ایران جنگ: پاکستان پر اثرات

ایران جنگ: پاکستان پر اثرات
غلام اللہ کیانی
مشرقِ وسطیٰ میں ایران امریکہ جنگ نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت، سلامتی اور سفارت کاری کے ہر پہلو کو متاثر کر رہے ہیں۔
یہ ایک سادہ جنگ نہیں—یہ ایک کثیر جہتی بحران ہے جس میں پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر سوچنا ہوگا۔
پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے اور ایران جنگ نے اس پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔پاکستان اپنی تقریباً 85–90 فیصد تیل ضروریات درآمد کرتا ہے۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 90–110 ڈالر فی بیرل کے درمیان پہنچ چکی ہیں۔آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔جس کی وجہ سے درآمدی بل میں اربوں ڈالر اضافہ،مہنگائی میں اضافہ (7–9 فیصد تک)اورروپے پر دباؤبڑھ سکتا ہے۔پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر تقریباً 16–17 ارب ڈالرہیں جو صرف 2.5 سے 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔پاکستان کی ایران سے سالانہ تجارت تقریباً 2–3 ارب ڈالرہے۔اب شپنگ لاگت اور انشورنس میں 20–30 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایران جنگ کے دوران بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع پیدا ہوتا ہے کیوں کہ پاکستان کی توجہ مغربی سرحدوں پر مرکوز ہو تی ہے۔ماضی میں ایسے مواقع پر سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے
بھارت کی ممکنہ حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ سفارتی سطح پر پاکستان کو تنہا کیا جائے،داخلی عدم استحکام کو اجاگرکرےاورخلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے پاکستان کے لیے معاشی خلا پیدا کیا جائے۔ افغانستان پہلے ہی پاکستان کے لیے ایک حساس مسئلہ ہے۔ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ رحدی کنٹرول مزید مشکل ہوا ہے۔ غیر ریاستی عناصر کو موقع ملا ہے کہ اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت میں اضافہ کریں یعنی پاکستان کو بیک وقت افغانستان،ایران اور اندرونی سکیورٹی تینوں محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ چین کیا کرے گا؟
چین اپنی 50 فیصد سے زائد توانائی خلیج سے حاصل کرتا ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) اور CPEC کی سکیورٹی اہم ہے۔ وہ ایران کے ساتھ سفارتی حمایت،خلیج میں استحکام کے لیے ثالثی کردار،پاکستان کو معاشی و مالی سپورٹ کر سکتا ہے۔پاکستان کے لئے موقع ہے کہ وہ سی پیک کو متبادل تجارتی راستہ بنائے۔ چینی سرمایہ کاری میں اضافہ کرے،توانائی کے نئے معاہدے کرے۔لیکن چین براہ راست جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔اس کی پالیسی ہمیشہ "توازن اور مفادات" پر مبنی ہوتی ہے۔
پاکستان کو سالانہ 30 ارب ڈالر سے زائد ریمیٹینس ملتی ہیں جن کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔اگر جنگ پھیلتی ہے توخلیجی معیشت متاثر ہو گی۔ریمیٹینس میں کمی ہو گی اورپاکستان پر دوہرا دباؤ ہو گا۔
پاکستان اس وقت ایک "ملٹی فرنٹ پریشر" صورتحال کا سامنا کر رہا ہے،ایسے میں اسلام آباد کے لیے سب سے محفوظ راستہ اسٹریٹجک نیوٹرلٹی ہے۔یعنی ایران اور مغرب کے درمیان توازن اورکسی بلاک کا حصہ نہ بننا،بارڈر سکیورٹی مضبوط کرنا،ایران اور افغانستان سرحد پر نگرانی،داخلی سکیورٹی پر توجہ،چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون بڑھانا،سی پیک کو فعال بنانا، امتبادل توانائی معاہدے کرنا ہے۔ معاشی اصلاحات سب سے اہم ہیں تاکہ درآمدات کم ہوں، برآمدات بڑھائی جائیں، توانائی خودکفالت ہو۔
یہ جنگ صرف ایران یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں،یہ ایک ایسا طوفان ہے جو پاکستان کےمعیشت،سکیورٹی اور سفارت کاری تینوں ستونوں کو ہلا سکتا ہے۔اگر اسلام آباد نے دانشمندی سے کام لیا تویہ بحران ایک موقع بن سکتا ہے
WhatsApp +92 300 9568439
Ghulamullah Kyani
About the Author: Ghulamullah Kyani Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 715 Articles with 730513 views Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More