قومی قربانی کا وقت: کیا ریاست بھی مثال بنے گی؟

رات گئے قوم سے خطاب میں وزیراعظم پاکستان نے ایسے اعلانات کیے جنہوں نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سرکاری اخراجات میں کمی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنا، بیرون ملک سرکاری دوروں میں کمی، سرکاری ملازمین سے دو دن کی تنخواہ قومی مقصد کے لیے دینے کی اپیل، اور بعض سرکاری اداروں میں ورک فرام ہوم جبکہ تعلیمی اداروں میں آن لائن نظام متعارف کرانے جیسے فیصلے اس خطاب کا مرکزی حصہ تھے۔ یہ اعلانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان معاشی دباؤ، مہنگائی اور غیر یقینی صورتحال کے دور سے گزر رہا ہے۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کو مشکل حالات کا سامنا ہوا، قوم نے قربانی دینے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ جنگوں کے زمانے ہوں، قدرتی آفات ہوں یا معاشی بحران، پاکستانی عوام نے ہمیشہ اپنے ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے قومی قربانی کی اپیل کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ریاستی نظام میں واقعی وہ سادگی اور کفایت شعاری نظر آئے گی جس کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں سب سے زیادہ زور سرکاری اخراجات کم کرنے پر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے یہ شکایت موجود رہی ہے کہ حکومتی اداروں میں غیر ضروری اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ سرکاری پروٹوکول، مہنگی گاڑیاں، بڑے وفود کے ساتھ غیر ملکی دورے اور مختلف سرکاری تقریبات پر بھاری رقم خرچ ہونا ایک عام روایت بن چکا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت واقعی اخراجات میں کمی کی پالیسی پر سنجیدگی سے عمل کرتی ہے تو یہ نہ صرف قومی خزانے کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ عوام میں اعتماد بھی پیدا کرے گا۔
سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کا استعمال بعض اوقات سرکاری سے زیادہ ذاتی مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ اگر حکومت اس معاملے میں سختی سے پالیسی نافذ کرے تو اس سے نہ صرف اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ایندھن کی بچت بھی ممکن ہوگی۔ موجودہ حالات میں جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پہلے ہی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں، حکومتی سطح پر کفایت شعاری کا عملی مظاہرہ ایک مثبت پیغام دے سکتا ہے۔
وزیراعظم کے خطاب کا ایک اہم حصہ سرکاری ملازمین سے دو دن کی تنخواہ قومی مقصد کے لیے دینے کی اپیل بھی تھا۔ بظاہر یہ اقدام قومی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس پر مختلف آراء بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے اسے مشکل وقت میں ایک ضروری قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پہلے حکمران طبقہ اپنی مراعات اور اخراجات کم کرے، پھر عوام یا سرکاری ملازمین سے قربانی کی توقع رکھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب قیادت خود سادگی کی مثال قائم کرتی ہے تو عوام بھی اس راستے پر چلنے کے لیے زیادہ آمادہ ہوتے ہیں۔
اسی طرح بیرون ملک سرکاری دوروں میں کمی کا اعلان بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ غیر ملکی دورے کبھی کبھار ضرورت سے زیادہ کیے جاتے ہیں اور ان پر قومی خزانے سے بھاری رقم خرچ ہوتی ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ غیر ضروری دوروں کو محدود کیا جائے گا، ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف مالی وسائل کی بچت ہوگی بلکہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ اس وقت حکومت کی توجہ بیرونی تقریبات کے بجائے داخلی مسائل کے حل پر مرکوز ہے۔
تعلیم کے شعبے میں آن لائن اسکولنگ کی تجویز بھی خطاب کا حصہ تھی۔ اگرچہ کورونا وبا کے دوران دنیا بھر میں آن لائن تعلیم کا تجربہ کیا جا چکا ہے، مگر پاکستان جیسے ملک میں اس نظام کو مکمل طور پر نافذ کرنا آسان نہیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے اور بہت سے طلبہ کے پاس آن لائن تعلیم کے لیے درکار وسائل بھی موجود نہیں۔ اس لیے اگر اس نظام کو اپنایا جائے تو اس کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت بھی ہوگی۔
سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کی پالیسی پر غور بھی ایک دلچسپ پہلو ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اب یہ نظام عام ہوتا جا رہا ہے جہاں ملازمین گھروں سے کام کرتے ہوئے بھی مؤثر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ پاکستان میں اگر یہ ماڈل محدود پیمانے پر بھی نافذ کیا جائے تو اس سے ٹریفک کے دباؤ میں کمی، ایندھن کی بچت اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم کے خطاب کا مجموعی پیغام یہی تھا کہ ملک اس وقت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس مرحلے سے نکلنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ قومی بحرانوں کا مقابلہ صرف حکومتی فیصلوں سے نہیں بلکہ اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حکمران طبقہ اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کرے کہ قربانی کا عمل سب سے پہلے وہ خود شروع کر رہا ہے۔
عوام اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ عوام کو یہ یقین دلائے کہ ریاستی وسائل کا استعمال اب واقعی ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
اگر وزیراعظم کے حالیہ اعلانات عملی اقدامات میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ عوام کے اندر اعتماد کی فضا بھی پیدا کریں گے۔ لیکن اگر یہ فیصلے صرف تقاریر تک محدود رہ گئے تو عوامی توقعات ایک بار پھر مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔
پاکستان کے عوام نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے ہر مشکل برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ مگر قوم کی یہ آمادگی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب قیادت خود سادگی، دیانت اور قربانی کی مثال قائم کرے۔ آج پاکستان کو ایسے ہی عملی نمونوں کی ضرورت ہے۔
قوم مشکل فیصلوں سے نہیں گھبراتی، شرط صرف اتنی ہے کہ قربانی کا سفر حکمرانوں کے دروازے سے شروع ہو اور پھر پورے معاشرے تک پہنچے۔ اگر ایسا ہو جائے تو مشکل ترین حالات میں بھی امید کی شمع روشن رہتی ہے۔
 
Sardar Muhammad Shoaib Saifi
About the Author: Sardar Muhammad Shoaib Saifi Read More Articles by Sardar Muhammad Shoaib Saifi: 25 Articles with 4666 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.