فیصل آباد کا ادبی انسائیکلوپیڈیا ۔۔ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ادبی و علمی شخصیت پر مبنی ایک جامع اور معلوماتی انٹرویو ​ادبی انٹرویو: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ۔۔ ​ روبرو : پروفیسر ریاض احمد قادری

فیصل آباد کا ادبی انسائیکلوپیڈیا ۔۔ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ادبی و علمی شخصیت پر مبنی ایک جامع اور معلوماتی انٹرویو

​ادبی انٹرویو: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

روبرو : پروفیسر ریاض احمد قادری

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار عصرِ حاضر کے ان معدودے چند قلم کاروں میں سے ہیں جنہوں نے تحقیق، تنقید، اور تخلیق کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ فیصل آباد کی ادبی زرخیزی کو دستاویزی شکل دینے سے لے کر سیرت نگاری کے نازک موضوع تک، ان کا سفر انتھک محنت اور علمی دیانت کا عکاس ہے۔
​ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد، رانا محمد گلزار خان کپور تھلوی، خود ایک صاحبِ طرز کالم نگار اور افسانہ نگار تھے۔ اسی علمی ماحول نے ڈاکٹر اظہار کی شخصیت کی آبیاری کی اور انہیں کم عمری ہی میں قرطاس و قلم سے جوڑ دیا۔ وہ نہ صرف ایک پی ایچ ڈی اسکالر ہیں بلکہ اردو، پنجابی، سیاسیات اور اسلامیات جیسے متنوع مضامین میں ماسٹرز کی ڈگریاں بھی رکھتے ہیں، جو ان کے وسیع علمی کینوس کا ثبوت ہے۔
​تحقیق اور تنقید: فیصل آباد کی ادبی تاریخ
​ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ "فیصل آباد کی ادبی تاریخ" ہے۔ 600 صفحات پر مشتمل یہ ضخیم مقالہ محض ایک ڈگری کی ضرورت نہیں بلکہ فیصل آباد (لائل پور) کے سو سالہ ادبی سفر کی ایک جامع دستاویز ہے۔ انہوں نے اس خطے کے گمنام ادیبوں، شاعروں اور ادبی تنظیموں کو تاریخ کے اوراق میں محفوظ کر کے آنے والی نسلوں پر احسان کیا ہے۔
​سیرت نگاری اور مذہبی ہم آہنگی
​سیرت النبی ﷺ ان کا خاص موضوع ہے۔ ان کی تصنیف "سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے" ایک منفرد تحقیقی کاوش ہے جس میں انہوں نے غیر مسلم شعراء (ہندو، سکھ، مسیحی) کے نعتیہ کلام کو یکجا کیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ان کی حضور ﷺ سے عقیدت کا اظہار ہے بلکہ عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی اور اردو نعت کے آفاقی اثرات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
​افسانہ نگاری اور کالم نگاری
​افسانہ نگاری میں ان کا پنجابی مجموعہ "سوچاں بھرن کلاوے" سماجی مسائل اور انسانی نفسیات کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ ایک کالم نگار کی حیثیت سے وہ گزشتہ چار دہائیوں سے مختلف قومی اخبارات (روزنامہ امن، ملت، لہریں وغیرہ) میں سیاسی، سماجی اور ادبی موضوعات پر خامہ فرسائی کر رہے ہیں۔ ان کے کالموں میں تنقید کا عنصر اصلاحی ہوتا ہے، جو معاشرے کے ناسوروں کی نشاندہی نہایت سلیقے سے کرتے ہیں۔
​ادبی خدمات اور اعزازات
​پاکستان رائٹرز گلڈ پنجاب کے ایگزیکٹو ممبر اور مختلف ادبی جرائد کے بیورو چیف کی حیثیت سے انہوں نے نو آموز ادیبوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، جو ان کی انتھک محنت کا ثمر ہیں۔
​ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شخصیت کثیر الجہات ہے۔ وہ ایک محقق کی حیثیت سے گہرائی رکھتے ہیں، ایک نقاد کی حیثیت سے بصیرت، اور ایک تخلیق کار کی حیثیت سے دردِ دل۔ ان کا قلم چار دہائیوں سے مسلسل متحرک ہے
​ڈاکٹر اظہار احمد گلزار اردو ادب کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے تحقیق، تنقید، افسانہ نگاری، کالم نگاری اور سیرت نگاری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ فیصل آباد کی ادبی تاریخ کو دستاویزی شکل دینے سے لے کر غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی تک، آپ کا کام وسعت اور گہرائی کا حامل ہے۔
​سوالنامہ (انٹرویو ..روبرو ، ریاض احمد قادری )

