ذہین فصلیں

ذہین فصلیں
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

زرعی ترقی کسی بھی ملک کی معاشی مضبوطی اور غذائی خود کفالت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جہاں آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں خوراک کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث زرعی شعبے میں جدت اور سائنسی ترقی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسی تناظر میں دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی کو زراعت کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ، وسائل کا بہتر استعمال اور موسمی تغیرات کا مقابلہ ممکن بنایا جا سکے۔ چین نے بھی اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لا کر ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔

دوسری جانب چین کا بیج سازی کا شعبہ، جو کسی بھی زرعی نظام کی بنیاد ہوتا ہے، اب تیزی سے ڈیجیٹل اور ذہین نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجیز نے اس شعبے میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ بہار کی کاشت کے موجودہ سیزن میں مختلف جدید ایپلیکیشنز سامنے آئی ہیں جنہوں نے روایتی طریقہ کار کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسی سلسلے میں ایک جدید پلیٹ فارم متعارف کروایا گیا ہے جو بیج سازی کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں منظم کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم میں ایسے جدید آلات شامل ہیں جو جینیاتی معلومات کو موسمی حالات اور مٹی کی خصوصیات کے ساتھ ملا کر فصلوں کی کارکردگی کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف نتائج زیادہ درست ہوتے ہیں بلکہ وقت کی بھی نمایاں بچت ہوتی ہے۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ نظام فصلوں کی خصوصیات پر جینیاتی اور ماحولیاتی اثرات کو واضح انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی طرح ایک اور اہم پیش رفت بیج سازی کے عمل کی پیشگی نقل تیار کرنے والا نظام ہے، جو کاشت سے پہلے ہی ممکنہ نتائج کا اندازہ لگا لیتا ہے۔ یہ نظام بیج سازی کے پورے سایئکل یعنی اوائل سے لے کر نئی نسل کی تیاری تک کے تمام مراحل کو کمپیوٹر پر نقل کر کے بہترین نتائج کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یوں اسے ایک طرح کی "پیشگی مشق" کہا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے کھیتوں میں تجربات کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور عمل زیادہ مؤثر بن جاتا ہے۔

مزید برآں اس جدید نظام کی بدولت بیج سازی کا دورانیہ، جو پہلے آٹھ سے دس سال تک محیط ہوتا تھا، اب کم ہو کر تین سے چار سال رہ گیا ہے۔ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ نئی اقسام کی فصلیں تیزی سے مارکیٹ میں لائی جا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اخراجات میں بھی کمی آتی ہے، جو کسانوں اور زرعی اداروں دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

دوسری طرف روبوٹکس کی شمولیت نے بھی اس شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایک جدید روبوٹ جو مکمل طور پر بیج سازی کے عمل کو خودکار طریقے سے انجام دیتا ہے، اب عملی میدان میں کام کر رہا ہے۔ یہ روبوٹ نہایت باریکی سے پھولوں کی شناخت کر کے ان میں ہائبرڈ پولی نیشن انجام دیتا ہے، جو پہلے ایک نہایت محنت طلب اور وقت لینے والا عمل تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے نہ صرف انسانی محنت کو کم کیا ہے بلکہ درستگی اور رفتار میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔

اسی طرح بڑی مقدار میں ڈیٹا اور جدید تجزیاتی نظاموں کے استعمال نے بیج سازی کے روایتی انداز کو یکسر بدل دیا ہے۔ جہاں پہلے بیج سازی کا عمل زیادہ تر تجربات اور اندازوں پر مبنی ہوتا تھا، اب یہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ایسی فصلیں تیار کی جا رہی ہیں جو مخصوص ماحول اور ضروریات کے مطابق ڈھالی جا سکتی ہیں۔

مزید یہ کہ مستقبل میں اس شعبے میں مزید ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں ایسی "ذہین فصلیں" تیار کی جائیں گی جو اپنے اردگرد کے ماحول کو محسوس کر کے خود کو اس کے مطابق ڈھال سکیں گی۔ اسی طرح کاشت کے طریقوں میں بھی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ جائے گا، جس سے زرعی نظام مزید مؤثر اور پائیدار بن جائے گا۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے چین کے زرعی شعبے، خصوصاً بیج سازی کے نظام کو ایک نئی جہت دی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر زرعی ترقی کے لیے بھی ایک مثبت مثال پیش کر رہی ہے۔ اگر اسی رفتار سے جدت کو فروغ دیا جاتا رہا تو مستقبل میں زراعت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو جائے گی جہاں پیداوار، معیار اور پائیداری تینوں کا بہترین امتزاج ممکن ہوگا، اور یہی کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی اصل ضرورت ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093402 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More