سیرتِ رسول ﷺ: انسان کی تعمیر کا مکمل خاکہ
(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)
|
سیرتِ رسول ﷺ: انسان کی تعمیر کا مکمل خاکہ تحریر ڈاکٹر طالب علی اعوان (محقق، مصنف، کالم نگار) ۔۔۔۔۔ جب انسان اپنے زمانے کی تیز رفتار زندگی میں کھو جاتا ہے تو اسے راستہ نہیں، روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی روشنی جو صرف آنکھوں کو نہیں، دل کو بھی دکھائی دے۔ سیرتِ رسول ﷺ اسی روشنی کا نام ہے، ایک ایسا مینارِ نور جو صدیوں کے فاصلے کے باوجود انسان کے اخلاق، فکر اور عمل کو منور کرتا ہے۔ یہ محض ایک مقدس داستان نہیں، بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے جو ہر دور میں اپنی معنویت خود ثابت کرتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو سب سے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انسان کو باہر سے نہیں، اندر سے بدلا۔ آپ ﷺ نے معاشروں کی ساخت بدلنے سے پہلے دلوں کی زمین نرم کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت محض احکام کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی انقلاب تھی۔ مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں جب آپ ﷺ نے "قولِ صادق" اور "خلقِ عظیم" کا چراغ جلایا تو یہ چراغ آہستہ آہستہ انسانیت کے افق پر پھیلتا چلا گیا۔ سیرتِ رسول ﷺ کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی ایک میدان تک محدود نہیں۔ اگر آپ ﷺ مسجد میں ہیں تو عابدِ کامل نظر آتے ہیں، بازار میں ہیں تو تاجرِ دیانت دار، میدان میں ہیں تو جرأت و حکمت کا نمونہ، اور گھر میں ہیں تو محبت اور حلم کی تصویر۔ دنیا کی تاریخ میں یہ جامعیت نایاب ہے کہ ایک ہی شخصیت قیادت، عبادت، سیاست، معیشت و معاشرت، غرضیکہ ہر میدان میں اعتدال کا ایسا معیار قائم کر دے جو قیامت تک قابلِ تقلید رہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی عظمت معجزات سے زیادہ اخلاق کے ذریعے دلوں میں اترتی ہے۔ آپ ﷺ نے بدلہ لینے کی قوت رکھنے کے باوجود معاف کرنا سکھایا، انتقام کے ماحول میں درگزر کی روایت قائم کی اور طاقت کے عروج پر انکسار کی مثال پیش کی۔ فتحِ مکہ کا منظر انسانی تاریخ کا وہ لمحہ ہے جہاں طاقت نے پہلی بار گھٹنے نہیں ٹیکے، بلکہ جھک کر انسانیت کو اٹھایا۔ اگر سیرتِ رسول ﷺ کو ایک دریا کہا جائے تو یہ ایسا دریا ہے جس میں اترنے والا اپنی پیاس کے مطابق پانی پاتا ہے۔ عالم اس میں حکمت ڈھونڈتا ہے، حکمران عدل تلاش کرتا ہے، تاجر دیانت کا سبق لیتا ہے، اور عام انسان سکون کا راستہ پا لیتا ہے۔ یہی سیرت کا اعجاز ہے کہ وہ ہر ظرف کو اس کی ضرورت کے مطابق بھر دیتی ہے۔ سیرت کو اگر ایک میزان سمجھا جائے تو یہ وہ ترازو ہے جس میں اعمال تولے نہیں جاتے، سنور جاتے ہیں۔ ہم جب اپنے رویوں کو اس میزان پر رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری بہت سی کامیابیاں دراصل اخلاقی ناکامیاں ہیں۔ سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کامیابی وہ نہیں جو دنیا دکھائے، بلکہ وہ ہے جسے ضمیر قبول کرے۔ آج کی دنیا میں انسان نے فاصلوں کو کم کر لیا ہے مگر دلوں کے بیچ دیواریں اونچی ہو گئی ہیں۔ معلومات بڑھ گئی ہیں مگر برداشت کم ہو گئی ہے۔ طاقت بڑھ گئی ہے مگر امن گھٹ گیا ہے۔ ایسے میں سیرتِ رسول ﷺ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تہذیبیں ٹیکنالوجی سے نہیں، اخلاق سے بنتی ہیں۔ جس معاشرے میں سچ کمزور اور مفاد مضبوط ہو جائے، وہاں سیرت کا مطالعہ نہیں، سیرت کی واپسی ضروری ہو جاتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت کا ایک اور اہم پہلو اس کی عملیت ہے۔ یہ کوئی خیالی فلسفہ نہیں جو کتابوں میں خوبصورت لگے مگر زندگی میں دشوار ہو۔ آپ ﷺ نے بھوک میں صبر، خوش حالی میں شکر، اقتدار میں عدل اور کمزوری میں وقار سکھایا۔ یہی وہ توازن ہے جو انسان کو انتہاؤں سے بچاتا ہے اور اسے اعتدال کی راہ دکھاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے سیرت کو محبت کا عنوان تو بنا لیا، مگر زندگی کا معیار نہیں بنایا۔ ہم میلاد مناتے ہیں مگر معاملات میں سچ نہیں اپناتے، درود پڑھتے ہیں مگر کردار میں رحم کم دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ سیرت کا اصل پیغام یہ ہے کہ محبت دعوے سے نہیں، اتباع سے ثابت ہوتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیرتِ رسول ﷺ صرف مسلمانوں کی میراث نہیں، انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ مغربی مفکرین سے لے کر مشرقی دانشوروں تک، ہر سنجیدہ ذہن نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ محمد ﷺ کی شخصیت اخلاقی تاریخ کا بلند ترین حوالہ ہے۔ یہ وہ سچ ہے جو عقیدت سے پہلے انصاف مانگتا ہے۔ اگر ہم اپنے عہد کو ایک شور زدہ بازار تصور کریں تو سیرتِ رسول ﷺ اس میں ایک خاموش مگر پُراثر صدا ہے، ایسی صدا جو چیخ کر نہیں، چھو کر بدلتی ہے۔ جو انسان اس صدا کو سن لیتا ہے، وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کا غلام نہیں رہتا۔ سیرت ایک ایسا چراغ بھی ہے جس کی روشنی باہر سے زیادہ اندر جلتی ہے۔ جب یہ دل میں اتر جائے تو انسان کو اپنی کمیوں کا احساس ہونے لگتا ہے اور یہی احساس اصلاح کا پہلا زینہ بنتا ہے۔ جو قومیں اس چراغ کو بجھا دیتی ہیں، وہ علم کے باوجود اندھی رہتی ہیں۔ آج کی نسل کے لیے سیرت کا مطالعہ محض ثواب کا ذریعہ نہیں، بقا کا تقاضا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں شناختیں منتشر ہو رہی ہیں اور اقدار تیزی سے بدل رہی ہیں، سیرتِ رسول ﷺ ایک مضبوط اخلاقی شناخت فراہم کرتی ہے، ایسی شناخت جو انسان کو بھیڑ میں گم نہیں ہونے دیتی۔ سوال یہ نہیں کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ سے محبت کرتے ہیں یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے اپنی زندگی کے فیصلوں میں جگہ دیتے ہیں؟ کیونکہ سیرت کو پڑھنا آسان ہے، مگر اسے جینا ہی اصل وفاداری ہے۔
|
|