​سوال 1: آپ کا تعلق ایک علمی گھرانے سے ہے، اپنے خاندانی پس منظر اور ان شخصیات کے بارے میں بتائیں جنہوں نے آپ کی ادبی آبیاری کی؟

​جواب: میرے گھر کا ماحول شروع سے ہی علمی و ادبی تھا۔ میرے والد محترم، رانا محمد گلزار خان کپور تھلوی، خود ایک بلند پایہ کالم نگار اور افسانہ نگار تھے۔ ان کی صحبت نے میرے اندر ادب کا بیج بویا۔ اس کے علاوہ میرے تایا، نور محمد نور کپور تھلوی، اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر تھے، جن کی ادبی سرگرمیوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔میرے والد گرامی ​رانا محمد گلزار خان کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اردو و پنجابی ادب کی آبیاری میں صرف کیا۔ وہ ایک بلند پایہ کالم نگار اور افسانہ نگار تھے، جن کے کام میں معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات کی گہرائی بھی نمایاں رہی۔
​​رانا محمد گلزار خان کپور تھلوی کی ادبی زندگی ایک ایسی شمع کی مانند تھی جس نے نہ صرف علم و ادب کو روشنی بخشی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق اور تخلیق کے نئے راستے بھی کھولے۔ ان کا فن اپنے اندر ایک خاص وقار اور متانت رکھتا ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے۔
انہی کے فن کو پڑھ کر اور انہی کی تربیت میں رہ کر میں نے قرطاس و قلم سے اپنا رشتہ جوڑا ۔

​سوال 2: آپ نے لکھنے کا آغاز کب کیا اور وہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے آپ کو قلم اٹھانے پر مجبور کیا؟

​جواب: ادب کی طرف میلان بچپن سے ہی تھا، لیکن باقاعدہ لکھنے کا آغاز طالب علمی کے دور سے ہوا۔ اپنے بزرگوں کے علمی کاموں کو دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوا کہ معاشرے کی اصلاح اور تاریخ کے تحفظ کے لیے قلم ہی بہترین ذریعہ ہے۔ خاص طور پر اپنے علاقے (فیصل آباد) کے ادبی ورثے کو محفوظ کرنے کی تڑپ نے مجھے تحقیق کی طرف راغب کیا۔

​سوال 3: آپ "کثیر الجہت" ادیب کہلاتے ہیں، آپ نے کن کن اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی ہے؟

​جواب: میں نے ادب کی مختلف اصناف میں کام کیا ہے، جن میں شامل ہیں:
​تحقیق و تنقید: فیصل آباد کی ادبی تاریخ پر میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ (600 صفحات) ایک اہم دستاویز ہے۔
​سیرت نگاری و نعت: میری کتاب "سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے" غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی پر ایک منفرد کام ہے۔
​افسانہ و انشائیہ: انسانی رویوں اور معاشرتی مسائل کو افسانوی رنگ دیا ہے۔
​کالم نگاری: روزنامہ "امن" اور "ملت" سمیت مختلف جرائد میں عصری مسائل پر لکھا۔

​سوال 4: آپ کی تحریروں میں زبان و بیان کا تنوع ملتا ہے، آپ نے اب تک کن زبانوں میں تخلیقی کام کیا ہے؟

​جواب: بنیادی طور پر میری پہچان اردو زبان سے ہے، جس میں میرا زیادہ تر تحقیقی اور کالم نگاری کا کام موجود ہے۔ تاہم، اپنی مادری زبان پنجابی سے میرا گہرا لگاؤ ہے، جس کا ثبوت میرا پنجابی افسانوی مجموعہ "سوچاں بھرن کلاوے" ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو بات انسان اپنی مادری زبان میں کہہ سکتا ہے، وہ اثر کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں۔

