خلائی غیر متوقع خطرات سے نمٹنے میں چین کی کامیابی

خلائی غیر متوقع خطرات سے نمٹنے میں چین کی کامیابی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

خلائی تحقیق کے میدان میں غیر متوقع خطرات اور تکنیکی آزمائشیں کسی بھی ملک کے خلائی پروگرام کی صلاحیتوں کا اصل امتحان ہوتی ہیں۔ مدار میں گردش کرنے والا خلائی ملبہ آج عالمی خلائی سرگرمیوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی خلائی مشن کا محفوظ اختتام نہ صرف ٹیکنالوجی کی مضبوطی بلکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا بھی عکاس ہوتا ہے۔ شینزو-20 خلائی جہاز کی حالیہ واپسی چین کے خلائی پروگرام کے لیے اسی نوعیت کی ایک اہم آزمائش تھی، جس نے ایک بار پھر اس نظام کی پختگی اور تیاری کو نمایاں کیا۔

خلائی ملبے سے متاثر ہونے والے شینزو-20 خلائی جہاز کا ریٹرن کیپسول حال ہی میں بحفاظت زمین پر اتر آیا۔ چین کی انسان بردار خلائی ایجنسی کے مطابق یہ لینڈنگ شمالی چین کے اندرونی منگولیا خود اختیار علاقے میں واقع ڈونگ فنگ لینڈنگ سائٹ پر صبح 9 بج کر 34 منٹ پر مکمل ہوئی، جس کے ساتھ ایک غیر معمولی اور تکنیکی لحاظ سے پیچیدہ مشن کا اختتام ہوا۔

شینزو-20 کو گزشتہ سال اپریل میں خلا میں روانہ کیا گیا تھا، تاہم اس کی منصوبہ بند واپسی نومبر کے اوائل میں اس وقت مؤخر کر دی گئی جب مشتبہ خلائی ملبے کے ٹکراؤ کے باعث ریٹرن کیپسول کی کھڑکی میں باریک دراڑیں سامنے آئیں۔ ایجنسی کے مطابق یہ نقصان معمولی نوعیت کا تھا، مگر احتیاطی تدابیر کے تحت عملے کی واپسی کے لیے متبادل خلائی جہاز استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے شینزو-20 کے تینوں خلاباز بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے۔

ریٹرن مشن کا آغاز اٹھارہ تاریخ کی نصف شب ہوا، جب خلائی جہاز چین کے خلائی اسٹیشن سے علیحدہ ہوا اور زمین کی جانب واپسی کے عمل میں داخل ہوا۔ اگرچہ کیپسول کو نقصان پہنچ چکا تھا، اس کے باوجود وہ دوبارہ زمین کے ماحول میں داخلے کے دوران ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والے درجہ حرارت کو برداشت کرنے میں کامیاب رہا۔ لینڈنگ کے بعد زمینی ٹیم کی جانب سے کیے گئے ابتدائی معائنے میں تصدیق کی گئی کہ کیپسول کی مجموعی حالت معمول کے مطابق ہے اور اس کے اندر واپس لایا گیا سامان محفوظ حالت میں موجود ہے۔

اس مشن کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ واپسی کے دوران کیپسول میں کوئی خلاباز موجود نہیں تھا۔ تمام اہم کارروائیاں زمینی کنٹرول سینٹر سے بھیجے گئے ریموٹ کمانڈز کے ذریعے انجام دی گئیں۔ چین کے خلائی اسٹیشن کے عملی مرحلے کے دوران یہ پہلی مرتبہ تھا کہ کسی خلائی جہاز نے بغیر عملے کے کامیاب واپسی کی، جسے ماہرین نے خلائی ہنگامی ردعمل کی صلاحیتوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

چین کی انسان بردار خلائی ایجنسی نے اس مشن کو مکمل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تجربے نے زمینی اور خلائی رابطہ کاری کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انجینئرز کے مطابق اس مشن کے دوران غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے، فیصلہ سازی اور تکنیکی ہم آہنگی کے حوالے سے قیمتی تجربہ حاصل ہوا ہے، جو آئندہ خلائی مشنز کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔

بیجنگ ایرو اسپیس کنٹرول سینٹر کے مطابق، مشن سے قبل مختلف ممکنہ خرابیوں اور ہنگامی حالات کے لیے تفصیلی متبادل منصوبے تیار کیے گئے تھے، تاکہ کسی بھی صورتحال میں کارروائی کو مربوط اور محفوظ رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق شینزو-20 کا مدار میں قیام طے شدہ مدت سے تین ماہ سے زائد طویل رہا، جو خود خلائی جہاز کی برداشت اور نظام کی پائیداری کا ثبوت ہے۔

اس دوران شینزو-21 کے خلاباز، جو بعد میں خلائی اسٹیشن پر پہنچے تھے، نے شینزو-20 کیپسول کو سیل کرنے، مضبوط بنانے اور اس میں مناسب وزن کی تقسیم کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ چونکہ واپسی کے وقت کیپسول میں کوئی خلاباز موجود نہیں تھا، اس لیے اندر موجود سامان کے وزن اور مرکزِ کمیت کو خاص احتیاط سے متوازن کیا گیا تاکہ زمین کی جانب واپسی کے دوران استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ شینزو-20 نے مجموعی طور پر 270 دن مدار میں گزارے، جو چین کی خلائی تاریخ میں کسی انسان بردار خلائی جہاز کے لیے سب سے طویل مدت ہے۔ اس طویل قیام نے خلائی جہاز کی طویل المدتی ڈاکنگ صلاحیت کی بھی تصدیق کی۔ واپسی سے قبل بیجنگ ایرو اسپیس کنٹرول سینٹر نے تمام فلائٹ کنٹرول منصوبوں اور ہنگامی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا، جبکہ طویل قیام کے باعث خصوصی تکنیکی جانچ، پلیٹ فارم معائنہ اور انجن کی دیکھ بھال بھی کی گئی۔

چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کے ماہرین کے مطابق اس مشن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا نہایت قیمتی ہے۔ خلائی ملبے کے ممکنہ اثرات، نظام کے ردعمل اور واپسی کے تمام مراحل کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں خلائی جہازوں کے ڈیزائن اور آپریشنل طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

شینزو-20 کی بغیر عملہ کامیاب واپسی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ چین کا خلائی پروگرام اب نہ صرف معمول کے مشنز بلکہ غیر متوقع اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ خلائی ملبے جیسے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنج کے تناظر میں یہ مشن خلائی سلامتی، تکنیکی خود اعتمادی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل کے خلائی مشنز کو مزید محفوظ، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی، اور چین کے خلائی پروگرام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093316 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More