نظریاتی اختلاف، ذاتی عناد اور تخلیق کار

ازقلم: ذوالفقار علی بخاری

ادبی دنیا میں اکثر نظریاتی اختلاف، رقابت یا ذاتی عناد تخلیق کاروں کو ادب سے دور جانے پرمائل کرتا ہے۔ بسا اوقات وہ لکھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ اْنھیں مدیران کے رویے پسند نہیں آتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگرنامناسب تحریرشائع ہو جائے تو قلم کار زیرعتاب آتا ہے۔لکھاری سچائی کو من و عن بیان کرے تب بھی وہی سزا کا حق دار بنتا ہے اورغیر معیاری لکھنے پر بھی قارئین اُسی پر انگلی اُٹھاتے ہیں۔


یکم مارچ 2026 کو روزنامہ جنگ میں ایک نامناسب تحریر ’کراچی کے محلوں کے نام‘ شائع ہوئی تو اْس پر سوشل میڈیا پر انچارج صفحہ کی جانب سے ارشاد فرمایا گیا کہ قلم کار کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اْس تحریر کو شائع کرنے والا کیا محض معذرت پر فرشتہ بن جائے گا؟یہ اخلاقی اور قانونی اعتبار سے ادارے کی نااہلی ہے اور ایک تحریر پر کسی قلم کار کو بلیک لسٹ قرار دینا نامناسب عمل اورصحافتی اقدار کے منافی ہے کیوں کہ تحریر کی اشاعت پر وہ شخص بھی ذمہ داربنتا ہے جس نے تحریر کو شائع ہونے کی راہ ہموار کی۔


اگر تخلیق کاروں کی جانب سے مسلسل ایسی تحریریں ارسال کی جائیں،جو نامناسب ہوں تو اُنھیں شائع کرنے سے گریز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن محض جذبات مجروح کرنے پر کسی کو تاحیات سزا وار قرار دینا غلط ہے، لیکن بدقسمتی سے ایسا کئی برسوں سے ہو رہا ہے۔ ادب عالیہ کے رسائل دیکھیں یا پھر بچوں کے رسائل،آپ کو کئی اہم قلم کاروں کی تحریریں دکھائی نہیں دیں گی۔
کیا وہ ماضی کے برعکس آج معیاری نہیں لکھتے ہیں؟


اُن لکھاریوں کو ذاتی عناد، رقابت یا پھر نظریاتی اختلاف پر غیراعلانیہ’ناقابل اشاعت‘ قرار دے کرتخلیقات شائع کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اورنہ صرف ایوارڈز بل کہ کانفرنسز میں بھی شرکت کے لیے مدعو نہیں کیا جاتا ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ ادیبوں اورادب کے فروغ کا دعوا کرنے والے ہی ایسا کر رہے ہیں۔


بقول ناصرمغل (صحافی):”ناقابل اشاعت صرف تحریر ہوتی ہے، لکھاری نہیں۔“


دل چسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں کسی تخلیق کار نے اِس چیز کو اْجاگر نہیں کیا ہے کہ قلم کار نہیں بل کہ تخلیقی مواد رکاوٹ کا شکار بنتا ہے۔ اہل قلم تو کہیں بھی مواد ارسال کرکے شائع ہو سکتے ہیں اورقارئین میں مقبول ہو سکتے ہیں۔ جو رسائل یا اخبارات کسی تخلیق کار کو ذاتی عناد کی بناء پر شائع کرنے سے گریز کرتے ہیں وہ نہ صرف قارئین سے محروم ہوتے ہیں بل کہ تشہیری اداروں سے بھی ہاتھ دھوتے ہیں کہ نا مناسب رویوں کی بھنک پڑنے پر وہ معاہدے ختم کرتے ہیں یوں رسالے یا اخبار کی سرکولیشن محدود ہو جاتی ہے اورپھر وہ آخری سانس لے کر دم توڑ دیتے ہیں۔

حقیقی تخلیق کار کا مواد جدھر شائع ہوگا، وہ قارئین کے دلوں پر راج کرے گا اوراْسے مقبولیت عطا کرے گا۔اگرمدیران تخلیق کاروں کو ٹھوس وجوہات کے بغیر قارئین سے دور رکھنے کے مجرمانہ فعل میں مبتلا ہوں گے تو وہ اپنے رسالے کی ساکھ کو مجروح کریں گے۔کسی مدیراعلیٰ یا مدیر کو اپنے ہاتھوں ساکھ مجروح نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ رسالے کو مقبول بنانے میں لکھنے والوں کا کردار زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
یاد رکھیے کہ تخلیق کار بہت کم ضمیر فروخت کرتے ہیں اور آزادی کی قیمت ادا کرتے ہیں۔


اگرآپ کو بطور تخلیق کار "ناقابل اشاعت" ٹھہرایا جائے تو آپ کا فرض ہے کہ اِس حوالے سے تفصیلات کو منظر عام پر رکھیں۔ جب آپ خاموش ہو جاتے ہیں تو مستقبل میں دوسرے تخلیق کاروں کے ساتھ بھی وہی ہوتا ہے جو آپ سہ چکے ہوتے ہیں۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ غیرمعیاری مواد پر ناقابل اشاعت ہونا الگ بات ہے اورنظریاتی اختلاف یا ذاتی عناد پر تحریر کو روکنا علیحدہ معاملہ ہے۔