​سوال 5: آپ کی نظر میں ایک محقق اور ادیب کی سب سے بڑی ذمہ داری کیا ہے؟

​جواب ادیب معاشرے کا حساس ترین فرد ہوتا ہے۔ میری نظر میں تحقیق کا مقصد صرف حقائق جمع کرنا نہیں بلکہ گمشدہ تاریخ کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا ہے۔ دیانت داری اور غیر جانبداری ایک ادیب کا اصل زیور ہے۔

سوال 6: آج کے پرفتن دور میں، جہاں نفسا نفسی کا عالم ہے، ایک سچے ادیب کی بنیادی صفت کیا ہونی چاہیے؟
​جواب: آج کے ادیب کو محض لفظوں کا جادوگر نہیں بلکہ ایک حساس "نبض شناس" ہونا چاہیے۔ اسے اپنے عہد کے دکھوں کو نہ صرف محسوس کرنا چاہیے بلکہ انہیں دیانتداری سے بیان بھی کرنا چاہیے۔ ایک ادیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعصبات سے بلند ہو کر انسانیت کی بات کرے۔ اگر اس کے قلم میں سچائی اور فکر میں گہرائی نہیں، تو وہ سماج کی اصلاح کا فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔ اسے اپنے ماضی سے جڑا ہونا چاہیے لیکن اس کی نظریں مستقبل کے چیلنجز پر ہونی چاہئیں۔

​سوال7: ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور اخلاقی گراوٹ کو روکنے کے لیے ادیب کیا عملی قدم اٹھا سکتا ہے؟

​جواب: معاشرتی مسائل کا خاتمہ ڈنڈے سے نہیں بلکہ "فکر" کی تبدیلی سے ممکن ہے۔ ادیب کا فرض ہے کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے:
​امن اور رواداری کی تبلیغ کرے۔ جیسا کہ غیر مسلم نعت گو شعرا پر کام کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
​نئی نسل کی تربیت: ادیب کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی سطحی دنیا سے نکال کر کتاب اور مطالعے کی طرف واپس لائے۔
​کردار سازی: ادب کو محض تفریح کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے اخلاقی اقدار کی بحالی کا آلہ بنانا چاہیے۔ جب معاشرے میں ادب زندہ ہوتا ہے، تو درندگی خود بخود دم توڑ دیتی ہے۔

​سوال8: کیا آج کا ادیب معاشی مسائل اور ڈیجیٹل دور کے دباؤ میں اپنا حقیقی نقش چھوڑ پا رہا ہے؟

​جواب: یہ سچ ہے کہ آج کا ادیب معاشی چکی میں پس رہا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بہترین ادب ہمیشہ کٹھن حالات ہی میں تخلیق ہوا۔ ڈیجیٹل دور کو خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک "موقع" کے طور پر لینا چاہیے۔ ادیب کو چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے اپنی فکر کو عالمی سطح تک پہنچائے۔ قلم کی حرمت برقرار رکھنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

​سوال9: فیصل آباد جیسے صنعتی شہر کی ادبی تاریخ لکھنے کے بعد، آپ کے خیال میں مقامی سطح پر ادیبوں کو کن مسائل کا سامنا ہے؟

​جواب: کسی بھی شہر کی ادبی تاریخ مرتب کرنا دراصل اس کی روح کو محفوظ کرنا ہے۔ مقامی سطح پر سب سے بڑا مسئلہ "گروہ بندی" اور "پذیرائی کا فقدان" ہے۔ جب تک ہم اپنے سینئرز کی خدمات کا اعتراف نہیں کریں گے اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے، تب تک ایک مضبوط علمی معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا۔ ادیب کو درباروں سے دور رہ کر عام آدمی کے دکھ کو زبان دینی چاہیے۔
​آج کے ادیب کا فرض ہے کہ وہ مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ روشن کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ ادب کو صرف "آرٹ" نہ سمجھے بلکہ اسے "زندگی" کی بقا کا ضامن بنائے۔

