| کبھی کبھی انسان کے دل پر سب سے بھاری بوجھ وہ غلط فہمیاں ہوتی ہیں جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتیں، مگر رویوں کی شکل میں چبھتی رہتی ہیں۔ اور سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب وہ شخص جس پر ہم نے سب سے زیادہ بھروسہ کیا ہو، وہی اپنے دل کی دیواریں ہم سے چھپا کر کسی اور محفل میں ہمارے خلاف باتیں کرنے لگے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اعتماد کا محل، جسے سالوں میں تعمیر کیا تھا، ایک لمحے میں ریت کی طرح بکھر گیا ہو۔ میرے ہم سخن، انسان کی عظمت، اس کے ظرف کا کمال، یہی ہے کہ وہ سنے اور سمجھے۔ اگر کوئی دل میں گِلہ رکھتا ہے تو اُس کا حق ہے، مگر وہ گِلہ دل ہی والے سے کیا جائے، نہ کہ اُن راہوں پر اچھالا جائے جہاں تماشا بنانے والے کھڑے ہوں۔ کبھی سوچا ہے کہ انسان جب اپنے دکھ کو غلط جگہ بیان کرتا ہے تو وہ اپنا حق خود کھو دیتا ہے؟ رشتے کسی سرکس والے کی طرح نہیں جنہیں تماش بینوں کے بیچ پرکھا جائے۔ یہ دلوں کی عدالت ہے، جہاں فیصلہ لفظ نہیں، احساس کرتے ہیں۔ بے شک تجھے حق ہے کہ تُو اپنے دل کے بوجھ کو اتارے، لیکن یہ بوجھ اُسی جگہ اتار جہاں اس کا وزن سمجھا بھی جا سکے اور اٹھایا بھی جا سکے۔ اگر تُو سمجھتا ہے کہ کوئی بات ہم دونوں کے بیچ فاصلہ پیدا کر رہی ہے، تو آ کر بیٹھ، سامنے بیٹھ، میری آنکھوں میں دیکھ کر کہہ، کیوں خفا ہے؟ کیا تیرے دل کو چبھ رہا ہے؟ میں سننے کو تیار ہوں، سمجھنے کو تیار ہوں، اور اگر میں غلط ہوں تو جس حد تک ممکن ہو سکا، بدلنے کو بھی تیار ہوں۔ لیکن مجھے بے بس کر کے زمانے کے قدموں میں مت ڈالو۔ دوسروں کے سامنے شکوہ سنانے سے نہ تو دل ہلکا ہوتا ہے اور نہ ہی حقیقت بدلتی ہے۔ صرف ایک شخص کی عزت مجروح ہوتی ہے، وہ، جو خاموش رہا، جو برداشت کرتا رہا، اور جس نے کبھی چاہا کہ تجھے دکھ نہ پہنچے۔ رشتے دو لوگوں کے ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ بعض لوگ اختلافات کو تیسری دنیا کے سامنے رکھ کر اپنا رشتہ خود ہی کمزور کر دیتے ہیں۔ کبھی سوچا ہے؟ جو شکایتیں دل میں دب رہی ہوں، جو باتیں تمہیں دکھ دیتی ہوں، جو غلط فہمیاں تمہیں سلگاتی ہوں، وہ وہی شخص دور کر سکتا ہے جس سے تمہیں شکایت ہے۔ باہر کے لوگ نہ تمہاری کہانی جانتے ہیں، نہ تمہاری سچائی، وہ تو بس چنگاری کو ہوا دیتے ہیں، آگ کو بھڑکاتے ہیں، اور فاصلے بڑھا کر تماشہ دیکھتے ہیں۔ جان لے، زمانہ کبھی انصاف نہیں کرتا۔ باہر کا ہجوم صرف شور بڑھاتا ہے، حق نہیں۔ وہ سچ نہیں جانتا، وہ دلوں کے اندر نہیں جھانکتا، وہ بس تماشہ دیکھتا ہے۔ اور ہم میں سے کوئی بھی تماشہ بننے کا مستحق نہیں۔ محبت اور اعتماد کے رشتے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں لفظوں کی نہیں، نیتوں کی گونج محسوس ہوتی ہے۔ جو شخص سچ میں دل سے قریب ہو، اُس کی خاموشی بھی بات کرتی ہے اور اُس کی خفگی بھی محسوس ہو جاتی ہے۔ مگر جب وہی شخص کسی اور گوشے میں بیٹھ کر اپنے دل کی تپش دوسروں کو سنانے لگے، تو دل کا زخم صرف دُکھ نہیں دیتا، وہ اپنی حرمت کی دیواروں میں دراڑ پیدا کر دیتا ہے۔ میرے نادیدہ مخاطب، رشتے اُس وقت ختم نہیں ہوتے جب لوگ چھوٹا سا جھگڑا کرتے ہیں، رشتے اُس وقت ٹوٹتے ہیں جب شکایت کے نام پر بے عزتی کی جاتی ہے، اور بات سمجھانے کے بجائے عزت اچھالی جاتی ہے۔ رشتوں میں اختلاف آنا برا نہیں، برا تب ہوتا ہے جب اختلاف کو عزت پر حملہ بنا دیا جائے۔ جب کوئی لفظوں کے ہتھیار سے نہیں، بلکہ زمانے کے کانوں سے وار کرتا ہے۔ جب بات سمجھانے کے بجائے، کہانی بنا کر در و دیوار میں صدا دی جاتی ہے۔ انسان کا ظرف اُس وقت آزمایا جاتا ہے جب اُس کے خلاف بات کی جائے، اور وہ جواب میں فقط خاموش رہ کر بھی اپنے وقار کو نہ گرنے دے۔ مگر یہ بھی سچ ہے، ہر خاموش انسان کمزور نہیں ہوتا، بعض لوگ اپنی زبان سے نہیں، اپنے وقار سے بات کرتے ہیں۔ میرے دوست، اگر دل میں کوئی چبھن ہے، کوئی ناگواری ہے، کوئی شک، کوئی زخم، کوئی گِلہ ہے، تو دروازہ یہیں کھلا ہے۔ آ کر بات کرو۔ دل کے اندر بیٹھ کر مسئلے حل کرو، کسی بزم، کسی محفل، کسی ہجوم کی عدالت میں نہیں۔ کیونکہ رشتے کھلونے نہیں ہوتے جنہیں لوگ توڑ کر پھر جوڑنے کا تماشہ دیکھیں۔ رشتے عبادت کی طرح ہوتے ہیں، خاموش، مقدس، اور بند دروازوں کے اندر نبھائے جانے والے۔ اور یاد رکھو، جس کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہو، اسے خاک میں نہ ملاؤ۔ وہ شخص تمہارے لفظوں سے نہیں، تمہارے رویے سے ٹوٹتا ہے۔ زندگی نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ جو لوگ شکایت کو بات بنا لیتے ہیں، وہ رشتے بچاتے ہیں۔ اور جو شکایت کو تماشا بنا دیتے ہیں، وہ رشتے کھو دیتے ہیں۔ اگر کبھی اختلاف ہو، تو سامنے آ کر بات کرو۔ کیونکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کی گئی گفتگو دلوں کے فاصلے کم کرتی ہے، اور پیچھے بیٹھ کر اچھالی گئی باتیں رشتوں کو بے آبرو کر دیتی ہیں۔ میں نے چھوٹی سی عمر میں کئی موڑ ایسے دیکھے ہیں جہاں چھوٹے سے شکوے نے بڑے رشتے ٹوٹتے دیکھے، اور ایک لمحے کی تلخی نے کئی برسوں کی محبت کو قبر دیتا دیکھا۔ یہاں دل اگر ٹوٹ جائے تو آواز نہیں آتی، بس احساس بدل جاتا ہے۔ اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے درمیان وہ خاموشی اتر آئے جو بعد میں پچھتاوے کا سایہ بن جائے۔ اس لیے، اگر کوئی شکایت ہے تو بات کر۔ سامنے آ کر کہہ۔ شاید کوءی حل نکل آۓ، نہیں بھی آۓ تو بھی بات تو سامنے آ جاے۔ رشتوں کی حرمت باقی رکھو۔ اگر گِلہ ہے تو دروازہ کھٹکھٹا کر کہہ دو، دیوار پر لکھ کر نہیں۔ میری عزت کا بھرم ہی میرا سب سے بڑا لباس ہے۔ اسے داغدار نہ ہونے دے۔ بات کرنی ہے تو میرے دل کے دروازے پر کر، کسی اور کی گلی میں نہیں۔ |