چین میں صنعت کا بدلتا ہوا چہرہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں صنعت کا بدلتا ہوا چہرہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں صنعتیں تیزی سے بدل رہی ہیں اور ٹیکنالوجی اس تبدیلی کا مرکزی محرک بن چکی ہے۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت نے پیداوار کے روایتی طریقوں کو چیلنج کرتے ہوئے ایک نئی صنعتی سوچ کو جنم دیا ہے۔ اب کارخانے صرف مشینوں کا مجموعہ نہیں رہے بلکہ ڈیٹا، الگورتھمز اور خودکار نظاموں کا مربوط نیٹ ورک بن چکے ہیں۔
اسی پس منظر میں چین نے بھی اپنی صنعتی ترقی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کو مینوفیکچرنگ کے ہر مرحلے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف پیداوار کو تیز اور مؤثر بنا رہی ہے بلکہ عالمی صنعتی مقابلے میں چین کی پوزیشن کو بھی مضبوط کر رہی ہے۔
چین کے صنعتی مراکز میں اب وہ منظر کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں سینکڑوں مزدور ایک ہی جگہ مصروفِ عمل ہوں۔ اس کی جگہ جدید "اسمارٹ فیکٹریز" نے لے لی ہے جہاں کم روشنی اور کم انسانی موجودگی کے باوجود پیداوار مسلسل جاری رہتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ کارخانوں میں خودکار گاڑیاں خام مال کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں، جبکہ ذہین نظام آرڈرز، پیداوار اور اسٹاک کو بیک وقت کنٹرول کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کام کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ غلطیوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
مصنوعی ذہانت نے مینوفیکچرنگ کے عمل کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ پہلے جہاں مصنوعات کی تیاری میں مہینوں لگ جاتے تھے، اب وہی کام چند دنوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔ جدید سسٹمز ورچوئل ماحول میں سینکڑوں تجربات ایک ہی وقت میں کر کے بہترین نتائج تک پہنچ جاتے ہیں۔
اس تبدیلی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب فیصلے تجربے کی بجائے ڈیٹا کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ایسے حل فراہم کرتی ہے جو انسانی اندازوں سے کہیں زیادہ درست اور مؤثر ہوتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال سے چین کی صنعت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مصنوعات کی تیاری کا دورانیہ کم ہوا ہے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور لاگت میں کمی آئی ہے۔ اس کا براہ راست فائدہ کمپنیوں اور صارفین دونوں کو پہنچ رہا ہے۔اسی کے ساتھ پیداواری منصوبہ بندی بھی آسان ہو گئی ہے۔ جو کام پہلے مختلف شعبوں کے درمیان بار بار مشاورت کے بعد طے ہوتا تھا، اب وہ خودکار نظام چند لمحوں میں تیار کر لیتے ہیں۔
چین نے نہ صرف انفرادی کمپنیوں بلکہ قومی سطح پر بھی مینوفیکچرنگ کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ملک بھر میں ہزاروں اسمارٹ فیکٹریز قائم کی جا چکی ہیں جو مختلف سطحوں پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ایسی پالیسیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جو کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت اپنانے میں مدد فراہم کریں، جیسے مالی سہولیات، ٹیکس میں رعایت اور تکنیکی معاونت۔مختلف صوبے بھی اپنے اپنے انداز میں "اے آئی پلس مینوفیکچرنگ" کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ صنعتی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔
چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں بھی ٹیکنالوجی اور صنعت کے امتزاج کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ تحقیقی اداروں میں ہونے والی جدت کو براہ راست فیکٹریوں تک پہنچایا جائے اور معیشت کے مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔یہ حکمتِ عملی نہ صرف صنعتی ترقی کو فروغ دے گی بلکہ نئی ملازمتوں اور کاروباری مواقع کا بھی سبب بنے گی۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت نے صنعت میں انقلاب برپا کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ صنعتی ماحول میں کام کرنے والے نظاموں کو انتہائی درست اور مستحکم ہونا ضروری ہے کیونکہ کسی بھی غلطی سے پورا پیداواری عمل متاثر ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ لیبارٹری میں تیار کی جانے والی ٹیکنالوجی کو عملی صنعتی ماحول میں نافذ کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے لیے مہنگی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹنگ اخراجات بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ایک اور اہم مسئلہ ہنر مند افرادی قوت کی کمی ہے، خاص طور پر ایسے ماہرین کی جو بیک وقت صنعت اور مصنوعی ذہانت دونوں کی سمجھ رکھتے ہوں۔
حقائق کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ چین میں مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کا امتزاج ایک نئی صنعتی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف پیداوار کے طریقوں کو جدید بنا رہی ہے بلکہ معیشت کو بھی زیادہ مؤثر اور مسابقتی بنا رہی ہے۔ اگرچہ راستے میں کچھ چیلنجز موجود ہیں، لیکن واضح ہے کہ مستقبل کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کا کردار مزید بڑھنے والا ہے اور چین اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ |
|