سوال10 : عہد حاضر میں کس قسم کے افسانے تخلیق ہونے چاہیے ؟

جواب : افسانہ نگاری در اصل مادیت کے خلاف مزاحمت کا نام ہے ۔
​آج کا دور "مادیت پرستی" کا دور ہے جہاں انسانی رشتے اور جذبات ثانوی ہو چکے ہیں۔ ایک افسانہ نگار کو محض خیالی دنیا بسانے کے بجائے درج ذیل پہلوؤں پر توجہ دینی چاہیے:
​روحانیت اور اقدار کا احیا: افسانہ نگار کو ایسے کردار تخلیق کرنے چاہئیں جو نفسا نفسی کے اس عالم میں ایثار، محبت اور اخلاقی پختگی کی علامت ہوں۔
​معاشرتی کرب کی عکاسی: اج کے افسانے کو عام آدمی کی اس ذہنی تکلیف کو زبان دینی چاہیے جو اسے مادیت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے یا انسانیت کے گرتے ہوئے معیار سے ہوتی ہے۔
​امید کا پیغام: مایوسی کے اس دور میں افسانہ نگار کا کام اندھیروں کا رونا ' رونا نہیں، بلکہ معاشرے میں موجود مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ قاری کے اندر جینے کی امنگ پیدا ہو۔

ڈاکٹر صاحب : سیرت نگاری کے حوالے سے اپ کی تصنیف " فخر کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے
ایک سیرت نگار کو سیرت نگاری کے میدان میں کن پہلوؤں کو ملحوظ خط رکھنا چاہیے ؟

جواب : ​سیرت نگاری چونکہ عشق سے عمل کی طرف سفر کا نام ہے ۔
​آپ نے بالکل درست سوال کیا کہ سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے محض عقیدت کافی نہیں بلکہ اسے عشق و عقیدت کے ساتھ باقاعدہ "سیرت نگاری" کے فن کے طور پر اپنانے کی ضرورت ہے:
سیرت اور نعت کے میدان میں نئے گوشے تلاش کرنے چاہئیں۔
​اسوہ حسنہ کا اطلاق: آج کی سیرت نگاری میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حضور ﷺ کی زندگی کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جائے جو دورِ حاضر کے سماجی اور معاشی مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔
​عقیدت اور شعور کا سنگم: تحریر میں صرف جذباتی وابستگی نہ ہو بلکہ دلیل اور منطق کے ساتھ سیرت طیبہ کو جدید ذہن کے لیے مشعلِ راہ بنایا جائے۔
سوال 11: ڈاکٹر صاحب اپ نے ایک طویل عرصہ مختلف اخبارات میں کالم نگاریکہ میدان میں خامہ فرسائی کی ہے ، ایک کالم نگارکو کیسے کالم لکھنے چاہیے ؟
جواب : در اصل ​کالم نگاری: عصری مسائل اور شعور کی بیداری کا نام ہے ۔​آج کی کالم نگاری میں سطحی پن کے بجائے گہرائی اور عوامی مسائل کا احاطہ ضروری ہے:
​مسائل کا دیانتدارانہ تجزیہ: ایک کالم نگار کو معاشرے کی "تفریق" اور طبقاتی کشمکش کو ختم کرنے کے لیے پل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
کالم نگاری صرف خبروں پر تبصرہ نہ ہو، بلکہ اس میں علمی بصیرت اور فکری رہنمائی شامل ہونی چاہیے تاکہ قاری کی ذہنی تربیت ہو سکے۔

​ڈاکٹر اظہار احمد گلزار صاحب آپ نے جس طرح فیصل آباد کی ادبی تاریخ کو محفوظ کیا، اسی طرح کالم نگاروں کو اپنے گردوپیش کے مسائل، مقامی ثقافت اور گمشدہ ہیروز کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا وہ قابل ستائش ہے

سوال 12: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار صاحب یہ بتائیں کہ غیر مسلم شعراء کے نعتیہ کلام پر تحقیق کا خیال اپ کے ذہن میں کیسے آیا ؟

