مینگورہ زرعی ریسرچ سنٹر کی کامیابیاں، تجربات اور مستقبل کے امکانات

سوات کا زرعی تحقیقاتی مرکز ملک کا ایک ایسا تحقیقی ادارہ ہے جہاں ماہرین کی ٹیم دن رات نئی اجناس کی تحقیق کیلئے کوشاں رہتے ہیں ، کامیاب تجربات کے نتاظر میں یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں زرعی ضروریات پورا ہونے کیلئے بہترین مواقع فراہم ہوں گے۔
سوات اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز وادیوں، زرخیز زمین اور معتدل موسم کی وجہ سے پاکستان کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں زراعت صدیوں سے مقامی معیشت کا بنیادی ستون رہی ہے۔ یہاں کی زمینیں مختلف اقسام کے پھلوں، سبزیوں اور زرعی اجناس کی کاشت کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی ہے۔ سوات میں پیدا ہونے والے سیب، آڑو، خوبانی، آلو بخارا، ناشپاتی اور دیگر پھل نہ صرف ملک کے مختلف شہروں میں بھیجے جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات بیرون ممالک بھی برآمد کئے جاتے ہیں تاہم بدلتے ہوئے موسمی حالات، بارشوں کے غیر متوازن نظام، درجہ حرارت میں اضافے اور جدید زرعی تقاضوں نے اس بات کو ضروری بنا دیا ہے کہ روایتی کاشت کاری کے ساتھ ساتھ جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کو بھی زراعت کا حصہ بنایا جائے۔
اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے سوات میں قائم زرعی تحقیقاتی مرکز تختہ بند ایک اہم اور منفرد ادارے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ مرکز نہ صرف مقامی سطح پر زراعت کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے بلکہ جدید سائنسی تحقیق کے ذریعے ایسی نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں جن سے مستقبل میں زرعی شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس مرکز میں ہونے والی تحقیق اور تجربات کی بدولت سوات کے کاشت کاروں کو جدید کاشت کاری کے طریقوں سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔تختہ بند زرعی تحقیقاتی مرکز اس وقت سوات میں زرعی تحقیق کا ایک نمایاں اور فعال ادارہ بن چکا ہے جہاں نئی نئی اقسام کے پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی اجناس کو متعارف کرانے کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔ اس ادارے کے سربراہ ڈاکٹر روشن علی اور ان کی ماہرین پر مشتمل ٹیم ریسرچر وسیم بلال اور سینئر ریسرچ آفیسر اویس شنواری موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں جدید زرعی تجربات کر رہے ہیں تاکہ کاشت کاروں کو ایسے طریقے فراہم کیے جا سکیں جو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے زراعت کو کئی نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ نئی اقسام کے بیج، بہتر کھادوں اور جدید آبپاشی نظام کے ذریعے زراعت کو زیادہ مو¿ثر اور پیداواری بنایا جائے۔
ریسرچ سنٹر میں مختلف پھلوں اور سبزیوں کی ایسی اقسام پر تحقیق کی جا رہی ہے جو کم پانی میں بہتر پیداوار دے سکیں اور موسمیاتی تغیرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں جدید طریقوں سے فصلوں کی کاشت کے عملی تجربات بھی کیے جا رہے ہیں۔ ان تجربات کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کون سی فصل کس موسم اور کس قسم کی زمین میں زیادہ بہتر طریقے سے اگائی جا سکتی ہے۔ اس تحقیق کا مقصد صرف سائنسی معلومات تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتائج کو براہ راست کسانوں تک پہنچانا بھی ہے تاکہ وہ عملی طور پر ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ریسرچ سنٹر میں سبزیوں کی مختلف اقسام پر بھی تحقیق جاری ہے جن میں مختلف قسم کی سبزیاں، پھل اور دیگر اجناس شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسان جدید طریقوں سے فصلوں کی کاشت کریں تو نہ صرف مقامی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں بلکہ اس شعبے میں برآمدات کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ریسرچ سنٹر میں جدید گرین ہاو¿س ٹیکنالوجی پر بھی تجربات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسان کم زمین پر زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔
تختہ بند ریسرچ سنٹر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں زرعی پیداوار کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ سوات میں مختلف اقسام کے پھل بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں لیکن اکثر اوقات مارکیٹ تک بروقت رسائی نہ ہونے یا زیادہ پیداوار کی وجہ سے یہ پھل ضائع ہو جاتے ہیں ، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ریسرچ سنٹر میں ایسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کے تحت ضرورت سے زیادہ پیدا ہونے والے پھلوں کو محفوظ بنا کر ان سے مختلف مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
ریسرچ سنٹر میں پھلوں سے جوس، اچار، جیم، مارملیٹ اور دیگر غذائی اشیاءتیار کی جاتی ہیں جنہیں مناسب قیمت پر مارکیٹ میں فراہم کیا جاتا ہے۔ اس اقدام سے ایک طرف پھلوں کے ضیاع میں کمی آ رہی ہے جبکہ دوسری طرف مقامی لوگوں کو معیاری اور سستی غذائی مصنوعات بھی دستیاب ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کے ذریعے مقامی سطح پر چھوٹے پیمانے پر فوڈ پروسیسنگ کی صنعت کو فروغ دینے کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر اس شعبے کو مزید ترقی دی جائے تو سوات میں فوڈ انڈسٹری کا ایک نیا باب شروع ہو سکتا ہے جس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
