پاکستان کا ایٹمی پروگرام! حکمت عملی اور بقا کی کہانی

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان کو شدید دفاعی عدم توازن کا سامنا تھا۔ اس صورتحال میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرے گا۔
فضل خالق خان (سوات)
دنیا کی تاریخ میں بعض ممالک ایسے ہوتے ہیں جن کی بقا محض جغرافیہ یا وسائل کی وجہ سے نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں اور بروقت حکمت عملی کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ قیام کے بعد سے لے کر آج تک اس ملک نے بے شمار داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کیا، مگر حیرت انگیز طور پر ہر نازک موڑ پر ایسی قیادت سامنے آئی جس نے اپنے انداز اور سوچ کے مطابق قومی مفاد کو مقدم رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں بعض لوگ یہ جملہ کہتے ہیں کہ یہ “اللہ کے رازوں میں سے ایک راز” ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں مختلف نوعیت کی قیادتیں نظر آتی ہیں۔ ایک طرف جمہوری قیادت ہے تو دوسری طرف فوجی حکمران بھی رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، اور نواز شریف جیسے رہنماؤں پر سیاسی اختلافات اور تنقید ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ کسی نے انہیں امریکہ کا اتحادی قرار دیا، کسی نے ان کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے لیکن اگر تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ ہر دور کی قیادت نے کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے۔
خصوصاً پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی داستان اس ملک کی سیاسی بصیرت اور اسٹریٹجک سوچ کی نمایاں مثال ہے۔ 1971 کی جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان کو شدید دفاعی عدم توازن کا سامنا تھا۔ اس صورتحال میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرے گا۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد پڑی۔
بعد کے برسوں میں یہ پروگرام خاموشی اور رازداری کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ اس دوران عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آئی جسے تاریخ میں روس ،افغانستان جنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1979 میں جب روس نے افغانستان میں مداخلت کی تو پورا خطہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس وقت پاکستان کے سربراہ محمد ضیاء الحق تھے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے ایک طرف افغان مزاحمت کی حمایت کی جبکہ دوسری طرف عالمی توجہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا۔
یہ مرحلہ انتہائی حساس اور خطرناک تھا۔ ایک طرف امریکہ اور مغربی دنیا کی سیاست تھی، دوسری طرف خطے کے حالات۔ لیکن پاکستان نے نہایت خاموشی، حکمت اور احتیاط کے ساتھ اپنا دفاعی منصوبہ جاری رکھا۔ یہی وہ دور تھا جب پاکستان نے جوہری ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑی پیش رفت کی۔
دنیا کے کئی ممالک کی مثالیں اس حوالے سے ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ایران آج بھی اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے عالمی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ عراق کو بھی جوہری ہتھیاروں کے الزامات کی بنیاد پر عالمی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر اس ملک کو تباہ کن جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح لیبیا کو عالمی دباؤ کے تحت اپنا جوہری پروگرام ختم کرنا پڑا۔ کئی عرب ممالک نے اس میدان میں قدم رکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
ان مثالوں کے مقابلے میں پاکستان کا سفر ایک منفرد حکمت عملی کا مظہر ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنا جوہری پروگرام مکمل کیا بلکہ اسے ایک مؤثر دفاعی ڈھال میں بھی تبدیل کیا۔ یہ کامیابی کسی ایک فرد یا ایک حکومت کی نہیں بلکہ مختلف ادوار کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
پاکستان کی دفاعی پالیسی کا ایک اہم پہلو خود انحصاری بھی ہے۔ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بڑی طاقتیں جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی کمزور ممالک کو فراہم نہیں کرتیں۔ پاکستان کو بھی کئی مرتبہ ایسی پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس کے باوجود ملک نے اپنے دفاعی اداروں اور سائنسی ماہرین کی مدد سے بہت سی ٹیکنالوجیز خود تیار کیں۔ آج پاکستان میزائل ٹیکنالوجی، دفاعی سازوسامان اور جدید ہتھیاروں کے کئی شعبوں میں خود کفالت کی طرف بڑھ چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے معاملات میں ہمیشہ ایک حد تک اتفاقِ رائے دیکھا گیا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہے، مگر دفاعی معاملات میں عمومی طور پر سنجیدگی اور احتیاط کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط دفاعی قوت بنا دیا۔
اگر تاریخ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان نے انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنی بقا کا راستہ تلاش کیا۔ کبھی عالمی سیاست کے پیچیدہ کھیل میں توازن قائم کیا، کبھی داخلی بحرانوں کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دی۔
اسی پس منظر میں بعض مبصرین یہ جملہ کہتے ہیں کہ پاکستان محض ایک ملک نہیں بلکہ ایک غیر معمولی تجربہ ہے۔ ایک ایسا ملک جو بارہا مشکلات میں گھرا مگر ہر بار کسی نہ کسی حکمت عملی کے ذریعے خود کو سنبھالنے میں کامیاب رہا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ پاکستان واقعی “اللہ کے رازوں میں سے ایک راز” ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ ملک کئی بار ایسے موڑوں سے گزرا جہاں اس کا بچ نکلنا بظاہر ناممکن نظر آتا تھا، مگر ہر بار حالات نے ایک نیا راستہ پیدا کر دیا۔
پاکستان کی اصل طاقت بھی شاید یہی ہے: مشکل حالات میں موقع کو پہچاننے کی صلاحیت، اور قومی بقا کے لیے بروقت فیصلے کرنے کی ہمت۔ یہی حکمت عملی مستقبل میں بھی اس ملک کی سلامتی اور استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔
 
Fazal khaliq khan
About the Author: Fazal khaliq khan Read More Articles by Fazal khaliq khan: 167 Articles with 141358 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.