جواب : آپ جانتے ہیں کہ اردو ادب میں نعت گوئی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود اردو شاعری۔ تاہم، مشاہدے میں یہ بات آئی کہ نعت کو عموماً صرف ایک مذہبی صنف کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ یہ ایک ایسی آفاقی صنف ہے جس نے عقیدت کی بنیاد پر مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک مرکز پر جمع کیا ہے۔
​تلاشِ حق اور عقیدت: میں نے محسوس کیا کہ ہندو، سکھ، مسیحی اور دیگر غیر مسلم شعراء نے جس والہانہ انداز میں رسولِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے، وہ اردو ادب کا ایک روشن باب ہے جسے ابھی مزید اجاگر کرنے کی ضرورت تھی۔
​ادبی خلا کا احساس: میں نے یہ محسوس کیا کہ کہ غیر مسلموں کی نعت گوئی پر منتشر کام تو موجود تھا، مگر ایک جامع تحقیقی دستاویز کی کمی تھی جو میری کتاب "سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے" کی صورت میں سامنے آئی۔
​بین المذاہب ہم آہنگی کا تصور
​اس تحقیق کے پیچھے ایک بڑا مقصد معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو کم کرنا اور مذاہب کے درمیان مکالمے کی فضا قائم کرنا تھا۔
​نعت بطورِ پل (Bridge): نعت محض شاعری نہیں بلکہ ایک ایسا "پل" ہے جو مختلف عقائد رکھنے والے انسانوں کو محبتِ رسول ﷺ کے ذریعے ایک لڑی میں پروتا ہے۔ جب ایک غیر مسلم شاعر کہتا ہے:
​"عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں،
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں"

تو یہ پیغام براہِ راست فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کی نفی کرتا ہے۔
​مشترکہ تہذیبی ورثہ: میرا خیال ہے کہ جب ہم غیر مسلم شعراء کے کلام کو پڑھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ انسانیت، امن اور انصاف کے حوالے سے تمام مذاہب کے شعراء ایک ہی مرکز پر متفق ہیں۔ یہ "سانجھا ورثہ" ہی بین المذاہب ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔

​عقیدت کی بے ساختگی: میں نے یہ محسوس کیا کہ غیر مسلم شعراء نے نعت کسی دباؤ یا رسمی ضرورت کے تحت نہیں لکھی، بلکہ یہ ان کے قلبی لگاؤ اور حضور ﷺ کی سیرتِ مبارکہ سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔
​سیرت کا آفاقی پیغام: تحقیق کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ غیر مسلموں نے حضور ﷺ کو صرف مسلمانوں کے نبی کے طور پر نہیں بلکہ "رحمت اللعالمین" اور ایک عظیم مصلحِ انسانیت کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
​علمی و ادبی خدمت: میرا یہ ماننا ہے کہ ایسی تحقیق سے بین الاقوامی سطح پر اسلام کا پرامن اور محبت بھرا تشخص ابھرتا ہے، جو کہ آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔

سوال 13؛ ڈاکٹر صاحب اپ یہ بتائیں کہ نعت نگاری ایک مضبوط صنف سخن ہے اس حوالے سے عہد حاضر میں کتنا کام ہو رہا ہے اور کیا ہونا ضروری ہے ؟

نعت شریف شعرو ادب کی وہ پاکیزہ صنف ہے جس میں حضور سید المرسلین خاتم النبیین،حضرت رسول اکرم کی تعریف و توصیف کا بیان ہوتا ہے ، یہ وہ صنف سخن ہے جس کا سلسلہ ازل سے جاری ہوا اور ابد تک برابر جاری رہے گا،یوں تو نعت کے لیے کسی موضوع اور کسی مضمون کی قید نہیں۔سیرت طیبہ کا ہر پہلو نعت کا عنوان ہے مگر ایک اعلی پائے کی نعت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عشق رسول ، شان رسول ،حب رسول ، آداب رسول اور احترام رسول صل اللہ‎ علیہ وآلہ وسلم کی آئینہ دار ہو ، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ‎ عنه جو ایک محترم صحابی رسول صل اللہ‎ علیہ وآلہ وسلم ہیں ،نعت گوئی میں امامت کا درجہ رکھتے ہیں۔آپ کے نعتیہ قصائد اسلامی ادب کا ایک بیش قیمت اثاثہ ہیں۔آپ کے بعد نعت گو شاعروں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اپنے اپنے دور میں یہ مقدس فریضہ سر انجام دیتا رہا۔
ہر مسلمان شاعر نے جزو ایمان سمجھتے ہوۓ اس صنف سخن کو اپنایا ۔اس کے ساتھ ہی غیر مسلم شعراءکی ایک کثیر تعداد نے بھی پیغبر اعظم و آخر حضور پرنور صل اللہ‎ علیہ وآلہ وسلم کے حضور عقیدت و محبّت کے بھر پور پھول نچھاور کیے۔ان غیر مسلم شعراء کے ہاں بھی جوش و جذبے اور خلوص و الفت کی وہ فراوانی ہے کہ ان کی نعت کا مطالعہ کرتے ہوۓ دل و دماغ متاثر ہوۓ بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔*سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے ﷺ* کو میں نے بڑی محنت ، جانفشانی و جاں سپاری کے جذبے سے سرشار ہو کر غیر مسلم شعراء کے ان بکھرے ہوۓ نعتیہ پھولوں کو یکجا کر کے ایک خوبصورت ایمان افروز گلدستہ تیار کر کے جان نثاران نعت کے قلوب و اذہان کی راحت و انبساط کا سامان بہم پہنچایا ہے۔"

