عزم و استقامت کا پہاڑ: وہ شہادت جو تاریخ لکھ کر گئی
(Taqi Abbas Rizvi Calcuttavi, delhi)
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی اور شہادت نے تاریخ کا ایک سنہری باب رقم کیا۔ ان کا عزم، استقامت اور قربانی ہمیشہ کے لیے زندہ رہے گا، کیونکہ انہوں نے اپنے اصولوں کے لیے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی قیادت میں ایران نے عالمی طاقتوں کے خلاف استقامت دکھائی اور داخلی چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، جس نے مسلم دنیا کو ایک نیا عزم دیا کہ ظلم کے خلاف ہمیشہ سینہ سپر ہو کر کھڑا ہونا چاہیے۔
ان کی شہادت نے عالمی طاقتوں کی جارحیت کے خلاف ایک پیغام دیا، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر بڑھتی ہوئی جارحیت کے تناظر میں۔ آیت اللہ کی قربانی کا پیغام یہ ہے کہ طاقت کا استعمال تباہی لاتا ہے، اور ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرے۔ ان کی شہادت نے عالمی برادری کو جاگنے کی ضرورت محسوس کرائی، اور ایک مضبوط موقف اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی موت سے یہ ثابت کیا کہ عزم و استقامت ہمیشہ کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں۔ |
|
عزم و استقامت کا پہاڑ: وہ شہادت جو تاریخ لکھ کر گئی تقی عباس رضوی کلکتوی عزم و استقامت کا وہ پہاڑ، جسے موت بھی نہ جھکا سکی! کچھ لوگ تاریخ کے اوراق میں صرف زندہ نہیں رہتے، بلکہ اپنی موت سے تاریخ لکھ کر جاتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جن کی زندگی صرف ایک مدت تک نہیں ہوتی بلکہ ان کی قربانی، ان کے اصول، اور ان کی استقامت وہ کہانیاں ہیں جو نسلوں تک زندہ رہتی ہیں۔ ان میں سے ایک شخصیت، آیت اللہ سید علی خامنہ ای ہیں، جنہوں نے اپنے عزم، قوتِ ارادی اور قربانی سے تاریخ کے صفحات پر ایک سنہری باب رقم کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی اور قیادت ایک ایسی شہادت ہے جو آج بھی زندہ ہے۔ جب تک دنیا قائم ہے، ان کا نام تاریخ میں زندہ رہے گا، کیونکہ انہوں نے اپنی موت کے بجائے اپنی زندگی سے وہ تاریخ تخلیق کی، جو انسانیت کو ہمیشہ روشنی دکھاتی رہے گی۔ ان کی قیادت میں ایران نے جہاں عالمی طاقتوں کے خلاف استقامت کا مظاہرہ کیا، وہیں داخلی چیلنجز کو بھی نہ صرف برداشت کیا بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے جرات و حوصلے کے ساتھ قدم اٹھائے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا عزم اتنا پختہ تھا کہ موت بھی ان کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکی۔ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے اصولوں اور اپنے وطن کے مفادات کو سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے، جنہوں نے اپنی زندگی اور اپنے اصولوں سے انقلاب کی راہ ہموار کی، اور وہ موت، جو دنیا کے ہر انسان کا مقدر ہے، ان کے عزم کو مزید مضبوط کر گئی۔
ان کی زندگی ایک ایسی مثال بن گئی جسے ہر ایرانی اور ہر انسان اپنی روح میں محسوس کرتا ہے۔ یہ وہ رہنما ہیں جو ہر امتحان میں کامیاب ہوئے، ہر مشکل گھڑی میں ثابت قدم رہے، اور اپنی قوم کو ان مشکل حالات میں بھی روشنی دکھائی۔ آیت اللہ خامنہ ای نے نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام کو ایک نیا عزم دیا کہ جہاں بھی ظلم اور جبر ہو، وہاں سر جھکانے کے بجائے سینہ سپر ہو کر کھڑا ہونا ضروری ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت میں وہ تمام ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے لبوں پر سکوت طاری کر رکھا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو آیت اللہ کی قیادت اور ان کے اصولوں سے اختلاف کرتے ہوئے بھی، اپنی خاموشی کے ذریعے ان کی قربانی کا انکار کر رہے ہیں۔ ان کی خاموشی ایک سوال بن کر رہ جاتی ہے کہ جب ظلم اور جبر کے خلاف ایک عظیم رہنما اپنی جان قربان کرتا ہے، تو وہ ممالک جو انسانی حقوق اور آزادیوں کی بات کرتے ہیں، کیوں لبوں پر سکوت طاری کر لیتے ہیں؟
