چین کا اعلیٰ معیار کی ترقی اور پالیسی تسلسل کا واضح پیغام
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین کا اعلیٰ معیار کی ترقی اور پالیسی تسلسل کا واضح پیغام تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین کے سالانہ قومی "دو اجلاس" کے قریب آتے ہی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے فروغ، مستحکم معاشی نمو اور سماجی پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اور تازہ پالیسی اشارے سامنے آئیں گے۔ وسیع تر پالیسی معاونت اور اصلاحات کے ذریعے معیشت کو پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔
بیجنگ میں منعقد ہونے والی چین کی اس اہم ترین سیاسی سرگرمی میں ملک کی اعلیٰ ترین قانون ساز باڈی قومی عوامی کانگریس اور اعلیٰ ترین سیاسی مشاورتی باڈی چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے سالانہ اجلاس شامل ہیں۔ اس سال کا اہم ترین ایجنڈا 2026 تا 2030 کے نئے پانچ سالہ منصوبے کے لیے رہنما ترقیاتی خاکے کا جائزہ ہے، جو پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ثابت ہوگا۔ یہ مرحلہ 2035 تک بنیادی طور پر سوشلسٹ جدیدکاری کے حصول کی جانب ایک کلیدی سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
پانچ سالہ جامع اور تزویراتی منصوبہ بندی چین کے نظمِ حکمرانی کی نمایاں خصوصیت رہی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مختلف عالمی اور داخلی چیلنجز کے باوجود ملک نے ثابت قدمی کے ساتھ پیش قدمی کی، متعدد اہداف حاصل کیے اور چینی طرزِ جدیدکاری کے سفر میں مستحکم پیش رفت جاری رکھی۔
رواں اجلاسوں میں اندرونی طلب کو فروغ دینے، مضبوط داخلی منڈی کی تشکیل، سائنسی و تکنیکی جدت اور خود انحصاری کو آگے بڑھانے، اصلاحات کو گہرا کرنے اور اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو وسعت دینے جیسے اہم اقدامات پر غور متوقع ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے معیشت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے نئے شعبہ جات میں ترقی کے محرکات پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اندرونی طلب کے مسلسل فروغ کو معاشی ترقی کا بنیادی محرک بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کھپت میں اضافے کے لیے خصوصی اقدامات، شہری و دیہی آمدنی میں بہتری اور خدمات کے شعبے میں کھپت کی صلاحیت کو فعال بنانے سے نمو کو پائیدار رفتار ملنے کی توقع ہے۔ 2025 میں حتمی کھپت کے اخراجات نے چین کی معاشی نمو میں 52 فیصد حصہ ڈالا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں پانچ فیصد پوائنٹس زیادہ تھا، اور یہ رجحان کھپت کو طویل المدتی ترقی کا مرکزی ستون بنا رہا ہے۔
اسی دوران نجی سرمایہ کاری کے فروغ اور مرکزی بجٹ کے تحت سرمایہ کاری کے حجم میں مناسب اضافے جیسے اقدامات کے ذریعے سرمایہ کاری کو تقویت دی جائے گی۔ مشترکہ خوشحالی کے حصول اور مادی اثاثوں کے ساتھ انسانی سرمائے میں مربوط سرمایہ کاری پر زور سے کھپت اور سرمایہ کاری دونوں شعبوں میں نئی توانائی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
ٹیکنالوجی کی ترقی بھی معاشی حیات میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ حالیہ اسپرنگ فیسٹیول گالا میں یونیٹری کے انسان نما روبوٹس کی مارشل آرٹس پیشکش نے ٹیکنالوجی سے چلنے والے مستقبل کی ایک جھلک پیش کی۔ سائنسی و تکنیکی خود انحصاری کو جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کی کلید قرار دیتے ہوئے بنیادی تحقیق اور اختراع کے لیے مزید معاونت فراہم کیے جانے کی توقع ہے، تاکہ نئی معیاری پیداواری قوتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
اصلاحات کو بھی اعلیٰ معیار کی ترقی کا اہم محرک سمجھا جا رہا ہے۔ یونیفائڈ قومی مارکیٹ کی تعمیر اور سرمائے کی منڈی میں سرمایہ کاری و مالیاتی ڈھانچے کی بہتری جیسے شعبوں میں پیش رفت متوقع ہے۔ 2024 میں پیش کیے گئے تین سو سے زائد اہم اصلاحاتی اہداف کو 2029 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو جدیدکاری کے عمل کو مضبوط تقویت فراہم کرے گا۔
معاشی سمت کے حوالے سے اعتماد کا ایک اہم سبب کھلے پن کی پالیسی ہے۔ خدمات کے شعبے میں منڈی تک رسائی میں توسیع، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون سے مشترکہ ترقی کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
2030 سے قبل کاربن ڈائی آکسائیڈ کے تخفیف اخراج کی بلند ترین سطح حاصل کرنے کے ہدف کے تحت سبز منتقلی کو تیز کیا جائے گا، جس میں ذہین برقی گرڈز، ہائیڈروجن توانائی اور سبز ایندھن کی صنعتوں کی ترقی شامل ہے۔
داخلی و خارجی چیلنجز کے باوجود استحکام کو یقینی بناتے ہوئے پیش رفت کا عمومی اصول برقرار رکھا جائے گا۔ پالیسی تسلسل اور واضح تزویراتی ترجیحات پر مبنی نیا پانچ سالہ خاکہ چین کے حکومتی عزائم کو واضح کرے گا اور اس امر کی وضاحت کرے گا کہ جدیدکاری کے عمل کے ذریعے چین عالمی معاشی نمو میں ایک مضبوط محرک کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔ |
|