شہادت ہمارا ورثہ ہے: رہبر معظم کی قربانی پر فخر

آج کے دور میں جب دنیا بھر میں ظلم و جبر کی طاقتیں بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہی ہیں، رہبر معظم کی شہادت نے ہمیں اپنی تاریخی میراث اور شہادت کی حقیقت یاد دلائی ہے۔ شہادت ایک عظیم عہد اور مقصد کی حفاظت کے لیے قربانی دینے کا نام ہے۔ رہبر معظم نے اپنی زندگی میں شہادت کی دعا کی تھی اور آخرکار اپنے اصولوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔ ان کی قربانی نے ثابت کیا کہ طاقت صرف فزیکل قوت میں نہیں بلکہ عقیدے اور عزم میں ہوتی ہے۔

رہبر معظم کا فلسطین کے لیے عزم اور ان کا خاندان اس نظریے کی حمایت کرتا ہے کہ فلسطین کی آزادی مسلمانوں کا مقدس مقصد ہے۔ دنیا بھر کے مظلوم علاقے، جیسے فلسطین اور یمن، اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور ان کی قربانیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ حق کی فتح مقدر ہے۔

اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری اتحاد ہے، تاکہ وہ اپنے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔ رہبر معظم کی شہادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنے اصولوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور ہماری میراث، جو شہادت کے راستے پر چلنا ہے، کو ہم ہمیشہ اگلی نسلوں تک منتقل کریں گے۔
شہادت ہمارا ورثہ ہے: رہبر معظم کی قربانی پر فخر
تقی عباس رضوی کلکتوی
آج کے دور میں جہاں دنیا بھر میں ظلم و جبر کی طاقتیں بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہی ہیں، وہاں ہمیں ان عظیم روحوں کی قربانیوں کی یاد آتی ہے جنہوں نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکایا اور اپنے ایمان کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ رہبر معظم کی شہادت اسی کربناک حقیقت کا ایک نمونہ ہے جس نے نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ لیکن اس شہادت کے پیچھے ایک طاقتور پیغام بھی چھپا ہوا ہے جو ہمیں نہ صرف اپنی تاریخ پر فخر کرنے کی دعوت دیتا ہے بلکہ ہمیں اپنی میراث کی اہمیت کا بھی احساس دلاتا ہے۔

شہادت کی حقیقت

شہادت، صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک عظیم عہد ہے۔ یہ ایک راستہ ہے جو ہمیں اپنی عظمت، عزت اور اصولوں کی حفاظت کے لیے ہر قیمت پر چلنا سکھاتا ہے۔ "شہادت ہمارا ورثہ ہے"، یہ الفاظ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ اور ثقافت کی گہرائی میں موجود سچائی ہیں۔ یہ وہ میراث ہے جو ہمارے خون میں لکھی ہوئی ہے، جسے ہماری نسلوں نے ہمیشہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھا ہے۔ رہبر معظم کی شہادت نے ایک بار پھر ہمیں یہ حقیقت یاد دلائی کہ ہم نے کبھی بھی باطل کے سامنے جھکنا نہیں۔ ہم نے سر کٹانا سیکھا ہے، اپنی جانوں کی قربانی دے کر اپنے اصولوں اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنا سیکھا ہے۔

رہبر معظم کی قربانی

رہبر معظم کی شہادت محض ایک فرد کی موت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک تحریک کی علامت بن گئی۔ ان کی قربانی نے ہمیں یہ سکھایا کہ طاقت کا اصل معیار صرف فزیکل قوت میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ عقیدہ اور عزم میں ہوتا ہے۔ وہ ایک عظیم قائد تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو اپنے لوگوں کی خدمت میں گزارا اور آخرکار اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان دی۔ ان کی قربانی نے اس بات کو ثابت کیا کہ جب آپ کا مقصد مقدس ہو، تو آپ کو ہر حالت میں اس کی حفاظت کرنی چاہیے، چاہے آپ کو اپنی جان بھی کیوں نہ قربان کرنا پڑے۔

رہبر معظم شہادت کی دعا مانگتے تھے

رہبر معظم کا ایک اہم اور پُراثر پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی دعاؤں میں شہادت کی موت کی درخواست کرتے تھے۔ ان کا یہ کہنا تھا:
"اے اللہ! ہمیں اپنے راستے میں شہادت کی موت عطا فرما۔"
یہ دعا صرف ایک لفظی دعائیہ نہیں، بلکہ ایک عہد تھی، ایک پختہ ارادہ تھا، جو رہبر معظم نے اپنی زندگی میں سچ کر دکھایا۔ شہادت کے لیے دعا کرنا ایک ایسا عمل تھا جس میں وہ اپنے مقصد کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ اس کے لیے اپنی جان دینے کو وہ عظمت سمجھتے تھے۔ یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ شہادت کا مقصد محض موت نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے تمام تر worldly تعلقات اور خواہشات کو قربان کرنے کی علامت ہے۔

