ہم، ہمارا پاکستانی معاشرہ اور ڈرامے کا عکس تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی:آسٹریلیا

ہم، ہمارا پاکستانی معاشرہ اور ڈرامے کا عکس
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی:آسٹریلیا
پاکستانی معاشرہ اپنی تہذیبی گہرائی، خاندانی ساخت، مذہبی وابستگی اور طبقاتی تقسیم کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہی معاشرہ جب اسکرین پر جلوہ گر ہوتا ہے تو اسے ہم“ڈرامہ”کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈرامہ صرف ہمارے معاشرے کی تصویر دکھاتا ہے یا وہ اس تصویر کو نئے رنگ بھی دیتا ہے؟آج جب ہر گھر میں ٹیلی وژن اور موبائل اسکرین موجود ہے، تو ڈرامہ محض تفریح نہیں رہا بلکہ ایک سماجی قوت بن چکا ہے۔
پاکستانی ڈرامے کی بنیاد پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے دور میں پڑی، جب تحریر، ہدایت کاری اور اداکاری میں ادبی وقار نمایاں تھا۔گویا کہانی ادب سے جڑی ہوتی تھی۔ اس دور کے ڈرامے آج بھی معیار کی مثال سمجھے جاتے ہیں، جیسے:
- خدا کی بستی – غربت اور سماجی ناانصافی کی کربناک تصویر
- تنہائیاں – متوسط طبقے کی جدوجہد اور خاندانی رشتوں کی خوبصورت کہانی
- دھوپ کنارے – محبت، وقار اور باہمی احترام کا سبق
ان ڈراموں میں کردار جیتے جاگتے انسان محسوس ہوتے تھے، مکالمے شائستہ اور کہانی حقیقت سے قریب تر تھی۔ ڈرامہ محض ریٹنگ کا کھیل نہیں بلکہ فکری مکالمہ تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نجی چینلز کے قیام کے بعد ڈرامہ صنعت میں وسعت آئی۔ سرمایہ کاری بڑھی، ٹیکنالوجی بہتر ہوئی اور اداکاروں کو عالمی سطح پر پہچان ملی؛ لیکن اس کے ساتھ ہی ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ(TRP)کی دوڑ نے کہانی کے معیار پر اثر ڈالا۔
آج اکثر ڈراموں میں:
- ساس بہو کی سازشیں
- جائیداد کے جھگڑے
- غیر حقیقی محبت کی کہانیاں
- انتہاپسندانہ منفی کردار
بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میرے پاس تم ہو نے وفاداری، مردانہ انا اور عورت کی خودمختاری پر قومی سطح پر بحث چھیڑ دی۔ ناظرین تقسیم ہو گئے۔کچھ نے اسے حقیقت کا عکس کہا، کچھ نے اسے عورت کے خلاف بیانیہ قرار دیا۔
یہ بات بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں عورت کا کردار سب سے زیادہ زیرِ بحث رہتا ہے۔ کبھی وہ ظلم سہنے والی بیٹی یا بہو ہے، کبھی انتقام لینے والی طاقتور خاتون، اور کبھی آزاد خیال شہری۔
یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ خود عورت کی شناخت کے معاملے میں تذبذب کا شکار ہے۔ اسکرین پر پیش کی جانے والی تصویر دراصل اسی کشمکش کا عکس ہے۔اس کے علاوہ طبقاتی فرق: محبت یا مفاد؟امیر اور غریب کے درمیان تعلق پاکستانی ڈراموں کا پسندیدہ موضوع ہے۔ بڑے گھروں کی چکاچوند اور متوسط طبقے کی سادگی کے درمیان تصادم دکھایا جاتا ہے۔کبھی یہ تصادم اصلاح کا پیغام دیتا ہے، کبھی صرف رومانوی خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
پاکستان ایک مذہبی معاشرہ ہے، مگر ڈراموں میں مذہبی کردار اکثر یا تو منافق دکھائے جاتے ہیں یا شدت پسند۔ اعتدال اور علم و حکمت کی نمائندگی کم نظر آتی ہے۔یہ رجحان معاشرتی توازن کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ناظرین اس تصویر کو حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔
ایک اور اہم بات کہ کیا ڈرامہ معاشرہ بدلتا ہے؟میڈیا ماہرین کے مطابق اسکرین پر دکھائی جانے والی اقدار ناظرین کے رویوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
- اگر جھوٹ کو چالاکی بنا کر پیش کیا جائے
- اگر دولت کو کامیابی کا واحد معیار بنایا جائے
- اگر شادی کو محض سماجی ڈرامہ بنا دیا جائے
تو معاشرہ بھی انہی خطوط پر سوچنے لگتا ہے۔ڈرامہ صرف عکس نہیں، وہ رویّوں کا معمار بھی ہے۔بایں ہمہ تمام تر تنقید کے باوجود پاکستانی ڈرامہ آج عالمی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ شرق الاوسط، یورپ اور جنوبی ایشیا میں اردو ڈراموں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔سادہ بیانیہ، جذباتی گہرائی اور ثقافتی رنگ اسے دیگر ممالک کے ڈراموں سے ممتاز بناتے ہیں۔
مندرجہ بالا نکات کو سامنے رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر تخلیق کار سماجی ذمہ داری کو مقدم رکھیں اور ناظرین بھی شعوری انتخاب کریں تو ڈرامہ:
- معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے
- نوجوان نسل کی رہنمائی کر سکتا ہے
- عورت اور مرد کے متوازن کردار پیش کر سکتا ہے
- خاندانی نظام کو مثبت انداز میں اجاگر کر سکتا ہے
کیونکہ آخرکار ڈرامہ صرف اسکرین پر نہیں چلتا،وہ ہمارے گھروں، گفتگو اور سوچ میں بھی زندہ رہتا ہے۔
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249198 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More