ظلم ہوتا دیکھ کر بھی لوگ کیوں خاموش ہیں میں نہیں یہ جانتا با ہوش یا بے ہوش ہیں
یہ شہادت نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے ایک بڑا صدمہ ہے۔ یہ ایسا سانحہ ہے جو تا دیر یاد رکھا جائے گا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت ایک ایسی حادثہ ہے جس نے نہ صرف ایرانی قوم کو زخمی کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا۔ یہ وہ غم ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان کی قربانی، ان کے عزم اور ان کی استقامت کی روشنی نسلوں تک پہنچے گی۔
اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر جارحیت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ جارحیت نہ صرف ایران کے خلاف ہے، بلکہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے خلاف ایک سنگین اقدام ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت اور بے بنیاد الزامات، عالمی امن کے لئے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے، جو ہر ملک کو اپنی خودمختاری اور دفاع کا حق فراہم کرتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی پراکسی وار کو سب سمجھ رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک نے مسلم دنیا کو کمزور کرنے اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے کئی سالوں سے پراکسی جنگوں کا سہارا لیا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف اپنے سیاسی و اقتصادی مفادات کا حصول ہے بلکہ ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل بھی ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل کی اجارہ داری ہو۔ ایران پر حملہ اسی گیم کا حصہ ہے، جہاں امریکا خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔
طاقت ظلم و جبر سے اجارہ داری قائم نہیں کی جا سکتی۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال اور جنگ کی زبان صرف تباہی لاتی ہے، نہ کہ پائیدار امن۔ ایران نے ہمیشہ اپنے دفاع میں جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا حق استعمال کیا ہے، جو ہر ملک کا بنیادی حق ہے۔ عالمی قوانین پر عمل پیرا ہوکر اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنا دنیا کے ہر ملک کا حق ہے۔ اس حق کا دفاع کرنا نہ صرف ایران کا بلکہ ہر اس ملک کا حق ہے جو اپنی خودمختاری کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
یہ شہادت ایک ایسا لمحہ ہے جب عالمی طاقتوں کو جاگنا چاہیے۔ اگر ایران کی حمایت اور اس کی خودمختاری کے لیے واضح موقف اختیار نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک سنگین پیغام ہوگا۔ عالمی طاقتوں کو روس اور چین جیسے ممالک کی طرح مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ عالمی امن کی بنیاد مضبوط رہ سکے۔
یاد رکھیں، کچھ لوگ اپنی زندگی میں ہی تاریخ رقم کر جاتے ہیں، لیکن کچھ وہ ہیں جو اپنی موت سے بھی تاریخ کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شخصیت بھی انہی عظیم رہنماؤں میں شامل ہے، جنہوں نے اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ ان کے لیے کوئی بھی رکاوٹ، کوئی بھی طاقت ان کے عزم کے سامنے کمزور ہے۔
ان کی شہادت صرف ان کی موت نہیں تھی، بلکہ ایک پیغام تھا: "عزم و استقامت، چاہے آپ کتنی بھی مشکلات کا سامنا کریں، ہمیشہ جیت کی ضمانت دیتی ہے۔" اور یہی وہ پیغام ہے جس نے ایران کو ایک نیا عزم دیا، اور جسے تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرے گی۔ |
|