چین میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کے فروغ کا روڈ میپ
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کے فروغ کا روڈ میپ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے خاکے میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی کو صرف ایک پالیسی ہدف کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ اس کے حصول کے لیے عملی حکمت عملی بھی متعین کی گئی ہے۔ منصوبے میں ٹیکنالوجی اور صنعتی جدت کے انضمام کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے تاکہ تحقیقاتی اداروں میں ہونے والی سائنسی پیش رفت کو عملی صنعتی پیداوار میں منتقل کیا جا سکے اور حقیقی معیشت کے مختلف شعبوں میں بڑے اقتصادی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مطابق نئی نسل کی انفارمیشن ٹیکنالوجی، نئی توانائی، نئے مواد، ذہین اور باہم مربوط نئی توانائی گاڑیاں، روبوٹکس، بایومیڈیسن، اعلیٰ درجے کے سازوسامان اور ہوا بازی و خلائی صنعت کو اسٹریٹجک ابھرتی ہوئی صنعتوں کے طور پر ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ کوانٹم ٹیکنالوجی، بایومینوفیکچرنگ، ہائیڈروجن اور نیوکلیئر فیوژن توانائی، برین کمپیوٹر انٹرفیس، مجسم مصنوعی ذہانت اور چھٹی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجی کو مستقبل کی صنعتوں کے طور پر فروغ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2030ء تک چین کی ابھرتی ہوئی بنیادی صنعتوں کا مجموعی حجم 10 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر جائے گا، جبکہ جدید سائنسی و تکنیکی شعبے آئندہ دہائی میں ایک نئے وسیع ہائی ٹیک صنعتی نظام کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
منصوبے کے تحت کاروباری اداروں کو جدت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی تجارتی شکل دینے کے عمل میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ حالیہ عرصے میں انسان نما روبوٹس نے مختلف مواقع پر اپنی عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے اور اب انہیں حقیقی صنعتی اور تجارتی ماحول میں استعمال کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔
بیجنگ میں ایک فارمیسی میں حال ہی میں ایک ذہین روبوٹ کو ادویات تلاش کرنے اور درست طریقے سے انہیں حاصل کرنے کے کام کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسی طرح چینی ساختہ ذہین روبوٹس کو گاڑیوں کے کارخانوں میں تربیت دی جا رہی ہے تاکہ صنعتی پیداوار میں کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
اسی سلسلے میں ایک چینی روبوٹکس کمپنی نے حال ہی میں عالمی فضائی صنعت کی ایک بڑی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت انسان نما روبوٹس کو مینوفیکچرنگ سہولیات میں استعمال کیا جائے گا۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ قومی سائنسی و تکنیکی منصوبوں میں کاروباری اداروں کی شرکت کو مزید بڑھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مشترکہ تحقیق کے لیے "اختراعی کنسورشیم" قائم کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
سرکاری اہداف کے مطابق 2026ء سے 2030ء کے دوران چین میں تحقیق و ترقی کے اخراجات میں سالانہ کم از کم سات فیصد اضافہ متوقع ہے۔ موجودہ صورتحال میں تحقیق و ترقی کی سرمایہ کاری کا 77 فیصد سے زیادہ حصہ کاروباری اداروں کی جانب سے فراہم کیا جا رہا ہے، جو عالمی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں سطح تصور کی جاتی ہے۔
حکومت کی جانب سے سائنسی تحقیق کو عملی صنعت سے جوڑنے کے لیے مختلف پائلٹ ٹیسٹنگ پلیٹ فارم قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اطلاق کے لیے مخصوص مراکز بھی شامل ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے تحقیقاتی نتائج کو عملی صنعت میں منتقل کرنے کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق سائنسی جدت کے عمل میں ابتدائی مرحلہ "صفر سے ایک" کی پیش رفت تصور کیا جاتا ہے، جبکہ تجرباتی پلیٹ فارم اس جدت کو مزید عملی شکل دینے میں مدد دیتے ہیں اور کاروباری ادارے اسے وسیع پیمانے پر صنعتی پیداوار میں تبدیل کرتے ہیں۔
اسی دوران روایتی مینوفیکچرنگ شعبے کو ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ذہین کارخانوں کا درجہ بندی پر مبنی نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ 2025ء تک چین میں 35 ہزار سے زائد بنیادی سطح کے، 8200 سے زیادہ ترقی یافتہ سطح کے، 500 سے زائد اعلیٰ معیار کے اور 15 نمایاں ذہین کارخانے قائم کیے جا چکے ہیں۔
بیجنگ کے مضافات میں قائم ایک تربیتی مرکز میں انسان نما روبوٹس کو وی آر اور موشن کیپچر ٹیکنالوجی کے ذریعے گودام کے کام، سامان کی درجہ بندی اور مصنوعات کی پیکنگ جیسے عملی ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے مراکز شنگھائی، ووہان اور ہانگ چو میں بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے سائنسی تحقیق کے لیے قومی فنڈز کا استعمال بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے نیشنل نیچرل سائنس فاؤنڈیشن آف چائنا نے بعض نجی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ فنڈ قائم کیا ہے تاکہ تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔
اسی طرح جدید ٹیکنالوجی کے لیے "سینڈ باکس ریگولیشن" جیسے طریقہ کار کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت نئی ٹیکنالوجیز کو محدود اور کنٹرولڈ ماحول میں آزمایا جاتا ہے تاکہ نئی صنعتوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کو جدید مینوفیکچرنگ، جدید خدمات، ہائی ٹیک شعبوں، سبز توانائی اور ماحولیاتی ٹیکنالوجی کے میدانوں میں راغب کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کثیر القومی کمپنیوں کو چین میں علاقائی ہیڈکوارٹرز اور تحقیقاتی مراکز قائم کرنے کی بھی ترغیب دی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی کمپنیوں نے چین میں سرمایہ کاری کے امکانات کو مثبت قرار دیا ہے اور آئندہ برسوں میں جدید تحقیق، ٹیکنالوجی اور طبی جدت کے شعبوں میں تعاون کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آئندہ پانچ برس چین کی معیشت کے لیے ایک اہم عبوری مرحلہ ہوں گے، جہاں تیز رفتار ترقی سے معیاری ترقی کی طرف منتقلی کو عملی شکل دی جائے گی۔ اس عمل میں سائنسی و تکنیکی جدت کو بنیادی محرک قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف چین کی اقتصادی تبدیلی کو نئی سمت دے گا بلکہ عالمی معیشت میں بھی ترقی کے نئے امکانات پیدا کرے گا۔ |
|