دادی جان: ایک لازوال محبت
پیاری دادی جان کو مجھ سے جدا ہوئے آج چھیانواں (96) دن ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہو گی اور انہیں کوئی غم نہ ہو گا۔ اگررب العالمین کے وعدے سچے ہیں ، اور یقینا ہیں ، تو وہ اس کی مستحق ہیں ۔دادی جان کی شخصیت سختی اور نرمی کا ایک عجیب امتزاج تھی۔ کبھی تو کسی معمولی سے جانور کو بھی تکلیف میں دیکھ کر رونے لگتیں تو کبھی اپنی کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات نہ مانے جانے پر غصے کی انتہا کر دیتی تھیں۔ میرے بچپن کی بات ہے کہ ایک چڑیا ہماری چھت پر آیا کرتی تھی جسکی ایک ٹانگ نہیں تھی۔ دادی جان اس کو دیکھ کر رونے لگ جایا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ بے زبان پرندے کو اللہ نے پتہ نہیں کیوں اتنی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اسی طرح بلی کے گم ہو جانے پر یا کسی تکلیف میں ہونے پر بھی دادی جان اشکبار ہو جاتی تھیں۔ دادی جان کو بلیوں اور مرغیوں سے خصوصی محبت تھی۔ انکے بقول ایک بلی کی بد دعا سے ، جسکو دادی جان نے ڈانٹ کر گھر سے نکالا تھا، وہ سیڑھیوں سے نیچے گری تھیں اور اس کے باعث ان کو بڑھاپے تک کمر میں درد رہا کرتا تھا۔ دادی جان نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تنگ دستی میں گزارا جسکے باعث انکو بے حد محنت کرنا پڑی۔ بڑوں سے سنا ہے کہ ان کے گھر میں مالی کشادگی بالکل نہیں تھی۔ شادی بھی ہو گئی تب بھی حالات کچھ خاص نہ تھے۔ دادی جان کی شادی کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ میرے دادا ابو نذیر احمد قریشی صاحب پہلے پہل فوج میں ہوا کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انہیں قیدی بنالیا گیا۔ ایک عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جیل سے فرار حاصل کیا۔ سننے میں آیا ہے کہ غالباً انھوں نے جیل کی چھت سے چھلانگ لگائی تو نیچے گر کر ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ اسی سب کے دوران ان کے جسم پر کوئی زہریلا کیمیکل بھی لگ گیا تھا جس کے اثر کی وجہ سے انکے جسم کےسارے بال ختم ہو گئے تھے اور دوبارہ اگتے بھی نہ تھے۔ جس وقت دادی جان کے لیے دادا ابو کار شتہ آیا تب دادا ابو کی نہ تو ایک ٹانگ تھی ، نہ پورے جسم پر بال تھے ، اور عمر میں بھی وہ دادی جان سے قدرے بڑے تھے۔ مگر ان کی شرافت، ایمانداری ، خوش اخلاقی اور خدمت خلق سے ہر کوئی بخوبی واقف تھا۔ دادی جان کی والدہ محترمہ نے دادی جان سے جب اس رشتے سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس قدر اخلاقی خوبیوں کے حامل ہیں تو مجھے ان کی ٹانگ یا بال نہ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ دادا ابو چونکہ زمیندارا کالج میں اکاؤنٹینٹ تھے اور ساتھ ایک انتہائی ایماندار اور درد دل رکھنے والے ہو میو پیتھک ڈاکٹر بھی، اسی لیے انکے گھر کےحالات بہت خوشگوار نہ تھے ۔ وہ خود کمانے والے مریض کے علاوہ کسی مریض سے علاج کی فیس وصول نہیں کیا کرتے تھے۔ دادی جان بتاتی تھیں کہ میں ان سے جھگڑ جایا کرتی تھی کہ گھر کا سودا سلف لانے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور آپ مریضوں سے فیس بھی نہیں لیتے ۔ جسکے جواب میں وہ کہتے تھےکہ ایک تو وہ پہلے ہی اپنی بیماری کو لے کر پریشان ہے اب میں فیس کا مطالبہ کیسے کروں! سننے میں آیا ہے کہ دادی جان اور دادا ابو نہایت پیار محبت سے رہا کرتے تھے اور گھر کا ماحول بہت خوشگوار تھا۔ میرے بابا جان چونکہ اکلوتی اولادتھے اسلیے دادی جان اپنے فارغ وقت میں بچوں کو قرآن اور سکول کا سبق پڑھایا کرتی تھیں۔ انکے شاگر د بتاتے ہیں کہ بہت سخت استاد تھیں مگر انتہائی محنت اور لگن سے پڑھاتی تھیں۔ دادی جان ابھی جوان ہی تھیں اور بابا جان کی نوکری شروع ہی ہوئی تھی کہ دادا ابو دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ تبھی دادی جان کو دادا ابو کے رہائشی گھر سے بے دخل کر دیا گیا اور ایک شاگرد کا گھر انکی عارضی جائے پناہ بنا۔ دادی جان بتاتی تھیں کہ کس طرح انہوں نے بچوں کو پڑھا کر پائی پائی جمع کر کےزمین خریدی تھی اور کچھ بابا جان کی آمدن کا حصہ ملا کر جمع پونجی سے گجرات میں 6 مرلے کا گھر بنایا تھا اور وہاں رہائش اختیار کی تھی۔ پھر بابا جان اپنی نوکری کے سلسلے میں اسلام آباد آگئے مگر دادی جان میری پیدائش تک وہیں رہیں۔ بابا جان نے جب محسوس کیا کہ ان کی عمر کافی ہو گئی ہے وہاں محلے میں انکا اکیلا رہنا ٹھیک نہیں ہے تو انکو بھی اسلام آباد لے آئے اور گجرات والا مکان کرائے پر دے دیا۔ میں چونکہ تیسری بیٹی تھی اسلیے میری پیدائش پر دادی جان بے حد نا خوش تھیں۔ انکی خواہش تھی کہ بیٹا ہو تا کہ بڑا ہو کر میرے بابا جان کا دست و بازو بنے۔ میں چار برس کی تھی کہ جب میرا بھائی پیدا ہوا اور امی بابا نے مجھے دادی جان کے کمرے میں منتقل کر دیا۔ یہیں سے میرے اور دادی جان کے خصوصی تعلق کا آغاز ہوا۔ دادی جان نے مجھے انتہائی محبت اور چاہت سے اپنے کمرے میں قبول کیا۔ رات کو سونے سے پہلے وہ مجھے دعائیں پڑھاتی تھیں۔ چھے کلمے، ایمان مفصل اور مجمل، دعائے قنوت اور سورۃ یاسین وغیرہ مجھے اپنے بہن بھائیوں کی نسبت کم عمری میں ہی یاد تھیں۔ وہ مجھے فجر کے وقت با قاعدگی سے جگاتی تھیں لیکن نا اٹھنے پر زیادہ زبردستی نہ کرتیں۔ البتہ عشاء کی نماز پر خاص زور دیتی تھیں۔ تبھی میں بچپن میں نماز سے فرار کی خاطر اکثر عشاء کی اذان سے پہلے ہی جا کر بستر میں سو جایا کرتی تھی۔ فجر کے وقت دادی جان دیر تک دعا مانگتی رہتیں اور روتی رہتی تھیں۔ ایک آیت کریمہ "لا الہ الا انت سبحانک إني كنت من الظالمين " پڑھتے ہوئے بہت روتیں ، اور دوسرا یہ کلام: آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کیلئے بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کیلئے
خوار ہیں بدکار ہیں ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں کچھ بھی ہیں لیکن تیرے محبوب کی امت تو ہیں
حق پرستوں کی اگر تو نے بھی دلجوئی نہ کی طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں
