چین کی پائیدار اور معیاری ترقی کی سمت

چین کی پائیدار اور معیاری ترقی کی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین کی جانب سے 2026ء کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف مقرر کیے جانے کو ملکی پالیسی سازی میں ایک حقیقت پسندانہ مگر بلند حوصلہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہدف اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین داخلی و خارجی چیلنجوں کے باوجود معیاری اور پائیدار اقتصادی ترقی کے عزم پر قائم ہے اور طویل المدتی اقتصادی استحکام کے بارے میں پالیسی سازوں کو اعتماد حاصل ہے۔

2026ء کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف تقریباً 4.5 فیصد سے 5 فیصد کے درمیان رکھا گیا ہے، جس کے ساتھ بہتر کارکردگی کے لیے کوشش جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس ہدف کو چین کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے مطابق ایک متوازن اور محتاط حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ساختی اصلاحات اور مالی خطرات کی روک تھام کے لیے بھی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔

یہ ہدف چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے دوران اقتصادی ترقی کو ایک معقول سطح پر برقرار رکھنے کے مقصد سے ہم آہنگ ہے۔ یہ منصوبہ چین کے لیے ایک اہم مرحلہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اسی عرصے میں ملک 2035ء تک بنیادی طور پر سوشلسٹ جدیدکاری کے حصول کی سمت میں نمایاں پیش رفت کا ارادہ رکھتا ہے۔

چینی معیشت کی موجودہ کارکردگی کو اس ہدف کے لیے ایک مضبوط بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف عالمی اور داخلی دباؤ کے باوجود چین کی معیشت نے مسلسل استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں چین کی مجموعی قومی پیداوار 140.19 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی، جو عالمی سطح پر معیشت کے حجم کے اعتبار سے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔

اسی دوران ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدت کے نتیجے میں معیشت میں نئے محرکات بھی ابھر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید صنعتوں اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں پیش رفت نے اقتصادی ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، جس سے مستقبل کی اقتصادی کارکردگی کے لیے مزید بنیادیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

عالمی معیشت کے مجموعی منظرنامے کو مدنظر رکھا جائے تو چین کا ترقیاتی ہدف مزید نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازوں کے مطابق 2026ء میں عالمی اقتصادی شرح نمو تقریباً 3.3 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے یہ شرح تقریباً 1.8 فیصد بتائی گئی ہے۔ اس تناظر میں چین کی مجوزہ اقتصادی توسیع بڑی عالمی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں قرار دی جا رہی ہے۔

موجودہ عالمی حالات میں جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی، یکطرفہ اقدامات اور تجارتی تحفظ پسندی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی معیشت بھی سست روی کا شکار ہے، ایسے میں چین کی اقتصادی کارکردگی کو عالمی معیشت کے لیے استحکام کا ایک اہم ستون سمجھا جا رہا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق چین جیسی بڑی معیشت کے لیے 4.5 سے 5 فیصد کے درمیان معیاری ترقی حاصل کرنا آسان ہدف نہیں ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے زیادہ فعال مالیاتی و اقتصادی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ متعدد اہدافی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں جن سے معیشت کی لچک اور استحکام میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

ان اقدامات میں گھریلو طلب میں اضافہ، ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ، اور اصلاحات کو مزید گہرا کرنے جیسے پہلو نمایاں ہیں۔ ان پالیسیوں کے ذریعے معیشت کے اندر موجود صلاحیتوں کو مزید فعال بنانے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس سال کا اقتصادی ہدف گورننس کے تصور سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومتی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کارکردگی کو محض اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی معاشی و سماجی ترقی کی بنیاد پر جانچا جائے۔ اس تصور کے مطابق حکام کو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنے، معروضی اقتصادی اصولوں کی پیروی کرنے اور عملی اقدامات کے ذریعے عوامی فلاح کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ترقی کی شرح کے لیے ایک لچکدار حد مقرر کرنے کا مقصد یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ مقامی حکام کو صرف معاشی نمو کے اعداد و شمار پر توجہ دینے کے بجائے ایک جامع حکمت عملی اختیار کرنے کا موقع ملے۔ اس حکمت عملی میں ٹیکنالوجی کی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی معیار زندگی میں بہتری کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر 2026ء کے لیے مقرر کردہ اقتصادی ہدف چین کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی اور پائیدار اقتصادی مستقبل کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ہدف کا حصول نہ صرف چینی معیشت کو ایک مضبوط سمت فراہم کرے گا بلکہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کو بھی ایک مستحکم بنیاد فراہم کرے گا، جس کے ذریعے چین آئندہ دہائیوں میں مزید متوازن اور معیاری ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1094018 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More