غلافِ کعبہ، عقیدت اور ایک خطرناک رجحان
(Fazal khaliq khan, Mingora Swat)
| اللہ کے گھر سے کسی چیز کو بغیر اجازت خود سے حاصل کرنا یا غلاف کو چوری سے کاٹنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ شرعی طور پر بھی یہ ایک ناجائز فعل ہے۔ |
|
|
| فضل خالق خان (مینگورہ سوات)
خبر چھوٹی تھی مگر سوال بہت بڑا چھوڑ گئی۔ بیت اللہ شریف میں ایک خاتون کو قینچی کے ذریعے غلافِ کعبہ کا ٹکڑا کاٹتے ہوئے پکڑا گیا۔ یہ منظر صرف ایک فرد کی غلطی نہیں بلکہ ایک اجتماعی فکری کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے، وہ کمزوری جس میں ہم عقیدت اور حقیقت کے درمیان فرق کھو بیٹھتے ہیں۔
کعبہ، جو پوری امتِ مسلمہ کا مرکزِ ایمان ہے، اس کے غلاف سے ایک ٹکڑا حاصل کرنے کی خواہش کوئی نئی بات نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ خواہش ہمیں قانون، اخلاق اور دین کی حدود سے تجاوز کرنے کا حق دیتی ہے؟۔
غلافِ کعبہ، جسے کسوہ کہا جاتا ہے، محض ایک کپڑا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط روایت، عقیدت اور فنی مہارت کا حسین امتزاج ہے۔ سیاہ ریشم پر سنہری و چاندی کے دھاگوں سے کندہ قرآنی آیات، اسلامی تہذیب کی اعلیٰ ترین صناعی کا مظہر ہیں۔
ہر سال حج کے موقع پر اس غلاف کعبہ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک روحانی اور تاریخی تسلسل کی علامت ہے، جو ہمیں بیت اللہ کی عظمت اور اس سے وابستہ احترام کا احساس دلاتا ہے۔
حالیہ واقعہ، کئی سوالات چھوڑ گیا، یہ واقعہ بظاہر ایک انفرادی فعل ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں کئی سوالات پوشیدہ ہیں، کیا غلافِ کعبہ کا ٹکڑا خود حاصل کرنا جائز ہے؟ یا کیا عقیدت کے نام پر قانون شکنی درست ہے؟ کیا ہم مقدس چیزوں کو سمجھنے کے بجائے صرف حاصل کرنے کی دوڑ میں لگ چکے ہیں؟ ان سوالات کا جواب واضح ہے!
بیت اللہ سے کسی چیز کو خود حاصل کرنا یا غلاف کو کاٹنا یا لینا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ شرعی طور پر بھی ناجائز ہے۔
سعودی حکومت نے حرمین شریفین کے احترام کو برقرار رکھنے کیلئے سخت قوانین نافذ کر رکھے ہیں، اور ان کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جاتی۔
غلاف کعبہ کی تقسیم ایک منظم نظام کے تحت کیا جاتا ہے ، ہر سال جب غلاف تبدیل ہوتا ہے تو پرانے کسوہ کو باقاعدہ ایک طریقے سے محفوظ کیا جاتا ہے، پھر اسے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے منتخب افراد کو بطور تحفہ دیا جاتا ہے۔ یہ تقسیم
ریاستی نگرانی میں ہوتی ہے جو محدود اور باوقار انداز میں کی جاتی ہے۔
یہاں کوئی ہجوم، کوئی دوڑ یا کوئی خودساختہ کوشش شامل نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے کچھ کہانیاں مشہور ہیں جس میں کلاک ٹاور اور بازاروں میں کسوہ کی فروخت کی کہانی شامل ہے لیکن اس میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ مکہ مکرمہ میں واقع ابراج البیت کلاک ٹاور کو اکثر اس حوالے سے غلط سمجھا جاتا ہے کہ وہاں غلافِ کعبہ کے ٹکڑے فروخت ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ وہاں صرف یادگاری اشیاء فروخت ہوتی ہیں
اصل غلاف کا کوئی ٹکڑا فروخت نہیں کیا جاتا، یہ غلط فہمی نہ صرف لوگوں کو دھوکے میں ڈالتی ہے بلکہ بعض اوقات انہیں ایسے اقدامات کی طرف بھی لے جاتی ہے جو قانون اور اخلاق دونوں کے خلاف ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں عقیدت بھی ایک مارکیٹ بن چکی ہے۔ “غلافِ کعبہ” کے نام پر جعلی اشیاء کی فروخت ایک تلخ حقیقت ہے۔
عام کپڑے پر سنہری پرنٹ، مشینی کڑھائی اور جعلی سرٹیفکیٹس یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کس طرح مقدس ناموں کو کاروبار کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے جبکہ روحانیت کا اصل مفہوم کچھ اور ہے۔
اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم مقدس چیزوں کو حاصل کریں، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ ہم مقدس مقامات کا احترام کریں۔
غلافِ کعبہ کا ایک ٹکڑا رکھنا نہ کوئی فرض ہے، نہ عبادت۔
اصل عبادت یہ ہے کہ! دل میں اللہ کی عظمت ہو، عمل میں اخلاص ہو اور مقدس مقامات کا ادب ہو۔
حالیہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ! عقیدت ضروری ہے مگر شعور کے ساتھ، محبت ضروری ہے مگر حدود کے اندر کیونکہ جب عقیدت حدود توڑ دے تو وہ عقیدت نہیں، بلکہ جذبات کی بے راہ روی بن جاتی ہے۔
غلافِ کعبہ کا ایک دھاگہ بھی بلاشبہ قیمتی ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ قیمتی وہ احترام ہے جو ہمیں بیت اللہ کیلئے اپنے دلوں میں رکھنا چاہیے۔ اگر ہم اس احترام کو برقرار نہ رکھ سکیں تو پھر کسی کپڑے کے ٹکڑے کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟ حالیہ واقعہ ایک لمحۂ فکریہ ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم عقیدت کے نام پر کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہیے کیونکہ اصل نسبت غلاف سے نہیں، بلکہ اس گھر کے رب سے ہونی چاہیے۔
|