ایران کو 'انتہائی شدت' سے نشانہ بنائیں گے: ٹرمپ کی دھمکیوں سے ایرانی قوم ڈرنے والی نہیں!
(Taqi Abbas Rizvi Calcuttavi, delhi)
| امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود ایرانی قوم اپنے رہبر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد مزید پرجوش اور متحد ہے۔ ایرانی عوام اپنے رہبر کے خون کا انتقام لینے کے لیے تیار ہیں، اور ان کا ایمان حسینی نظریات پر مبنی ہے، جو حق کے دفاع میں جان کی قربانی دینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ایران کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، اور وہ اپنے قومی مفادات کا دفاع مضبوطی سے کر رہا ہے، بغیر کسی بیرونی دباؤ سے متاثر ہوئے۔ |
|
ایران کو 'انتہائی شدت' سے نشانہ بنائیں گے: ٹرمپ کی دھمکیوں سے ایرانی قوم ڈرنے والی نہیں! تقی عباس رضوی کلکتوی امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تو امریکہ ایران کو "انتہائی شدت" سے نشانہ بنائے گا۔ یہ دھمکیاں نئی نہیں ہیں، بلکہ ان کا تسلسل اُس پالیسی کا حصہ ہیں جو ٹرمپ نے اپنے صدارت کے دوران ایران کے خلاف اپنائی تھی۔ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف بار بار سخت موقف اختیار کیا ہے۔ لیکن ایک سوال جو عالمی سطح پر ابھرتا ہے، وہ یہ ہے کہ کیا ان دھمکیوں سے ایران میں کوئی اثر پڑے گا؟ کیا ایران واقعی ٹرمپ کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوگا؟ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے گزشتہ دہائیوں میں مسلسل بیرونی دباؤ کا سامنا کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیاں، فوجی مداخلت، اور جوہری معاہدے کی تنسیخ جیسے اقدامات ایران کے لیے نئی بات نہیں ہیں۔ ایران کی قیادت نے ہمیشہ اپنی قوم کو اپنے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے مضبوط اور پُرعزم رہنے کی ترغیب دی ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی قومی خودمختاری ایران کا جوہری پروگرام، جو عالمی سطح پر تنازعہ کا موضوع بن چکا ہے، ایرانی قیادت کی نظر میں ایک ضروری دفاعی ٹول ہے۔ ایران کی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، مگر مغربی ممالک اس پر شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایران کی حکومت ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ اپنی قوم کی خودمختاری کو ہر قیمت پر بچانے کے لیے تیار ہے، چاہے اس کے لیے انہیں عالمی طاقتوں کے ساتھ محاذ آرائی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ٹرمپ کی دھمکیاں اور ایرانی ردعمل ٹرمپ کی دھمکیاں عالمی سطح پر ایران کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کا حصہ ہیں، لیکن ایرانی قوم ان دھمکیوں کو ایک نیا چیلنج سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمانوں اور رہنماؤں نے ٹرمپ کے الزامات اور دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے متواتر بیان دئیے ہیں کہ ایران کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔ ایران کی سیاست میں داخلی سطح پر بھی عوام کی حمایت حاصل ہے، جو اپنی حکومت کی قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے یکجا ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت: ایک نیا عزم ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایران کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، بلکہ ایرانی عوام میں انتقام کی ایک نئی لہر بھی پیدا کر چکا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت، جو ایک روحانی رہبر اور سیاسی قائد دونوں کے طور پر جانی جاتی تھی، نے ایرانی عوام میں ایک خاص قسم کا عزم پیدا کیا تھا۔ ان کی شہادت کے بعد، ایران کے عوام کی پرجوش ردعمل نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے رہبر کے خون ناحق کا انتقام لینے کے لیے کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران میں مختلف شہروں میں احتجاجات اور مظاہرے اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ ایرانی قوم اپنی قیادت کے خون کا حساب لینے کے لیے ایک نئی تحریک میں شامل ہو گئی ہے۔ یہ تحریک نہ صرف مذہبی عزم کا اظہار ہے بلکہ قومی خودمختاری کے لیے ایک طاقتور پیغام بھی ہے۔ ایرانی حکومت نے اس موقع پر اپنے عوام سے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے رہبر کے خون کا انتقام ضرور لیں گے، اور اس عزم کو عالمی سطح پر دکھایا جا رہا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ یا دھمکیوں سے نہیں ڈرے گا۔ کربلا کے جانثار اور حسینی نظریات کے پیروکار یہ تمام واقعات ایک مخصوص مذہبی اور ثقافتی پس منظر میں بھی معنی رکھتے ہیں۔ ایران کی تاریخ میں ہمیشہ کربلا کے جانثار اور امام حسین علیہ السلام کے پیروکاروں کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ ایرانی عوام کا ایمان حسینی نظریات پر استوار ہے، جو ہر قسم کی ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے اور حق کے دفاع کا درس دیتے ہیں۔ ان کا ایمان موت پر نہیں بلکہ بقائے حق پر ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں اور بیرونی دباؤ ایرانی عوام کی پختہ ارادی کو کمزور نہیں کر سکتے۔ کربلا کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام کو ایک طاقتور پیغام دیا ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور حق کی جیت کے لیے اپنی جان کی قربانی دینا اصل کامیابی ہے۔ اس لحاظ سے ایرانی قوم کی موجودہ تحریک کو کربلا کی جدوجہد سے جوڑا جا سکتا ہے، جہاں ایرانی عوام اپنے رہبر کے خون کا انتقام لینے کے لیے بھرپور عزم اور استقامت کے ساتھ میدان میں ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر و رسوخ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود، ایران کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ ایران نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنی سیاسی اور عسکری موجودگی کو مستحکم کیا ہے۔ ان ممالک میں ایران کا اثر و رسوخ ایک اہم جغرافیائی سیاسی حقیقت بن چکا ہے۔ ایران نے ہمیشہ اس بات کو اہمیت دی ہے کہ اس کے علاقائی مفادات کا تحفظ کیا جائے، چاہے اس کے لیے اسے عالمی دباؤ کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ نتیجہ: یقینی طور پر ٹرمپ کی دھمکیاں ایک اور سنگین باب کا آغاز ہیں، مگر ایرانی قوم کی تاریخ اور حکومت کی استقامت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران ان دھمکیوں سے کسی بڑی تبدیلی کی طرف مائل ہوگا۔ ایران نے ہمیشہ اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی مفادات کا بھرپور دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی یہی حکمت عملی اختیار کرنے کا امکان ہے۔ جہاں تک عالمی تعلقات کا تعلق ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ اور عدم اعتماد کی فضا برقرار رہنے کا امکان ہے، اور ٹرمپ کی دھمکیاں اس میں مزید شدت کا باعث بن سکتی ہیں، مگر ایرانی قوم ان دھمکیوں سے متاثر ہونے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ ایران کی قیادت نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ "ہماری قوم نہ تو خوفزدہ ہو گی اور نہ ہی کبھی اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹے گی۔" کربلا کے جانثار، حسینی نظریات کے پیروکار اور ایرانی عوام اپنے رہبر کے خون کا انتقام لینے کے لیے ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا ایمان موت پر نہیں، بلکہ حق کے بقا پر ہے۔ ڈرتے نہیں ہیں موت سے ڈرتی ہے ھم سے موت ھم لوگ کربلا سے کفن لے کے آتے ہیں
|
|