| آپ کی بات ہیرے جتنی قیمتی ہو ،مگر سامنے والے کی سمجھ میچور نہیں تو بات بے فائدہ ہے۔ |
|
ایک صاحب سے ان کے دوست نے پوچھا 'آپ تو وکلا کے خلاف تھے تو اپنے بیٹے کو وکیل کیوں بنا رہے ہیں؟ پہلے والے صاحب نے کہا'میرے بیٹے کو بات بات پر جرح کرنے کی عادت تھی۔ بات نہ ماننے کا خبط تھا اور ہر صورت اپنی منوانا چاہتا تھا۔عجیب و غریب دلائل بھی ڈھونڈ لاتا تھا۔ میں نے سوچا اس کام کے اسکو پیسے ہی کیوں نہ مل جائیں۔
ہمارے ہاں ہر بندہ ہی سیاسی ، معاشرتی ، سماجی، خاندانی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ادھر کوئی ایک لفظ کسی بھی ایشو پر چھیڑ جائے دو لوگ چھڑ جاتے ہیں۔موقع ملنے پر انسان پھٹ پڑنا چاہتا ہے۔دلیل پر دلیل ایسی کہ اب تو ایک دوسرے کو ذلیل کرنے میں بھی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔
اپنا غصہ آج ہم لوگ دوسروں کو punching bag بنا کر ہی نکال رہے ہیں۔ایک بڑا سا بیگ جس کے اندر ریت بھری ہوتی ہے اور اسکو چھت پر لگے ایک کھونٹے سے ٹانگ دیا جاتا ہے۔ پھر مووی کا ہیرو یا ولن اس پر پنچ مار مار کر اپنا غصہ نکال رہا ہوتا ہے۔
حقیقی زندگی میں انسان یہ پنچنگ بیگ بنائے جا رہے ہیں۔
sender + reciever
انسانوں کے درمیان لین دین میں ایک انسان سینڈر یعنی پیغام بھیجنے والا ہوتا ہے۔ یہ ایک سے ذیادہ بھی ہو سکتے ہیں جنکی جانب سے پیغام بھیجاجاتا ہے۔
دوسرا انسان جو سامنے موجود ہے وہ ریسیور کہلاتا ہے۔وہ بھی ایک سے ذیادہ ہو سکتے ہیں۔جو پیغام وصول کرتے ہیں۔
اخبار میں اشتہارات،سوشل میڈیا پر معلومات،ہمسائے کے گھر کا شور سیمینارز اٹینڈ کرنے شوق، سیاسی سماجی تقاریر یہ تمام ہی پیغامات کی مختلف اقسام ہیں۔
پیغام چاہے کسی کی بھی طرف سے ہو اور کسی کے لئے بھی ہو۔ یہ ایک گنجلک چیز ہے۔ پیغام میں ہے کیا؟ کس کے لئے خصوصی طور پر بھیجا گیا یہ سب جاننا ضروری ہوتا ہے۔ مگر ریسیور کے جزبات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔
وہ کس حال حالت سوچ و بچار میں پیغام وصول کرتا ہے یہ بے حد اہم ہے۔ سب سے بڑھ کر آُپ جتنا بھی جانتے ہوں آُپ ہمیشہ ریسیور کے مطابق بات کر بھی لیں تب بھی پھڈا ہو سکتا ہے۔ پیغام کی سنگینی یا ہلکا پن بہت ذیادہ ریسیور کی اپنی سوچ اور اس وقت کے حال سے میچ یا کنٹراسٹ کرتا ہے۔چاہے آپ کتنے ہی اچھے کمیونکیٹر ڈیبیٹر ہوں اپنے آس پاس نظر دوڑائیں میں نے یہ کہا، یوں تو نہیں کہا، مطلب یہ تو نہیں تھا، اَس نے جھوٹ بولا اِس نے ٹھیک سے نہیں بتایا بڑی بڑی باتیں نہ کر، بھڑک نہ مار
اس طرح کی بے شمار تاویلیں بات کو ٹھیک سے نہ سمجھ پانے میں یا پیغام ٹھیک سے نہ پہنچ سکنے میں حائل ہو جاتی ہیں۔
آپ کی بات ہیرے جتنی قیمتی ہو ،مگر سامنے والے کی سمجھ میچور نہیں تو بات بے فائدہ ہے۔
|