دوامِ گفتگو الفاظ انسانی اذہان، جذبات اور عقائد کا مکمل احاطہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ گفتگو کے دوران کہیں نہ کہیں لفظوں کے انتخاب میں کمی رہ جاتی ہے، اسی لیے شعرا اور عشاق استعاروں اور کنایوں کے سہارے اپنی داخلی دنیا کو بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر عام گفتگو پر گہری نظر ڈالی جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس میں نہ قواعد و ضوابط کی پاسداری ہوتی ہے اور نہ ہی الفاظ جذبات کا صحیح بوجھ اٹھا پاتے ہیں۔ خوشی اور غم کی کیفیات میں منہ سے نکلنے والے الفاظ پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ صرف رونگٹے ہی نہیں، قبر کے مردے بھی کھڑے ہو جائیں۔ عام گفتگو میں گالم گلوچ، خصوصاً ماں بہن سے متعلق الفاظ کے بغیر نہ تو آدمی کو سکون ملتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے جذبات کا اظہار مکمل سمجھتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص میدان میں چھکا مار دے تو تماشائی جذبات میں گالیوں کے ساتھ اس کی پذیرائی کرتے ہیں۔ مذاق مذاق میں ایسی ایسی گالیاں زبان پر آ جاتی ہیں کہ اگر ان کے لفظی معنی کی طرف جایا جائے تو شاید ایک معرکہ کھڑا ہو جائے۔ بلتستان کے تناظر میں نلو، بہنت، گاو، مادر* ڑگا جیسے الفاظ حوصلہ افزائی اور قربت کے اظہار کے لیے بولے جاتے ہیں۔ یوں مذاق اور جگت کا آغاز جسمانی اعضا سے ہوتا ہے، پھر مردانہ و زنانہ کمزوریوں اور قوتوں تک جا پہنچتا ہے۔ گفتگو کے یہ عجیب و غریب اور اکثر جاہلانہ رویے مردوں کے تقریباً ہر طبقے میں رائج ہیں، تاہم عورتوں کی باہمی گفتگو کی نوعیت اس سے کس حد تک مختلف ہوتی ہے، اس پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔ گفتگو کے دوران انسان فطری یا عادتاً کچھ مخصوص الفاظ یا جملے بار بار استعمال کرتا ہے، جنہیں تکیۂ کلام کہا جاتا ہے۔ کوئی بار بار “مطلب، مطلب” کہتا ہے، کسی کو “اللہ آپ کا بھلا کرے” کہنے کی عادت ہوتی ہے، تو کوئی گالیوں کے بغیر بات مکمل ہی نہیں کر پاتا۔ یہ تکیۂ کلام نہ صرف بولنے والے کی ذہنی ساخت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے سماجی پس منظر اور جذباتی کیفیت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ گفتگو میں اعداد و شمار کا کوئی باقاعدہ پیمانہ نہیں ہوتا، کیونکہ انسان ایک موضوع سے دوسرے، پھر بے شمار موضوعات پر بہتے پانی کی طرح گفتگو کرتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام گفتگو اور تحقیقی مقالے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ عام گفتگو میں Discourse Markers کا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے، مثلاً Aggregation، جس کے تحت لوگ عمومی اور غیر متعین الفاظ کے ذریعے بات کو آگے بڑھاتے ہیں، جیسے: عام طور پر، اکثر لوگ، ہم لوگ، دوسرے لوگ، کچھ لوگ، اکثر و بیشتر، غالباً، شاذ و نادر، تقریباً، عنقریب، زیادہ تر لوگ، ہماری عوام، ہماری قوم، ہم۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی غیر متعین اور مبہم الفاظ گفتگو کو سہل بھی بنا دیتے ہیں اور خطرناک بھی۔ سہل اس لیے کہ بولنے والا ذمہ داری سے بچ نکلتا ہے، اور خطرناک اس لیے کہ یہی الفاظ رائے عامہ کو گمراہ کرنے، تعصب کو ہوا دینے اور اجتماعی سوچ کو ایک مخصوص رخ پر موڑنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ “ہم لوگ” اور “ہماری قوم” جیسے الفاظ سننے میں تو وحدت کا تاثر دیتے ہیں، مگر اکثر ان کے پیچھے ذاتی رائے، محدود تجربہ یا وقتی جذبات چھپے ہوتے ہیں۔ زبان دراصل صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت کا ایک ہتھیار بھی ہے۔ گفتگو کے یہ روزمرہ انداز، گالیاں، تکیۂ کلام اور مبہم Discourse Markers مل کر ہمارے سماجی شعور کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر انسان اپنے الفاظ کے انتخاب میں ذرا سا شعور اور ذمہ داری شامل کر لے تو عام گفتگو بھی فکری بالیدگی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہی گفتگو ذہنی انتشار، اخلاقی زوال اور سماجی بے حسی کو دوام دیتی رہے گی۔ |