چین میں ترقی، جدیدیت اور عوامی طرزِ حکمرانی کا نیا مرحلہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں ترقی، جدیدیت اور عوامی طرزِ حکمرانی کا نیا مرحلہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین کے سالانہ سیاسی کیلنڈر کا سب سے اہم مرحلہ سمجھے جانے والے "دو اجلاس" یعنی قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس، کے سالانہ اجلاس حال ہی میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔ ان اجلاسوں نے نہ صرف آئندہ قومی ترقی کی سمت کا تعین کیا بلکہ چین کی طویل مدتی حکمت عملی، جدیدیت کے سفر اور عوامی طرزِ حکمرانی کے عملی نمونے کو بھی واضح کیا۔ ان اجلاسوں کے دوران متعدد اہم قراردادیں اور قوانین منظور کیے گئے، جن میں حکومتی ورک رپورٹ سے متعلق قرارداد، پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے بارے میں قرارداد، ماحولیاتی ضابطۂ اخلاق، قومی اتحاد و ترقی کے فروغ کا قانون اور قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا قانون شامل ہیں۔ ان فیصلوں نے اس بات کو نمایاں کیا کہ چین اب پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پانچ سالہ منصوبہ بندی کا تصور نہ تو چین کی ایجاد ہے اور نہ ہی یہ صرف چین تک محدود رہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس طرزِ منصوبہ بندی کو سب سے طویل عرصے تک تسلسل کے ساتھ نافذ کرنے اور نمایاں نتائج حاصل کرنے والا ملک چین ہی ہے۔ 1953 میں پہلے پانچ سالہ منصوبے کے آغاز سے لے کر آج پندرہویں پانچ سالہ منصوبے تک، چین نے ایک غیر معمولی سفر طے کیا ہے۔ ایک ایسے ملک سے جو کبھی شدید معاشی پسماندگی کا شکار تھا، چین نے تیز رفتار اقتصادی ترقی اور طویل مدتی سماجی استحکام جیسے دو نمایاں معجزات کو حقیقت میں بدل دیا ہے، اور یوں سوشلسٹ جدیدیت کے جامع ادراک کے لیے مضبوط بنیادیں قائم کی ہیں۔
چین کی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ ترقی تمام مسائل کے حل کی کلید ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں چین اعلیٰ معیار کی ترقی کے راستے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے متعدد اقدامات کرے گا۔ اس سال کی حکومتی ورک رپورٹ میں جدید صنعتی نظام کی تعمیر، ابھرتی ہوئی صنعتوں کو فروغ دینے، مستقبل کی صنعتوں کی پیشگی منصوبہ بندی، تحقیق و ترقی کے اخراجات میں اوسطاً سات فیصد سے زائد سالانہ اضافہ، اور ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی شعبے کی اضافی قدر کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 12.5 فیصد تک پہنچانے جیسے اہم اہداف شامل کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کی معیاری اور پائیدار ترقی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
اسی تناظر میں اس سال کی حکومتی رپورٹ میں پہلی مرتبہ "ذہین معیشت کی نئی شکل کی تشکیل" کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو اب چین کی معیاری ترقی کو تیز کرنے والی ایک بنیادی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں کا امتزاج چین کی اقتصادی و سماجی ترقی میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گا۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں اندرونی طلب کو ترقی کا ایک اسٹریٹجک بنیادی نکتہ قرار دیا گیا ہے تاکہ چین کی وسیع داخلی منڈی کے فوائد کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔ اسی لیے چینی حکومت نے "مضبوط داخلی منڈی کی تعمیر" کو آئندہ برسوں کے لیے اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین عالمی سطح پر کھلے پن کی پالیسی کو مزید وسعت دے گا۔ حکومتی رپورٹ میں خودمختار کھلے پن کو فروغ دینے، دوطرفہ سرمایہ کاری اور تعاون کو وسعت دینے، غیر ملکی تجارت کے استحکام اور ساختی بہتری، اور "بیلٹ اینڈ روڈ" کے اعلیٰ معیار کی تعمیر جیسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جو عالمی تعاون کے لیے چین کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
چین کے یہ سالانہ دو اجلاس صرف پالیسی سازی کا عمل نہیں بلکہ چین کی ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کو سمجھنے کا ایک اہم موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ چین میں اس طرزِ جمہوریت کا دائرہ قومی حکمرانی کے تمام مراحل پر محیط ہے، جن میں انتخابات، مشاورت، فیصلہ سازی، انتظام اور نگرانی شامل ہیں۔ اس نظام کا بنیادی مقصد عوام کو حکمرانی کے مرکز میں رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوام واقعی ریاست کے مالک ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق چین میں پانچوں انتظامی سطحوں پر 2.77 ملین سے زائد عوامی نمائندے موجود ہیں، جن میں تقریباً 95 فیصد نمائندے کاؤنٹی اور ٹاؤن شپ کی سطح سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد فرنٹ لائن کارکنوں، کسانوں اور پیشہ ور تکنیکی ماہرین پر مشتمل ہے، جو عوامی زندگی کے حقیقی مسائل اور ضروریات سے براہ راست واقف ہوتے ہیں۔ یہی نمائندے عوام کی آواز اور مطالبات کو دو اجلاسوں تک پہنچاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں، صنعتوں اور سماجی طبقات کی توقعات اور ضروریات کو مؤثر انداز میں پالیسی سازی کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بنیادی سطح کے عوام کو ریاستی اختیارات کے اعلیٰ اداروں تک رسائی فراہم کرنا دنیا میں ایک نادر مثال ہے۔ مؤثر جمہوریت وہی ہوتی ہے جو حقیقی معنوں میں عوام کے مسائل حل کرے۔ اسی سلسلے میں اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2025 میں چینی حکومت نے قومی عوامی کانگریس کے نمائندوں کی جانب سے پیش کیے گئے 8,754 بلوں اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے مندوبین کی طرف سے پیش کردہ 4,868 تجاویز پر غور کیا اور ان پر عمل درآمد کیا۔ یہ تعداد بالترتیب مجموعی بلوں اور تجاویز کا 95.6 فیصد اور 97.3 فیصد بنتی ہے، اور تمام معاملات کو بروقت مکمل کیا گیا۔ یہی ٹھوس نتائج اور عملی کارکردگی چین کی ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کو وسیع سطح پر پذیرائی دلانے کا سبب بنے ہیں۔
دو اجلاسوں کے کامیاب اختتام کے ساتھ چین اب پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اس نئے مرحلے میں اعلیٰ معیار کی ترقی، سائنسی و تکنیکی جدت، اور ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت مل کر چین کی جدیدیت کے سفر کو مزید توانائی فراہم کریں گے۔ اسی کے ساتھ یہ عمل نہ صرف چین کی داخلی ترقی کو نئی سمت دے گا بلکہ عالمی سطح پر تعاون، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ ترقی کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرے گا۔ |
|