”ہر اس روح کے نام جو رب سے جڑنا چاہتی ہے!“
(Amman Ullah Bhojani, Karachi)
|
”ہر اس روح کے نام جو رب سے جڑنا چاہتی ہے!“ |
|
ہماری زندگی میں بظاہر بہت سی چیزیں اچانک ہو جاتی ہیں، مگر میرا ماننا ہے کہ حقیقت میں کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا۔ ہر چیز ایک تقدیر کے تحت ہمارے سامنے آتی ہے، اور اکثر جو ہوتا ہے وہ ہمارے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے اور اس میں اللہ رب العزت کی مصلحت ضرور شامل ہوتی ہے۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا جب میں نے أمّ حریرہ کی تحریر کردہ ناول ”رب سے جڑنے کا سفر“ آرڈر کیا۔
سچ کہوں تو اس وقت مجھے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اس ناول کا موضوع کیا ہے، اس میں کیا کہانی بیان کی گئی ہے، حتیٰ کہ میں اس کی مصنفہ کو بھی نہیں جانتا تھا۔ بس میں چند کتابیں منگوا رہا تھا تو ساتھ میں یہ کتاب بھی آرڈر کر دی۔ آرڈر کرنے کے بعد تقریباً تین چار ماہ تک یہ میری بک شیلف میں کہیں پڑی رہی، یہاں تک کہ مجھے خود بھی یاد نہیں تھا کہ یہ وہاں موجود ہے۔
پھر ایک دن جب میں نے الماری کھولی تو اچانک یہ کتاب میرے سامنے آ گئی۔ جیسے ہی نظر اس پر پڑی تو دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اسے پڑھا جائے۔ میں نے پڑھنا شروع کیا تو محسوس ہوا کہ اگرچہ کتاب بہت ضخیم نہیں ہے، مگر اس کے کچھ صفحات ایسے تھے جنہیں بار بار پڑھنے کا دل چاہ رہا تھا۔ شاید اسی کشش کا نتیجہ تھا کہ میں نے اسے تقریباً پانچ یا چھ دن کے اندر مکمل کر لیا۔
مگر آج جب میں اس کتاب کو مکمل طور پر پڑھ چکا ہوں تو پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اب تک جتنی کتابیں میں نے پڑھی ہیں، ان میں شاید سب سے زیادہ فائدہ مجھے اسی کتاب سے حاصل ہوا ہے۔
ایسا نہیں کہ باقی کتابوں سے فائدہ نہیں ہوا، یقیناً ہوا ہے، مگر اس کتاب کو پڑھنے کا جو لطف، جو تاثیر اور جو روحانی احساس مجھے ملا، وہ کسی اور کتاب سے حاصل نہیں ہوا۔ مصنفہ نے جس خوبصورت انداز سے قرآن سے محبت، دینِ اسلام سے وابستگی اور ایک بندے کے اپنے رب سے تعلق کے سفر کو بیان کیا ہے، وہ دل کو چھو لینے والا ہے۔ گویا ایک عام انسان کے ”عبداللہ“ بننے کا سفر یعنی اللہ کے سچے بندے اور دوست بننے کا راستہ، نہایت مؤثر منظر نگاری کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
اس ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ محسوس ہوئی کہ یہ غیر ضروری طوالت سے پاک ہے۔ عموماً بہت سے ناولوں میں مرکزی خیال کے گرد ایسی تفصیلات اور تمہید باندھی جاتی ہے جو بعض اوقات اصل پیغام کو کمزور کر دیتی ہے، مگر ”رب سے جڑنے کا سفر“ اس معاملے میں بالکل مختلف ہے۔ یہ ناول سیدھا اور واضح انداز میں وہی بات کرتا ہے جو واقعی اہم ہے، اور نہایت خوبصورت اسلوب میں کرتا ہے۔
اس کی منظر نگاری، الفاظ کا انتخاب، جذبات کی عکاسی، کرداروں کی تشکیل اور ان کے حالات کی پیشکش...سب کچھ مجموعی طور پر ایک بہت عمدہ تاثر قائم کرتا ہے۔ پڑھتے ہوئے انسان صرف کہانی نہیں پڑھتا بلکہ محسوس کرتا ہے کہ وہ خود بھی اس سفر کا حصہ بن رہا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے پڑھ کر واقعی لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ خاص طور پر جو لوگ کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں، انہیں میں ضرور کہوں گا کہ اس ناول کو اپنی فہرست میں شامل کریں۔
البتہ ہر تخلیق کی طرح اس میں بھی کہیں نہ کہیں بہتری کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔ انشاءاللہ تعالیٰ اگر موقع ملا تو اس پہلو پر بھی کبھی تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
~ از قلم امان اللّٰہ زبیر |
|