یہ الفاظ دہراتے ہوئے انکی کانپتی ہوئی درد بھری اور دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہوئی آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے ، جو کہ نیم خوابی کی حالت میں سن سن کر مجھے یاد ہو گئی تھی۔ دعا کے بعد وہ دیر تک تلاوت کرتی رہتیں۔ عبادات سے فارغ ہو کر دادی جان کی صحت نے جب تک ساتھ دیا، وہ چہل قدمی کیلئے جاتی رہیں اور اکثر مجھے اور میرے بھائی کو بھی جگا کر ساتھ لے جاتیں۔ وہاں سے واپسی پر وہ مرغیوں کو کچھ دیر کیلئے کھولتیں ، بلی کو کھانا دیتیں اور دن بھر کی دیگر مصروفیات کا آغاز ہو جاتا جبکہ ہم سکول چلے جاتے تھے۔ سکول سے واپس آ کر میں اپنی دن بھر کی باتیں دادی جان کو بتاتی تھی۔ آج فلاں سے لڑائی ہو گئی، فلاں کو ٹیچر نے مارا، فلاں کے ساتھ یہ ہوا اور فلاں کے ساتھ وہ۔ اور دادی جان میری یہ سب بچگانہ باتیں نہ صرف سنتی تھیں بلکہ ہنسی خوشی مجھے جواب بھی دیتی تھیں گویا کہ یہ باتیں واقعی اہمیت رکھتی ہوں۔ میں سکول سے آکر جب کپڑے بدلتی تھی تو رات کو سونے سےپہلے دادی جان میری سفید شلوار کے پائنچے اور میری جرابیں خود بخود دھو دیا کرتی تھیں۔ اگلے دن میں صرف پانچے استری کرتی اور پہن کہ پھر سکول چلی جاتی۔ دادی جان مجھے جگا دینا، دادی جان واک کرنے چلیں، دادی جان میرا یونیفارم دھو دیں، دادی جان آج کیا پہنوں ؟ دادی جان دادی جان دادی جان کے بغیر تو میری زندگی ہی ادھوری تھی۔ جوں جوں انکی عمر بڑھتی گئی، جہاں میں ہر وقت دادی جان دادی جان پکارا کرتی تھی، اب وہ حمنہ حمنہ پکارنےلگیں۔ جب وہ مجھے بہت زیادہ آوازیں دیتیں تو کبھی میں تنگ آکر بول دیتی کہ ہم پانچ بہن بھائی ہیں، آپکو تو جیسے صرف میر اہی نام یاد ہے۔ مگر جلد ہی مجھےاحساس ہوا کہ انکا بار بار مجھے بلانا میری خوش قسمتی ہے۔ جہاں میرے شب و روز اُن پر منحصر تھے ، اب انکے شب و روز مجھ پر منحصر ہو گئے تھے ۔ وقت گزرتا گیا اور نامعلوم کب انکو دماغی بیماری ڈیمینشیا نے آلیا۔ آہستہ آہستہ وہ سب کچھ بھولنے لگیں یہاں تک کہ انکو اپنے اکلوتے بیٹے یعنی میرے بابا جان کی بھی پہچان نہ رہی۔ پھر ہم نے وہ وقت بھی دیکھا جب دادی جان اپنی چھڑی سے سب کو مارا کرتی تھیں۔ کسی کو کہتی تھیں تم نے میرا جوتا پہنا ہے ،کسی کو کہتی تھیں مجھے بازار لے جاؤ اور فلاں چیز لے دو۔ مہمان جب بھی آتے ان سے عجیب عجیب سوال کرتی تھیں جنکو سن کر کچھ ہنستے اور کچھ چڑھا کرتے تھے۔ مجھےیاد ہے اس دوران دادی جان کو جہاں کہیں ہماری کوئی انگوٹھی، ہار، چوڑیاں، کانٹے پڑے نظر آتے اٹھا کر اپنے دراز میں رکھ لیتی تھیں اور ہم اپنی چیز پورے گھرمیں ڈھونڈتے رہتے تھے۔ اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ دادی جان نے اٹھائی ہے تو مانگنے پر غصہ کرتی تھیں کہ یہ تو میری ہے اور بعض دفعہ تو رونے لگتی تھیں۔ ناگزیر دماغی حالت کے باوجود بھی اوڑھنے پہنتے کی چیزوں کی طرف بہت مائل ہوتی تھیں۔ اپنے زیورات کو ہاتھ تک نہ لگانے دیتیں۔ دادی جان کو اپنی جوانی سے ہی بن سنور کر رہنے کا بہت شوق تھا۔ سونے کی چوڑیاں اور انگوٹی ہر وقت پہن کر رکھتی تھیں اور ہر سال ان کا ڈیزائن سنارسے بدلواتی تھیں۔ جوتوں کپڑوں کے معاملے میں بے حد بار یک بین تھیں۔ جو تا خریدتے وقت ہمیشہ ہیل والا جو تا چنتی تھیں۔ ایک دفعہ کسی نے پوچھاآپ ہمیشہ ہیل کیوں پہنتی ہیں؟ تو جوابا بنتے لگیں اور کہنے لگیں، "سوچتی ہوں اگر ہیل نہ پہنی تو پیچھے کی طرف گر جاؤں گی۔"
