عید کا چاند اور اختلاف

عید کا چاند اور اختلاف
(تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان)
۔۔۔۔۔
ہر سال عید کے موقع پر خوشی سے پہلے ایک بحث جنم لیتی ہے، چاند نظر آیا یا نہیں؟ ایک ہی ملک میں مختلف اعلانات، مختلف آراء، مختلف عیدیں اور مختلف دنوں پر عبادات کا آغاز، یہ سب ایک ایسے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں جو محض فلکیاتی نہیں، بلکہ اجتماعی وحدت کا بھی سوال بن چکا ہے۔
اسلام میں مہینوں کا آغاز اگرچہ رویتِ ہلال سے وابستہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ"
ترجمہ: "چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر روزے موقوف کرواور اگر ابر ہو جائے تو تیس دن پورے کر لو۔"
(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1909)
یہ ہدایت اپنے زمانے کے لحاظ سے نہایت سادہ، قابلِ عمل اور اجتماعی نظم کے لیے موزوں تھی۔ اس دور میں نہ فلکیاتی حسابات عام تھے اور نہ ہی عینک و دوربینیں، اس لیے "رویت" کا مفہوم عام آنکھ سے دیکھنے تک محدود تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کے سائنسی دور میں بھی اس مفہوم کو اسی دائرے میں محدود رکھا جائے، یا اس کی روح کو سامنے رکھتے ہوئے بذریعہ اجتہاد اس میں وسعت پیدا کی جائے؟
آج ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں چاند کی پیدائش، اس کا زاویہ، افق پر اس کی پوزیشن اور اس کی رؤیت کے امکانات نہایت درستی کے ساتھ پہلے سے معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات نہ صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ چاند کب پیدا ہوا، بلکہ یہ بھی کہ کہاں اور کس وقت اس کا نظر آنا ممکن ہے یا ناممکن۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ جب ہم عام آنکھ کے ساتھ عینک، عدسے اور دوربین کو قبول کر چکے ہیں، تو پھر جدید فلکیاتی علم کو کیوں نظر انداز کیا جائے؟
اگر رویتِ ہلال کو ایک "شہادت" سمجھا جائے تو آج کا سائنسی علم و آلات اس شہادت کو مزید مضبوط کرنے والا "گواہ" ہے، نہ کہ اس کا متبادل۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہم گواہ کو رد کر کے محض روایت پر اصرار کرتے ہیں، یا روایت کو چھوڑ کر مکمل طور پر سائنس کے حوالے ہو جاتے ہیں۔
یہ معاملہ ایک ایسے مسافر کی مانند ہے جو راستہ معلوم کرنے کے لیے نقشہ بھی رکھتا ہے اور ستاروں کو بھی دیکھتا ہے۔ دانش مندی یہ ہے کہ دونوں کو ساتھ لے کر چلا جائے، نہ کہ ایک کو اختیار کر کے دوسرے کو رد کر دیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ "رویت" کا مقصد یقین حاصل کرنا ہے، نہ کہ طریقہ کار کو جامد بنا دینا۔ اگر عینک و دوربین کے ذریعے دیکھا گیا چاند معتبر ہو سکتا ہے، تو پھر سائنسی حسابات کو مکمل طور پر رد کرنا بھی محلِ نظر ہے۔ اسی طرح اگر محض حسابات پر انحصار کیا جائے اور انسانی شہادت کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ بھی روایت سے انحراف ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف مسلم ممالک نے اس مسئلے کا مختلف حل نکالا ہے۔ بعض ممالک مکمل طور پر فلکیاتی حسابات پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ کچھ ممالک روایتی رویت کو برقرار رکھتے ہوئے سائنسی معلومات کو معاون کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں مختلف آراء اور علاقائی اختلافات موجود ہیں، یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
رویتِ ہلال کو اگر ایک "پُل" سمجھا جائے تو اس کا ایک سرا روایت سے جڑا ہے اور دوسرا سائنس سے۔ اگر ہم اس پل کے کسی ایک حصے کو کمزور کر دیں تو پوری ساخت عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہے۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہلال کمیٹی اور ماہرینِ فلکیات کے درمیان ایک مؤثر اور باقاعدہ ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ فیصلہ سازی کا عمل ایسا ہو جو نہ صرف شرعی تقاضوں کو پورا کرے بلکہ سائنسی حقائق سے بھی ہم آہنگ ہو۔ اس کے لیے ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم درکار ہے جہاں علماء اور سائنس دان ایک دوسرے کی زبان سمجھ سکیں اور ایک متفقہ لائحہ عمل تشکیل دے سکیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امت کی وحدت محض ایک چاند کے اعلان سے وابستہ نہیں، مگر ایسے معاملات میں اختلاف عوامی سطح پر کنفیوژن اور تقسیم کو بڑھاتا ہے۔ ایک ہی ملک میں مختلف عیدیں منانا نہ صرف اجتماعی نظم کو متاثر کرتا ہے بلکہ دین کے ایک سادہ اور خوبصورت پہلو کو بھی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ روایت کو چھوڑا جائے یا سائنس کو اپنایا جائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم دونوں کو اس حکمت کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں جس سے یقین بھی حاصل ہو اور وحدت بھی قائم رہے؟ کیونکہ چاند تو ہر مہینے ایک ہی نکلتا ہے، اختلاف دراصل ہماری نگاہوں میں ہوتا ہے۔
 
Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 66 Articles with 115004 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.