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی علمی و ادبی شخصیت اور بالخصوص سیرت نگاری و نعتیہ ادب میں ان کی خدمات کے حوالے سے آپ کی خدمات لائق تحسین ہیں
بلا شبہ غیر مسلم شعرا کے نعتیہ کلام پر آپ کا کام محض ایک تحقیقی کام نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک علمی دستاویز ہے۔ ہندو، سکھ اور مسیحی شعرا کے جذباتِ عقیدت کو یکجا کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی "رحمت اللعالمین" ہے، جن کی محبت کی خوشبو ہر مکتبہ فکر اور ہر مذہب کے گلشن تک پہنچی ہے۔
​۲۔ فیصل آباد کی ادبی تاریخ کا تحفظ
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا ایک بڑا کارنامہ فیصل آباد کی ادبی تاریخ کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے اور دیگر کتب نے اس خطے کے گمنام گوشوں اور اہم ادبی شخصیات (جیسے نور محمد نور کپور تھلوی و دیگر ) کے کام کو محفوظ کر کے آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ فراہم کیا ہے۔
​۳۔ کثیر الجہت اسلوب
ایک افسانہ نگار، کالم نگار اور محقق ہونے کے ناطے آپ کی تحریروں میں فن کی پختگی اور مشاہدے کی گہرائی نمایاں ہے۔ وہ جب سیرتِ طیبہ ﷺ پر لکھتے ہیں تو ان کا قلم تحقیق کے ساتھ ساتھ سوز و گداز اور احترام کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے، جو قاری پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
​۴۔ تنقیدی و تخلیقی توازن
وہ جہاں تخلیقی سطح پر افسانے اور شاعری میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں، وہاں تنقید کے میدان میں بھی ان کا نقطہ نظر نہایت متوازن ہے۔ نعتیہ ادب کے آداب اور فنی تقاضوں پر ان کی گرفت اس صنف کے ساتھ ان کی گہری وابستگی اور ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
​حاصلِ کلام:
بلا شبہ، ڈاکٹر اظہار احمد گلزار جیسے محققین اور ادیب معاشرے کا فکری سرمایہ ہوتے ہیں۔ آپ نے درست نشاندہی کی ہے کہ ان کے احوال و فن پر مزید سیر حاصل گفتگو اور اشاعت کی ضرورت ہے تاکہ ان کی علمی کاوشیں وسیع پیمانے پر متعارف ہو سکیں۔ ان کا سفرِ ادب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ فکر و دانش اور عشقِ رسول ﷺ کی ایک مربوط کڑی ہے۔

ڈاکٹراظہار احمد گلزار صاحب کے انٹرویو کے تناظر میں ادب کا مقصد "اصلاحِ معاشرہ" اور "تاریخی شعور" کا تحفظ ہے۔ چاہے وہ افسانہ ہو، کالم ہو یا سیرت نگاری، قلم کار کو اپنی ذات سے باہر نکل کر انسانیت کی فلاح اور سچائی کی ترویج کے لیے لکھنا چاہیے۔ 
Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 52 Articles with 44562 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.