مجھ سے دادی جان بے حد پیار کیا کرتی تھیں۔ جس دن میں وقت پر فجر کی نماز پڑھتی دادی جان مجھے سکول جانے سے پہلے انعام کے طور پر کچھ پیسے دیتیں اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کی تلقین یہ آیت پڑھ کر کرتیں، "اِنَّ قُرْآنَ الفَجْرِ کَانَ مَشْہودًا"۔ جب بھی میں اپنا ہاتھ آگے کرتی تو پکڑ کر چوم لیتیں۔ ہاتھ چومنے کی تو انکی ہمیشہ سے عادت تھی۔ جو بھی ہاتھ ملانے کیلئے بڑھاتا اسکا ہاتھ چوم لیتی تھیں۔ میں یا بابا جان جب انکو کھانا کھلانے کیلئے انکے پاس جاتے تو بستر پر لیٹے لیٹے اشارے سے منہ نیچے کرنے کو کہتی تھیں اور پھر منہ پر نزاکت سےبوسہ دیتی تھیں۔ ایک دن جب میں نے انکو تیل لگا کر بالوں کی چْٹیا بنائی تو بہت خوش ہوئیں اور مجھے بہت پیار کیا۔ پھر اپنی ہی چٹیا پکڑکر زور سے ہنسنے لگیں کہ کس قدر پتلی ہو گئی ہے۔ دادی جان چائے کی بے حد شوقین تھیں۔ تمام اشیاء کے ذائقے بھول چکی تھیں مگر چائے کا کپ منہ سے لگتے ہی چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہو جاتے تھے۔ انکی طبیعت میں ایک تازگی اور پْھرتی تھی۔ کمر میں درد رہتا تھا مگر جس حد تک ممکن تھا خود کو چلتا پھرتا، بلکہ بھاگتا دوڑتا رکھا۔پھر ایک دن اکتوبر 2024 میں وہ پیر پھسلنے سے گریں اور انکی بائیں ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس وقت انکی عمر لگ بھگ ۹۴ برس ہو گی۔ دماغی توازن کی خرابی اورکثیر العمری کے باعث آپریشن نہ ہو سکا اور وہ مسلسل بستر پر آگئیں۔ ہمارے گھر میں یک دم خاموشی چھا گئی۔ اسکے بعد تو انکی صحت ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی ایسی گری کہ وہ پہچانی نہ جاتی تھیں۔ دماغی حالت بگڑتی چلی گئی۔ پوری زندگی اس قدر بارعب اور پر وقار رہنے والی شخصیت کا اس قدر زوال دیکھانہ جاتاتھا۔ بات کرتیں تو انتہائی بے معنی، نہ کھانے کی ہوش رہی نہ اوڑھنے پہنے کی۔ حیرت انگیز طور پر کچھ چیزیں انکو اس حالت میں بھی یاد تھیں جن میں سرفہرست میرا نام "حمنہ " اور آیت کریمہ "لاالٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنَّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِین " ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ دادی جان کو اپنے آخری ایام تک بھی عربی، اردو اور انگریزی بالکل ٹھیک پڑھنی آتی تھی۔ ہسپتال آتے جاتے سائن بورڈز پڑھا کرتی تھیں۔ ایک دن قرآن کھول کر دیا تو آسانی سے پڑھ لیا۔ 17مئی ۲۰۲۵ کی صبح جب میں اٹھی تو دادی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھیں۔ ہسپتال لے کر گئے تو معلوم ہوا کہ پھیپھڑوں میں دودھ چلا گیا ہے جسکے باعث سانس لینے میں دشواری ہے۔ بڑے ہسپتال منتقل کر دیا گیا مگر تسلی بخش حالت نہ تھی۔ سانس البتہ بحال تھا مگر ہوش بالکل نہیں تھا۔ آنکھیں کھولتی تھیں اور میری طرف دیکھ کر پلکیں اُچکا کر پوچھتی تھیں " کیا ہے ؟ " جبکہ منہ سے ایک لفظ نہ کہتیں۔ ۱۸ مئی کی شام کو بے ہوش ہو ئیں۔ 19 مئی کی شام چند لمحوں کے لیے ہوش آیا۔ میں نے پوچھا، " دادی جان طبیعت کیسی ہے ؟" اثبات میں سر ہلا دیا مگر منہ سے کچھ نہ بولیں۔ میں نے اپنا ہاتھ انکےمنہ کے قریب کیا اور انہوں نے بوسہ دیا بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ بوسہ دینے کی نہایت کمزور کوشش کی۔ کمزور اس قدر تھیں کہ صرف ہلکا سامنہ ہی ہلا پائیں۔ پھر چند لمحوں کیلیے کھوئی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھتی رہیں اور پھر سے بے ہوش ہو گئیں۔ 19 اور ۲۰ مئی کی درمیانی شب مجھے کبھی نہ بھولے گی۔ دادی جان کو سانس لینے میں مشکل تھی اور وہ آکسیجن پر تھیں۔ ڈاکٹر بھی انکی زندگی کیلیے پر امید نہ تھے۔ رات بھر میں جاگ جاگ کر دیکھتی رہی کہ وہ سانس لے رہی ہیں یا نہیں۔ یہ تو میری کئی سالوں سے عادت تھی کہ صبح اٹھتے ہی دل میں انجان سا خوف لیے میں دادی جان کو دیکھتی کہ وہ سانس لے رہی ہیں یا نہیں۔ اس رات بھی بار بار میں دیکھتی رہی ، سب ٹھیک تھا ۔۔۔۔۔یہاں تک کہ صبح کے ساڑھے چار بجے ۔ اس وقت میں نے کروٹ بدل کر دادی جان کی طرف دیکھا مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ آخری لمحہ ہے کہ میں نے انکو زندہ حالت میں دیکھا ہو۔ اگر معلوم ہوتا تو شاید عمر بھر میں ان پر سے نظر نہ ہٹاتی۔ کچھ ہی لمحات بعد جب میں نے دوبارہ دیکھا تو یہ وہی موقع تھا جس کا سوچ کر میں انکی زندگی میں ہی رو دیا کرتی تھی۔ وہ سانس نہیں لے رہی تھیں۔ چہرے کو ہاتھ لگایا تو ایک دم سرد تھا مگر جب ہاتھ پکڑا تو گرم تھا۔ بوجھل قدموں اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ خود کو سنبھالتے ہوئے میں ڈاکٹر کے کمرے تک گئی، ڈاکٹر کو بلایا اور اس نے انکی موت کی تصدیق یہ کہہ کر کی : " آپ ان کو لے جاسکتی ہیں۔ " ساتھ ہی ساتھ مجھے یہ بھی کہہ گئی کہ " اداس نہ ہو آپ نے ان کی بہت خدمت کی۔ " میری شدیدخواہش تھی کہ وہ مجھے کچھ کہہ کے ، مجھ سے بات کر کے کچھ وصیت کر کے جاتیں مگر اللہ کو یونہی منظور تھا۔ دادی جان، جنکی شخصیت کے بارے میں یوں کہنا غلط نہ ہو گا کہ رُکے تو گردشیں اسکا طواف کرتی ہیں چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
جب ان کی موت کا وقت آیا تو اس قدر خاموشی سے چل دیں کہ نہ کوئی آخری الفاظ کہے نہ کسی سے شکایت کی اور نہ ہی موت کی ہچکی تک آئی۔ کچھ پیچھے چھوڑا تو صرف اپنی ایک کنیت ،" دادی جان"۔ آخری وقت میں ان کو اپنے کسی نام کی پہچان نہ تھی، نہ عفت، نہ امی ، نہ باجی، نہ پھیپھو، مگر جو نہی دادی جان کہہ کر پکار و تو جو با سر ہلاتی تھیں۔ آج بھی ان کی قبر کے کتبے پر " دادی جان " کے الفاظ نقش ہیں۔ میں اکثر سوچتی ہوں، دادی جان تو اسی وقت رخصت ہو گئی تھیں جب انکا ذہن ساتھ دینا چھوڑ گیا تھا۔ نہ صحت رہی تھی نہ عقل و شعور نہ جذبات و احساسات نہ پہلے کا سا جاہ و جلال نہ اثر و سوخ۔ اس کے بعد تو محض ایک جسم رہ گیا تھا جس کا دنیا سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ مگر گھر کے ایک کونے میں رکھے ایک بستر پر پڑا بے جان وجود اس قدر اہم ہو سکتا ہے ، اس بات کا مجھے اندازہ مجھے انکی وفات کے بعد ہوا۔ ان کی وفات کو 3 مہینے سے زائد عرصہ ہو چکا ہے مگر ان کی شخصیت کا ہر پہلو، ان کا چہرہ، انکی باتیں ، ان کی آواز، ان کی انگلیوں کی ساخت، انکے لمس کا احساس اور ان کے ساتھ بیتے ہوئے وقت کا لمحہ لمحہ روز ِروشن کی طرح عیاں ہے اور جب تک میں رہوں گی، وہ ہمیشہ میری یادوں اور دعاؤں میں زندہ رہیں گی۔
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ مستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتے ہیں دوریوں سے کبھی یا دیں تو نہیں مر سکتیں
حمنہ عظیم 24-08-25 |