سفارتی راستے نکل آتے ہیں۔تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ عسکری طاقت عارضی ہو سکتی ہے، مگر سیاسی بصیرت اور قومی اتحاد دیرپا قوت ہوتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی دنیا اور خصوصاً پاکستان اس نازک لمحے میں جذبات سے اوپر اٹھ کر حکمت کا راستہ اختیار کرے گا؟
جب یہ کالم لکھا جارہاہے اس وقت تک ایران کی صف ِ اول کی قیادت کو شہید کر دیا گیا ہے ۔ اسرائیل اورامریکہ کے مشترکہ حملے جاری ہیں جب کہ دوسری طرف ایرانی افواج کی جوابی کارروائیاں شرق الاوسط کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر جاری ہیں۔لیکن ان کارروائیوں سے صرف امریکی اڈے متاثر نہیں ہو رہے بلکہ مقامی آبادیاں بھی شدید نقصان سے گزر رہی ہیں گویاگیہوں کے ساتھ گھن بھی پس رہا ہے۔
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 170 Articles with 250443 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More