شہادت اللہ تعالیٰ کا عظیم تحفہ اور صلہ ہے

شہادت حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم تحفہ اور صلہ ہے، جو وہ اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ یہ دنیا و آخرت کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے، اور اس کے لیے بے حد صبر اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہادت کے اس مرتبے کو حاصل کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان اپنے ایمان، عقیدے اور مقصد کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہوتا ہے۔ جب اللہ کسی بندے کو اس عظیم مرتبے سے نوازتا ہے، تو یہ اس کی آزمائش، قربانی، اور ان کے عقیدے کا مظہر ہوتا ہے۔ شہادت ایک عظیم مقصد کے لیے جینے کا راستہ ہے، جو انسان کو اپنی جان کی قربانی دے کر دنیا کی فانی خوشیوں سے بلند ہو کر آخرت کی فلاح کو اپنا مقصد سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای اور ان کا خاندان: فلسطین پر قربان

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا فلسطین کے لیے ایک خاص عہد ہے، جو نہ صرف ان کی زندگی بلکہ ان کے خاندان کی بھی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر اپنی مضبوط حمایت کا اظہار کیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ فلسطین کی آزادی نہ صرف فلسطینیوں کا حق ہے بلکہ یہ مسلمانوں کی جدوجہد ہے۔ ان کا خاندان بھی اس نظریے کی حمایت کرتا ہے اور فلسطین کے لیے اپنی قربانیاں دینے کے عزم کا مظاہرہ کرتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی کی سب سے بڑی قربانیوں میں فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اٹھائے گئے قدم شامل ہیں۔ ان کی شہادت اور اس عزم کو دیکھتے ہوئے، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے لیے فلسطین کی آزادی ایک مقدس مقصد ہے، اور یہ ان کا زندگی کا مقصد ہے کہ وہ ہر سطح پر فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔

فلسطین اور دیگر مظلوم علاقوں کی جدوجہد

آج کے دن میں، فلسطین، یمن اور دنیا کے مختلف حصوں میں بے گناہ لوگ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں ہماری قربانیاں ہیں۔ جیسے رہبر معظم نے اپنی جان دی، ویسے ہی یہ لوگ بھی اپنے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مظلوم کبھی نہیں ہارتے جب تک ان کے اندر ایمان، عزم اور آزادی کی جوت ہے۔ چاہے حالات کتنے بھی پیچیدہ ہوں، ان کی روشنی ہمیں دکھاتی ہے کہ آخرکار حق کی فتح مقدر ہے۔ ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کی جدوجہد کا حصہ ہیں۔

اسلام دشمن قوتوں کی سازشیں اور مسلمانوں کی ذمہ داری

ایران اور اسرائیل کی جنگ کو شیعہ سنی کا رنگ دے کر اسلام دشمن عناصر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کو بکھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے لیے بہت کڑا وقت ہے کیونکہ مسلمان ہمیشہ امریکہ اور اس کے اشاروں پر چلنے والے عالمی اداروں اور حکمرانوں کے ہاتھوں دھوکہ کھاتے آئے ہیں، اور وہ اب بھی انہیں دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے۔

آج کے بدلتے ہوئے حالات میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو ختم کر کے ایک دوسرے کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر اپنے مشترکہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔ ہمیں اپنے داخلی اختلافات کو نظر انداز کر کے اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوئے تو ہمارے دشمن ہمیں آسانی سے شکست دے سکتے ہیں، لیکن اگر ہم متحد ہوں تو کوئی بھی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔

شہادت کا پیغام

شہادت کا پیغام یہ ہے کہ انسانیت کے لیے اپنی جان کی قربانی دی جائے اور وہ قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ یہ ہمارے لیے صرف ایک دکھ اور غم کا باعث نہیں بلکہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ ہم اپنے اصولوں سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ رہبر معظم کی شہادت نے ہمیں یہ باور کرایا کہ ہم نے اپنی تاریخ اور ورثے پر فخر کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا عزم ہے جس میں ہمیں اپنی اس میراث کی حفاظت کرنی ہے اور اسے اگلی نسل تک منتقل کرنا ہے۔

اختتام

آج، جب ہم رہبر معظم کی قربانی پر فخر کرتے ہیں، تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ان کی قربانی نہیں تھی، بلکہ ہماری مشترکہ قربانی تھی۔ شہادت کا یہ سفر ہم سب کا ہے، اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ راستہ ہمیں فتح کی منزل تک لے جائے گا۔ ہمیں اس پر فخر ہے کہ ہم نے باطل کے سامنے سر نہ جھکایا، بلکہ سر کٹانا سیکھا ہے۔ یہ ہماری میراث ہے، اور ہم اس پر ہمیشہ قائم رہیں گے۔ 
Taqi Abbas Rizvi Calcuttavi
About the Author: Taqi Abbas Rizvi Calcuttavi Read More Articles by Taqi Abbas Rizvi Calcuttavi: 4 Articles with 429 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.