چین کا مصنوعی ذہانت کا نظام اور عالمی جدت کی نئی سمت

چین کا مصنوعی ذہانت کا نظام اور عالمی جدت کی نئی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی عالمی ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے۔ حال ہی میں منعقدہ قومی سطح کے اہم سالانہ دو اجلاسوں کے دوران اس شعبے کو خصوصی توجہ حاصل رہی، جہاں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف چین کی اقتصادی جدت کا اہم محرک بن رہی ہے بلکہ عالمی مصنوعی ذہانت کے نظام میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اوپن سورس لارج اے آئی ماڈلز کی عالمی سطح پر ڈاؤن لوڈنگ سب سے زیادہ ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔

چینی مصنوعی ذہانت ماڈلز کی تیز رفتار ترقی عالمی سطح پر ان کے اثر و رسوخ میں اضافے کی علامت ہے۔ ایک بین الاقوامی مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں چینی بڑے ماڈلز کے استعمال یا اے پی آئی کالز کی تعداد پہلی مرتبہ امریکی سطح سے بڑھ گئی، جسے عالمی مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق استعمال کے اعتبار سے دنیا کے پانچ بڑے مصنوعی ذہانت ماڈلز میں سے تین چینی کمپنیوں کے ہیں، جن میں منی میکس کا ایم 2.5، مون شوٹ کا کیمی کے 2.5 اور ڈیپ سیک کا وی 3.2 شامل ہیں۔ ان ماڈلز کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی اعلیٰ کارکردگی اور کم لاگت کا امتزاج قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ برس سامنے آنے والی"ڈیپ سیک لمحہ" جیسی پیش رفت نے عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے حلقوں میں بڑی توجہ حاصل کی تھی۔ اس پیش رفت کو چین کی ٹیکنالوجی پر مبنی اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم محرک سمجھا جاتا ہے، اور رواں سال بھی متعدد کمپنیوں کی جانب سے اسی نوعیت کی نئی کامیابیوں کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کو تخلیقی صنعتوں میں بھی تیزی سے متعارف کرایا ہے۔ ایک معروف چینی کمپنی کی جانب سے تیار کردہ ٹیکسٹ ٹو ویڈیو ٹول "سی ڈانس 2.0" نے حال ہی میں عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سادہ ہدایات کی مدد سے تقریباً ایک منٹ کے اندر کئی مناظر پر مشتمل ویڈیو ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے باعث مختصر ویڈیوز کی تخلیق کا نیا رجحان سامنے آیا ہے۔

اسی دوران چینی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کو صارفین کی روزمرہ استعمال کی مصنوعات میں بھی تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے۔ جنوری میں لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی کنزیومر الیکٹرانکس نمائش کے بعد حال ہی میں اسپین کے شہر بارسلونا میں ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس میں بھی چینی اسمارٹ ڈیوائسز نے عالمی توجہ حاصل کی۔ ان میں مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ چشمے، اے آئی ایجنٹ پر مبنی اسمارٹ فونز اور انسان نما روبوٹس شامل ہیں جو مختلف خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کی پیش کردہ ٹیکنالوجی صرف انفرادی ایجادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مربوط ٹیکنالوجی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ چین کے پاس مکمل صنعتی ماحولیاتی نظام، جدت پسند ہنرمند افراد کی بڑی تعداد اور تحقیق و ترقی کے لیے سازگار ماحول موجود ہے، جو نئی ٹیکنالوجی کی تخلیق کو مزید تیز کر رہا ہے۔

چینی صنعتوں کے نمائندوں کے مطابق آئندہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، الگورتھمز اور ڈیٹا وسائل کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ اسی سلسلے میں بعض بڑی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کی بنیادی ٹیکنالوجیز میں اربوں یوآن کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے۔

حکومتی پالیسی کے تحت " اے آئی پلس" اقدام کو مزید وسعت دینے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے ذریعے نئی نسل کے ذہین آلات اور اے آئی ایجنٹس کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا اور اہم صنعتی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے وسیع پیمانے پر تجارتی اطلاق کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

اسی تناظر میں ملک کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں بھی مصنوعی ذہانت کو بنیادی سائنسی تحقیق کو آگے بڑھانے، روایتی اور جدید صنعتوں کی تبدیلی، نئی صارف منڈیوں کی تخلیق، حکمرانی کے جدید طریقوں کے فروغ اور روزمرہ زندگی میں سہولت پیدا کرنے کے لیے ایک کلیدی ٹیکنالوجی قرار دیا گیا ہے۔

وسیع تناظر میں ، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کی تیز رفتار پیش رفت نہ صرف ملکی صنعتی ترقی کو نئی رفتار فراہم کر رہی ہے بلکہ عالمی ٹیکنالوجی نظام میں بھی ایک اہم توازن پیدا کر رہی ہے۔ آئندہ برسوں میں تحقیق، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اس شعبے کو مزید وسعت دینے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093400 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More