عالمی تناظر میں چین کی جدیدیت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
عالمی تناظر میں چین کی جدیدیت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
موجودہ عالمی حالات میں جہاں اقتصادی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگی اور ترقی کے نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں، وہاں ہر ملک کے لیے ایک واضح اور طویل المدتی ترقیاتی حکمتِ عملی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ چین نے بھی اسی تناظر میں اپنی آئندہ ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کا مقصد نہ صرف داخلی استحکام بلکہ عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرنا بھی ہے۔
اسی پس منظر میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کی منظوری دی گئی ہے، جو ملک کو 2035 تک بنیادی طور پر جدید سوشلسٹ معاشرے کے قیام کے ہدف کی جانب لے جانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔چین اس وقت اپنی معیشت کو نئے مرحلے میں منتقل کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے جہاں روایتی ترقیاتی ماڈل کی جگہ جدید، اختراع پر مبنی اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے نئی پیداواری قوتوں کی ترقی کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ نئی پیداواری قوتیں دراصل جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور صنعتی ترقی کا وہ امتزاج ہیں جو مستقبل کی معیشت کی بنیاد بنتے ہیں۔ چین میں ان قوتوں کو مقامی حالات کے مطابق فروغ دینے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مختلف علاقوں کی صنعتی اور تحقیقی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ روایتی صنعتوں کی جدید خطوط پر تبدیلی اور نئی صنعتوں کے فروغ کو بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ ایک مضبوط اور جدید صنعتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں اعلیٰ معیار کی ترقی کو بنیادی ہدف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ حقیقی معیشت کو مزید مضبوط کیا جائے، جدید صنعتی نظام قائم کیا جائے اور سائنسی و تکنیکی خود انحصاری کو فروغ دیا جائے۔چین میں ڈیجیٹل معیشت، سبز ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ معیشت کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔اسی کے ساتھ اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ قومی سطح پر یکساں مارکیٹ کے قیام، وسائل کی بہتر تقسیم اور نجی شعبے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے جیسے اقدامات اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
چین کو اپنی ترقی کے سفر میں بعض چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ صنعتی تبدیلی کے باعث بعض روایتی شعبوں میں روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں جبکہ آبادی کے بڑھتے ہوئے عمرانی رجحان کے باعث سماجی تحفظ اور عوامی خدمات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ان مسائل کے حل کے لیے چین جامع پالیسی اقدامات کر رہا ہے تاکہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ سکیں اور سماجی استحکام برقرار رہے۔
چین کی جدیدیت کا تصور صرف داخلی ترقی تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک عالمی پہلو بھی ہے۔ چین کا مؤقف ہے کہ اس کی ترقی نہ صرف اپنے عوام کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ عالمی سطح پر مشترکہ ترقی کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔چین کی ترقیاتی حکمتِ عملی میں عالمی تعاون کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کے تحت چین نے عالمی معیشت کے ساتھ اپنے روابط کو مسلسل مضبوط کیا ہے اور مختلف شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا ہے۔
چین اب صرف ایک پیداواری مرکز نہیں بلکہ ایک بڑی مارکیٹ اور اختراع کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ اس کی ترقی عالمی معیشت کے مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، خصوصاً سبز توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے میدان میں۔چین نے عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں جن میں ترقی، سلامتی، تہذیب اور عالمی نظم و نسق سے متعلق انیشی ایٹوز شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دینا ہے جو زیادہ منصفانہ، جامع اور پائیدار ہو۔چین کا مؤقف ہے کہ عالمی ترقی کے لیے تعاون، کھلا پن اور مشترکہ مفادات کو فروغ دینا ضروری ہے، اور اسی سوچ کے تحت وہ عالمی سطح پر ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین کی جدیدیت کے عمل میں ملکی قیادت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں اسی قیادت کے تحت چین نے نہ صرف ایک مضبوط صنعتی نظام قائم کیا بلکہ غربت کے خاتمے، اقتصادی ترقی اور عالمی تجارت میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔آج چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور ایک سو پچاس سے زیادہ ممالک کا اہم تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔ یہ کامیابیاں طویل المدتی منصوبہ بندی اور مسلسل عمل درآمد کا نتیجہ ہیں۔
وسیع تناظر میں ،چین کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک اپنی ترقی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہا ہے جہاں اختراع، اعلیٰ معیار کی ترقی اور عالمی تعاون کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ داخلی اصلاحات اور جدید صنعتی نظام کی تشکیل کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اگر یہ حکمتِ عملی مؤثر انداز میں نافذ ہوتی ہے تو چین نہ صرف اپنی جدیدیت کے اہداف حاصل کر سکتا ہے بلکہ عالمی ترقی میں بھی ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ |
|