| رات کی گہری خاموشی میں بعض احساسات ایسے جاگتے ہیں جو دن کی روشنی میں کبھی سامنے نہیں آتے۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو چیخ کر بھی بیان نہیں ہوتے، اور کچھ تھکان ایسی جنہیں موت بھی آرام نہیں دے پاتی۔ میرے ہم سخن، کبھی انسان کا دل اتنا بوجھل ہو جاتا ہے کہ وہ جینے اور مرنے کے بیچ پھنس کر رہ جاتا ہے۔ نہ زندگی اپنی لگتی ہے، نہ موت قریب آتی ہے۔ ایک عجیب اذیت، ایک بے نام سی گرفت، جو انسان کو ہر لمحہ تھکا دیتی ہے، مگر ختم نہیں ہونے دیتی۔ یہ کیفیت اُس وقت جنم لیتی ہے جب دکھ معمولی نہ ہو، جب زخم سطحی نہ ہوں، جب مایوسی جسم میں نہیں، روح میں اُتر آئے۔ انسان سوچتا ہے کہ بس اب تھک چکا، اب اس سفر کا اختتام چاہیے، مگر ایسا اختتام جو اس درد کو سمیٹ لے، اس بے بسی کو خاموش کر دے، اور اس دل کی گہرائیوں میں اترے ہوئے زخموں کو ہمیشہ کے لیے بند کر دے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جب انسان سب چھوڑ دینے کو تیار ہو جاتا ہے، تب زندگی اُسے ایک ایسے دھاگے سے باندھ دیتی ہے جو ٹوٹتا نہیں۔ سانس چلتی رہتی ہے، دل دھڑکتا رہتا ہے، اور وجود ایک نہ ختم ہونے والی تھکن میں جھولتا رہتا ہے۔ زندگی کا سب سے بڑا المیہ شاید وہ لمحہ ہے جب انسان جیتے ہوئے بھی مرنے لگتا ہے۔ جسم کے اندر دھڑکنیں موجود رہتی ہیں مگر روح تھک کر گوشۂ تنہائی میں بیٹھ جاتی ہے۔ کوئی دکھ، کوئی رنج، کوئی حادثہ ایسا لگتا ہے جیسے دل کے دروازے پر مسلسل دستک دے رہا ہو، مگر دروازہ کھولنے کی ہمت باقی نہیں رہتی۔ آنکھیں بھیگتی ہیں، سانسیں لرزتی ہیں، اور انسان ایک ایسی قید میں جکڑ جاتا ہے جس سے نجات نہ زندگی دیتی ہے نہ موت۔ ایسا وقت آ جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ دل کا بوجھ جسم کے بوجھ سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔ آدمی چاہتا ہے کہ کہیں دور بھاگ جائے، مگر قدم بوجھل ہو جاتے ہیں۔ چاہتا ہے کہ آنکھیں موند کر ہمیشہ کے لئے سو جائے، مگر نیند بھی اُس کی دشمن بن جاتی ہے۔ ہر سانس ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے سینے میں کوئی پتھر رکھ دیا ہو اور ہر سانس کھینچنا اُس پتھر کو اٹھانے کے مترادف ہو۔ عزیزِ من، یہ کیفیت محض مایوسی نہیں ہوتی، یہ اُس درد کی انتہا ہوتی ہے جو کسی انسان کو اندر سے کھا چکا ہو۔ جب اُمید کا دیا مدھم پڑ جائے، جب خواب خاکستری ہو جائیں، اور جب دل کا بوجھ انسان کے قدم روک دے، تب وہ لمحہ آتا ہے جہاں وجود اس آہ میں سمٹ جاتا ہے کہ بس۔۔۔ اب ختم ہو جائے یہ سب۔ لیکن کیا ہوتا ہے؟ زندگی جینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ موت قریب کھڑی بھی ہو تو ہاتھ نہیں بڑھاتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے زندگی اور موت دونوں نے انسان کو بیچ راہ چھوڑ دیا ہو۔ نہ مکمل جینا نصیب، نہ مکمل مرنا۔ زندگی گزرتی رہتی ہے مگر روح تھک کر رک جاتی ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ سارا جسم چل رہا ہے مگر دل کہیں پیچھے رہ گیا ہے، کسی ٹوٹے ہوئے لمحے میں، کسی پچھتاوے میں، کسی سوال میں جس کا جواب قسمت دینے سے ہمیشہ انکار کرتی ہے۔ ایسے میں موت بھی عجیب سی بن جاتی ہے۔ ایک خواہش، ایک امید، مگر ساتھ ہی ایک خوف۔ انسان جینا تو نہیں چاہتا، مگر مر بھی نہیں سکتا۔ گویا دو دنیاؤں کے بیچ معلق، ایک ایسے وقفے میں قید، جس کا کوئی نام، کوئی حد، کوئی کنارہ نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی روح سے باتیں کرتا ہے، اُسے سمجھاتا ہے، یا شاید اُسے مناتا ہے۔ وہ اپنی تکلیف کو تھپکی دیتا ہے جیسے ماں بچوں کو سلانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ دل سے کہتا ہے: ”چُپ ہو جا، کچھ دیر اور، شاید کوئی روشنی مل جائے، شاید کوئی سبب مل جائے جینے کا۔“ غم کبھی کبھی انسان کے اندر ایسے اتر جاتا ہے جیسے کوئی زہر۔ دھیرے دھیرے، خاموشی سے، اندر تک، دل کی جڑوں تک۔ انسان ظاہر میں مسکراتا ہے مگر حقیقت میں ایک ایسی کشمکش سے گزرتا ہے جس کے نشانات کسی کو نظر نہیں آتے۔ دکھ جتنا اندر ہوتا ہے، الفاظ اتنے باہر آنے سے انکار کرتے ہیں۔ اور جب دل پر پڑنے والے زخم بہت گہرے ہو جائیں، تو انسان کے اندر ایک ایسی خاموش چیخ جنم لیتی ہے جو نہ سنائی دیتی ہے نہ بیان ہوتی ہے۔ ایسے لمحوں میں انسان خود سے لڑتا ہے۔ چاہتا ہے کہ درد ختم ہو جائے، چاہتا ہے کہ دل کا بوجھ اتر جائے، چاہتا ہے کہ وہ لمحے جو دل کو توڑ گئے، بس پلٹ جائیں، مٹ جائیں، یا کم از کم بے اثر ہو جائیں۔ مگر دل کی دنیا بھی عجیب ہے، یہ زخموں کو جتنا دیر سے بھرتی ہے، اتنا ہی وقت گزرتا جاتا ہے اور انسان کے اندر کی کھوکھلاہٹ بڑھتی رہتی ہے۔ میرے ہمسفرِ احساس، ایسے لمحے انسان کو اندر سے بدل دیتے ہیں۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ زندگی کتنی ضدی ہے، کتنی سفّاک، اور کبھی کبھی کتنی بے رحم۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں ہر سانس بوجھ لگتی ہے، ہر لمحہ ایک سوال بن جاتا ہے، اور انسان سوچتا ہے کہ آخر دل اس تکلیف کو کیوں چھوڑ نہیں دیتا؟ آخر آرام کیوں نہیں آتا؟ آخر یہ دکھ کب رخصت ہو گا؟ لیکن تکلیف کا اپنا وقت ہوتا ہے، اپنا زخم، اپنی ضد۔ یہ جب تک دل کی گہرائی میں ہے، انسان کو جیتا ہوا بھی مردہ سا کر دیتی ہے۔ مگر اسی ضد میں ایک عجیب سی حکمت بھی چھپی ہوتی ہے۔ شاید زندگی انسان کو مرنے نہیں دیتی کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ انسان خود کو دوبارہ تلاش کرے۔ شاید وہ چاہتی ہے کہ انسان وہ طاقت پہچانے جو اس کے اندر ابھی تک باقی ہو۔ شاید وہ چاہتی ہے کہ انسان چلتا رہے، بھلے گھسٹتا رہے، مگر رکے نہیں۔ یہ نہ جینا ہے، نہ مرنا؟ یہ ایک جنگ ہے، جو انسان اپنی آخری سانس تک لڑتا رہتا ہے۔ ہر سانس جو نکلنے سے انکار کرتی ہے، وہ ایک پیغام دیتی ہے کہ ابھی کچھ باقی ہے۔ شاید کوئی مقصد، شاید کوئی دعا، یا شاید کوئی ایسا لمحہ جو ابھی مقدر کے سفر میں لکھا نہیں گیا۔ اور اسی نہ ختم ہونے والی تھکن کے باوجود، انسان چلتا رہتا ہے، بس ایک آخری امید کی لکیر پر۔ |