چین، غیر ملکی سیاحوں کی پر کشش منزل

چین، غیر ملکی سیاحوں کی پر کشش منزل
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا میں سیاحت اب صرف تفریح یا سفر تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ عالمی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ بہت سے ممالک غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے ویزا سہولتوں، ٹیکس رعایتوں اور جدید خدمات کے ذریعے اپنے بازاروں کو عالمی خریداروں کے لیے کھول رہے ہیں۔ چین بھی اسی رجحان کے تحت اپنی سیاحتی پالیسی کو نئی سمت دے رہا ہے تاکہ آنے والے غیر ملکی صرف سیاحت ہی نہ کریں بلکہ ملک کے صارفین بازار کا بھی حصہ بنیں۔
اسی مقصد کے تحت چین نے حالیہ برسوں میں متعدد اقدامات کیے ہیں جن کا ہدف غیر ملکی سیاحوں کے لیے خریداری کو آسان، تیز اور پرکشش بنانا ہے، تاکہ چین کو ایک عالمی خریداری مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔
گزشتہ چند برسوں میں چین آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2025 کے دوران 15 کروڑ سے زائد بین الاقوامی سیاح چین آئے اور انہوں نے مجموعی طور پر 130 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ یہ اخراجات گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد زیادہ رہے۔
چین میں جاری قومی پالیسی کے دوران بھی اس رجحان کو مزید فروغ دینے کی حکمتِ عملی پر زور دیا گیا۔ حکومتی منصوبوں میں اس بات کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے خریداری اور کھپت کے ماحول کو بہتر بنایا جائے تاکہ چین عالمی صارفین کے لیے ایک پرکشش بازار بن سکے۔
چین نے سیاحتی اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ویزا پالیسی میں نرمی ہے۔ 2025 تک چین نے 43 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا فری داخلے کی سہولت فراہم کر دی تھی، جس کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے والے مسافر 30 دن تک قیام کر سکتے ہیں اور متعدد بار ملک میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح خریداری کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس ریفنڈ کے نظام میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے ٹیکس واپسی کے لیے کم از کم خریداری کی حد 500 یوان تھی جسے کم کر کے 200 یوان کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ تقریباً 11 فیصد تک ٹیکس ریفنڈ کی سہولت دی جا رہی ہے اور کئی مقامات پر خریداری کے فوراً بعد ٹیکس واپسی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ان اقدامات کے نتیجے میں 2025 کے دوران تقریباً تین کروڑ ویزا فری داخلے ریکارڈ کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی پالیسیوں نے غیر ملکی سیاحوں کو متوجہ کیا ہے۔
غیر ملکی سیاحوں کے لیے خریداری کو آسان بنانے کے لیے ادائیگی کے نظام کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ اب زیادہ تر کاروباری مراکز پر غیر ملکی کریڈٹ کارڈ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح موبائل ادائیگی کے نظام جیسے علی پے اور وی چیٹ پے کو بیرونِ ملک کے کارڈز سے چند منٹ میں منسلک کیا جا سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے مختلف شہروں میں تجرباتی منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں جہاں عالمی معیار کا صارف ماحول تیار کیا جا رہا ہے تاکہ بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کو خریداری، سیاحت اور خدمات کے حوالے سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
جنوبی چین کا صوبہ ہائی نان اس حکمتِ عملی کی نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ڈیوٹی فری خریداری کو فروغ دینے کے لیے ہوائی اڈوں کی توسیع اور جدید تجارتی نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ 2024 میں اس صوبے میں ڈیوٹی فری فروخت 470 ارب یوان تک پہنچ گئی جبکہ 2027 تک اسے 600 ارب یوان تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
گزشتہ برسوں میں چین کی مصنوعات کی عالمی شہرت بھی بڑھ رہی ہے۔ غیر ملکی سیاح اب چین کو صرف سستی مصنوعات کے بازار کے طور پر نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور ثقافتی مصنوعات کے مرکز کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔مثال کے طور پر شین ژن کے الیکٹرانکس بازاروں میں اسمارٹ فونز، ڈرون، ورچوئل ریئلٹی ہیڈ سیٹس اور جدید ڈیجیٹل آلات خریدنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔ اسی طرح ثقافتی مصنوعات جیسے ہاتھ سے بنے زیورات، روایتی فنونِ لطیفہ کی اشیاء اور جدید طرز کی مصنوعات بھی غیر ملکی سیاحوں میں مقبول ہو رہی ہیں۔
چین کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں قدیم ثقافتی روایت اور جدید ٹیکنالوجی ایک ہی جگہ پر نظر آتی ہے۔ ایک طرف روایتی دستکاری کی مصنوعات دستیاب ہیں تو دوسری جانب جدید ڈیجیٹل آلات بھی بڑی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں۔ اسی دوران اسمارٹ فونز، ڈرون، ورچوئل ریئلٹی آلات، ثقافتی مصنوعات اور تخلیقی اشیاء غیر ملکی سیاحوں کے لیے ’’چین کی خاص سوغات‘‘ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔
چین کے بڑے شہروں میں عوامی تحفظ اور جدید انفراسٹرکچر بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ تیز رفتار ریل کا وسیع نیٹ ورک مختلف شہروں کو چند گھنٹوں میں آپس میں جوڑ دیتا ہے جس سے سیاحوں کے لیے سفر اور خریداری دونوں آسان ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح اسپرنگ فیسٹیول جیسے روایتی مواقع بھی اب عالمی سیاحوں کے لیے دلچسپی کا مرکز بن رہے ہیں۔ اس تہوار کے دوران چین میں سرحد پار سفر کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ 77 لاکھ سے زیادہ رہی جبکہ ویزا فری داخلے کے ذریعے آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
چین کی نئی سیاحتی حکمتِ عملی صرف ایک وقتی سیاحتی سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد طویل المدتی صارف تعلقات قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’شاپ اِن چائنا‘‘ جیسے اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں جن کے تحت مختلف شہروں میں سال بھر تقریبات، نمائشیں اور ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ان اقدامات کے ذریعے غیر ملکی سیاحوں کو بار بار چین آنے کی ترغیب دی جائے گی۔ اس میں کثیر لسانی خدمات، ثقافتی سرگرمیاں اور آسان ڈیجیٹل ادائیگی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
عالمی سیاحت کے بدلتے رجحانات کے درمیان چین اپنی پالیسیوں کو اس انداز میں ترتیب دے رہا ہے کہ سیاحت اور خریداری دونوں کو یکجا کیا جا سکے۔ ویزا سہولتوں، جدید ادائیگی کے نظام اور ثقافتی و تجارتی سرگرمیوں کے امتزاج کے ذریعے چین نہ صرف غیر ملکی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے بلکہ انہیں عالمی صارفین میں بھی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ حکمتِ عملی اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو چین مستقبل میں عالمی خریداری کے بڑے مراکز میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1091154 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More