سوچاں بھرن کلاوے۔۔۔ سماجی مشاہدے کا بہترین عکاس
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
|
سوچاں بھرن کلاوے۔۔۔ سماجی مشاہدے کا بہترین عکاس
تحریر : ناصر راجپوت
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار بلاشبہ اردو اور پنجابی ادب کا ایک معتبر نام ہیں، جن کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ تحقیق و تنقید سے لے کر تخلیقی اصناف تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کا پنجابی کہانیوں کا مجموعہ "سوچاں بھرن کلاوے" ان کی فکری پختگی اور سماجی مشاہدے کا بہترین عکاس ہے۔ اس مجموعے پر سیر حاصل تبصرہ درج ذیل نکات کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے: ۱۔ موضوعاتی تنوع اور سماجی حقیقت نگاری "سوچاں بھرن کلاوے" کی کہانیاں محض تخیلاتی پرواز نہیں بلکہ پنجاب کی مٹی، دیہاتی و شہری معاشرت اور عام آدمی کے دکھ سکھ کی ترجمانی کرتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کہانیوں میں سماجی ناہمواریوں، انسانی نفسیات کے پیچ و خم اور بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کو بڑی بے باکی سے موضوع بنایا ہے۔ ۲۔ علامت اور استعارے کا استعمال مجموعے کے عنوان "سوچاں بھرن کلاوے" سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کہانیاں فکر و دانش کے وسیع کینوس پر محیط ہیں۔ انہوں نے اپنی کہانیوں میں علامت نگاری کا سہارا لے کر گہری بات کو سادہ پیرائے میں بیان کیا ہے۔ ان کے ہاں سوچوں کا "کلاوا" بھرنا دراصل کائنات اور انسانی وجود کے اسرار کو سمجھنے کی ایک شعوری کوشش نظر آتی ہے۔ ۳۔ زبان و بیان کی چاشنی ایک ماہرِ لسانیات اور محقق ہونے کے ناطے، ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے ان کہانیوں میں ٹھیٹھ اور مستند پنجابی زبان استعمال کی ہے۔ ان کا اسلوب بیان سادہ مگر پر اثر ہے۔ مکالموں کی تراش خراش میں انہوں نے کرداروں کی نفسیات اور ان کے سماجی پس منظر کا خاص خیال رکھا ہے، جس سے کہانیوں میں فطری پن پیدا ہو گیا ہے۔ ۴۔ ثقافتی اقدار کا تحفظ ان کہانیوں میں پنجاب کی قدیم ثقافت، لوک ورثہ اور روایتی اقدار کی جھلک نمایاں ہے۔ جہاں ایک طرف وہ جدیدیت کے نام پر ہونے والی اخلاقی تنزلی پر نوحہ کناں نظر آتے ہیں، وہاں دوسری طرف وہ اپنی مٹی سے جڑے رہنے کا درس بھی دیتے ہیں۔ ۵۔ فنی گرفت افسانہ نگاری کے فنی لوازمات یعنی وحدتِ تاثر، تجسس اور انجام پر ان کی گرفت نہایت مضبوط ہے۔ کہانی کا آغاز ہو یا اختتام، قاری خود کو کہانی کے سحر میں جکڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ان کی کہانیاں اختصار کے باوجود اپنے اندر ایک مکمل جہانِ معنی سموئے ہوئے ہیں۔ مختصر یہ کہ: "سوچاں بھرن کلاوے" ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ مجموعہ پنجابی افسانوی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے جو نہ صرف عام قاری کے لیے دلچسپی کا حامل ہے بلکہ پنجابی ادب کے طالب علموں کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اظہار احمد گلزار کی کتاب "سوچاں بھرن کلاوے" بلاشبہ جدید پنجابی افسانوی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ ان کی کہانیاں محض تخیلاتی پرواز نہیں بلکہ پنجاب کی مٹی، دیہی معاشرت اور انسانی نفسیات کی عکاسی کرتی ہیں۔ پنجابی کہانیوں کے حوالے سے ان کے فن کا تجزیاتی مطالعہ درج ذیل اہم نکات کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے: ۱. دیہی زندگی اور ثقافتی جڑیں ڈاکٹر اظہاراحمد گلزار کی کہانیوں کا بنیادی کینوس پنجاب کا دیہی ماحول ہے۔ انہوں نے گاؤں کی زندگی، وہاں کے رسم و رواج، میلوں ٹھیلوں اور کسان کی زندگی کے دکھ سکھ کو بہت مہارت سے بیان کیا ہے۔ ان کے ہاں "دھرتی نال پیار" کا عنصر نمایاں ہے، جو قاری کو اپنی جڑوں سے جوڑتا ہے۔ ۲. نفسیاتی گہرائی اور کردار نگاری ان کے افسانوں کے کردار ہمارے اردگرد کے جیتے جاگتے انسان ہیں۔ وہ صرف ظاہری حالات بیان نہیں کرتے بلکہ کرداروں کی داخلی کشمکش اور نفسیاتی الجھنوں کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ خاص طور پر متوسط طبقے کے مسائل اور ان کے خوابوں کی شکست و ریخت ان کے افسانوں کا اہم موضوع ہے۔ ۳. علامتی اور بیانیہ انداز "سوچاں بھرن کلاوے" میں ڈاکٹر صاحب نے بیانیہ (Narrative) اور علامتی (Symbolic) دونوں اسلوب اپنائے ہیں۔ کہیں وہ سیدھی سادی کہانی سناتے ہیں اور کہیں گہری علامتوں کے ذریعے معاشرتی جبر اور ناانصافی پر چوٹ کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پر اثر ہے۔ ۴. معاشرتی اصلاح کا پہلو ایک کالم نگار اور محقق ہونے کے ناطے ان کی کہانیوں میں مقصدیت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں، جہالت اور طبقاتی فرق کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کی کہانیاں قاری کو محض تفریح فراہم نہیں کرتیں بلکہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ۵. لسانی مہارت (پنجابی محاورہ) ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی پنجابی زبان پر گرفت بہت مضبوط ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیوں میں ٹھیٹ پنجابی محاوروں اور تشبیہات کا استعمال کیا ہے جس سے کہانی کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کی زبان میں وہ مٹھاس اور رچاؤ ہے جو کلاسیکی پنجابی ادب کا خاصہ رہا ہے۔ خلاصہ: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی پنجابی افسانہ نگاری قدیم روایات اور جدید شعور کا ایک خوبصورت سنگم ہے۔ "سوچاں بھرن کلاوے" کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ انسانی جذبوں کے نبض شناس ہیں اور ان کی کہانیاں عالمی سچائیوں کو مقامی رنگ میں پیش کرنے کا فن جانتی ہیں۔ "سوچاں بھرن کلاوے" ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ مجموعہ پنجابی افسانوی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے جو نہ صرف عام قاری کے لیے دلچسپی کا حامل ہے بلکہ پنجابی ادب کے طالب علموں کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے |
|