تختہ بند زرعی تحقیقاتی مرکز کی ایک اور اہم کامیابی پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مصنوعی ذہانت پر مبنی آبپاشی کا نظام متعارف کرانا ہے۔ اس جدید نظام کے ذریعے پودوں اور درختوں کو بروقت اور مناسب مقدار میں پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ عام طور پر روایتی طریقوں میں کسان اندازے سے پانی دیتے ہیں جس کے نتیجے میں بعض اوقات پودوں کو ضرورت سے زیادہ پانی مل جاتا ہے جبکہ بعض اوقات کم پانی ملنے سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام پودوں کی ضروریات کا تجزیہ کر کے خودکار طریقے سے پانی فراہم کرتا ہے جس سے فصلوں کو بہتر نشوونما کے مواقع ملتے ہیں۔ یہ جدید آب رسانی نظام ایک کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک ہے جو زمین کی نمی، درجہ حرارت اور موسمی حالات کا مسلسل جائزہ لیتا ہے اور اسی بنیاد پر آبپاشی کا نظام خودکار طریقے سے فعال ہو جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی بدولت نہ صرف پانی کے ضیاع کو روکا جا رہا ہے بلکہ توانائی کی بچت بھی ممکن ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر متعارف کرایا جائے تو یہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں پانی کے بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں پانی کی کمی بڑھتی جا رہی ہے وہاں یہ نظام مستقبل کی زراعت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ریسرچ سنٹر کی سرگرمیاں صرف تحقیق تک محدود نہیں بلکہ یہاں کسانوں کو تربیت دینے اور انہیں جدید زرعی طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے باقاعدہ آگاہی سیشن بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان سیشنز میں علاقے کے کاشت کاروں کو جدید بیجوں، کھادوں کے درست استعمال، پانی کی بچت، جدید آبپاشی نظام اور فصلوں کی بیماریوں سے بچاو¿ کے طریقوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ کسانوں کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ کم زمین پر زیادہ پیداوار کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور فصلوں کی بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے اخراجات کو کیسے کم کر سکتے ہیں۔ ان تربیتی پروگراموں کے نتیجے میں مقامی کاشت کاروں میں جدید زراعت کے حوالے سے شعور پیدا ہو رہا ہے اور وہ روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید تکنیکوں کو بھی اپنانے لگے ہیں۔
تختہ بند ریسرچ سنٹر تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے بھی ایک عملی تربیتی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ خصوصاً سوات میں قائم زرعی یونیورسٹی کے طلبہ کو یہاں جدید زرعی طریقوں کو قریب سے دیکھنے اور عملی طور پر سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ طلبہ کو ریسرچ سنٹر میںموجود کھیتوں میں عملی تربیت دی جاتی ہے جہاں وہ جدید کاشت کاری، کم جگہ میں زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے عملی طریقے اور فصلوں کی بہتر نگہداشت کے اصول سیکھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق عملی تربیت طلبہ کی تعلیمی زندگی میں نہایت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی تجربہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہی طلبہ مستقبل میں جدید زراعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تختہ بند زرعی تحقیقاتی مرکز خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کا مقصد زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس مرکز میں ہونے والی تحقیق نہ صرف سوات بلکہ پورے صوبے کے کاشت کاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اگر اس ادارے کو مزید وسائل، جدید لیبارٹریاں اور تحقیق کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے جائیں تو اس کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر اس مرکز کو قومی سطح پر دیگر زرعی تحقیقی اداروں کے ساتھ منسلک کیا جائے تو اس کے نتائج زیادہ مو¿ثر انداز میں سامنے آ سکتے ہیں۔زرعی ماہرین کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں زرعی تحقیق کے ادارے کسانوں کی معیشت کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر تختہ بند ریسرچ سنٹر کو بھی اسی طرز پر مزید فعال بنایا جائے تو یہ نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثالی تحقیقی مرکز بن سکتا ہے۔مستقبل میں اگر اس مرکز کی تحقیق کو مزید وسعت دی جائے، جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے اور کسانوں کے ساتھ اس کا رابطہ مزید مضبوط کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ اس سے علاقے کی معیشت بھی مستحکم ہو گی۔ اس طرح تختہ بند زرعی تحقیقاتی مرکز سوات کی زراعت کو ایک نئے دور میں داخل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ 
Fazal khaliq khan
About the Author: Fazal khaliq khan Read More Articles by Fazal khaliq khan: 167 Articles with 141370 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.