اِس حوالے سے معتبرتخلیق کاروں کے تاثرات پیش خدمت ہیں۔

احمد اقبال (ناول نگار/مصنف) کے بقول ”وہ مدیر ہونے کااہل ہی نہیں جو تخلیقی معیار پر عقیدے کو فوقیت دے۔“

فاکہہ قمر (کہانی نویس، مدیرسہ ماہی باغیچہ اطفال) فرماتی ہیں:”ہر وہ ادیب جو اچھا لکھتا ہے، اُس کی تحریر کو شائع کرنا چاہیے نا کہ اپنے ذاتی عناد و نظریات کی بھینٹ ادب کو روندھ دیا جائے۔“

عامر معان (کہانی نویس، کالم نگار)کے بقول:”زمانے کا چلن یہی ہے۔ یہاں ادب و آداب سے زیادہ ذاتی پسند نا پسند پر عمل کیا جاتا ہے، اور یہ چلن اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ کوئی اِس پر شرمسار بھی نہیں ہے۔اگر مدیر سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مخالف نظریہ کو جگہ نہیں دے سکتا، تو غیر اعلانیہ کے بجائے اعلانیہ یہ بات اُس تخلیق کار کو واضح کر دے کہ اُن کی تخلیقات ناقابل اشاعت ہیں۔ وہ اُن مدیران سے رابطہ کریں جہاں ناقابل اشاعت پالیسی بوجہ نظریہ نہیں ہے۔“

عنیزہ عزیر(کہانی نویس):”صرف اِس لیے ہماری کہانی شائع نہیں کرتے کہ ہم نے اُس رسالے میں لکھا، جن سے اُن (مدیران) کی نہیں بنتی ہے۔“

محمد شاہد نسیم (کالم نویس) فرماتے ہیں:”ادب کی روح میں وسعت ہے، تنگ نظری نہیں۔ تخلیق کا میدان عدالت نہیں ہوتا جہاں فیصلے سنائے جائیں، بلکہ ایک ایسا باغ ہوتا ہے جہاں مختلف رنگوں کے پھول اپنی اپنی خوشبو کے ساتھ جگہ پاتے ہیں۔ اگر مدیر اپنی ذاتی فکر کو معیارِ قبولیت بنا لے تو رسالہ یا اخبار ادبی پلیٹ فارم نہیں رہتا، ذاتی حلقہ ارادت میں بدل جاتا ہے۔مدیر کا منصب نگہبان کا ہے، نگران کا ہے، سانس روکنے والے کا نہیں۔ اختلافِ رائے تو فکر کی نمو کا پہلا زینہ ہے۔ اگر ہر وہ آواز جو مختلف ہو، دروازے سے لوٹا دی جائے تو مکالمہ مر جاتا ہے اور ادب یک رنگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یک رنگی بظاہر سکون دیتی ہے، مگر تخلیقی اعتبار سے بانجھ ہوتی ہے۔ہاں، یہ ضرور ہے کہ مدیر کو ادارتی پالیسی کا حق حاصل ہے۔ وہ معیارِ زبان، اخلاقی حدود اور پیشکش کے اسلوب پر سوال اٹھا سکتا ہے۔ لیکن نظریاتی اختلاف کو بنیاد بنا کر کسی تخلیق کار کو غیر اعلانیہ بلیک لسٹ کر دینا دراصل ادارتی دیانت کے منافی ہے۔ اختلاف دلیل سے ہونا چاہیے، دروازہ بند کر کے نہیں۔ادب تاریخ میں ہمیشہ انہی اداروں اور مدیران کو عزت ملی جنہوں نے اپنے صفحات کو مکالمے کا میدان بنایا، نہ کہ نظریاتی چھلنی۔ بڑے مدیر وہ نہیں جو ہم خیال لکھاری جمع کریں، بلکہ وہ ہیں جو اختلاف کے باوجود معیار کو ترجیح دیں۔آخرکار، قلم کا اصل معیار اس کی فکری گہرائی اور فنی پختگی ہے، نہ کہ اس کا نظریاتی قبیلہ۔اسی لیے ادبی جواب یہی ہے:مدیر کو اختلاف کا حق ہے، مگر اختلاف کی بنیاد پر خاموشی مسلط کرنے کا نہیں۔ ادب دروازے بند کرنے سے نہیں، کھولنے سے زندہ رہتا ہے۔“


وجیہہ سجاد ہمدانی (کہانی نویس) لکھتی ہیں کہ”یہ چیز بہت عام دیکھی گئی ہے۔۔۔ اور سامنا بھی ہوا ہے۔۔ لیکن یہ غلط ہے۔“


محمد رمضان شاکر (کہانی نویس، شاعر) کہتے ہیں:”یہ الزام صرف مدیران پر ہی موقوف نہیں ہے۔بعض لکھاری بھی یہ حرکت کرتے پائے جاتے ہیں کہ فلاں کی تحریر شائع نہ کریں۔مدیران ان کے کہنے پر یہ جرم کر گزرتے ہیں۔“

بہرحال،جن کے قلم اور ضمیر بک جائیں اْن کے لکھے کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے اورقارئین کے دلوں سے بھی اتر جاتے ہیں۔پس ادب کو ادب رہنے دینا چاہیے اوراْسے ذاتیات کی جنگ نہیں بنانا چاہیے۔ تخلیق کاروں کو محدود کرنے سے ذہنی غلام نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ جو ایسا کرنے کے حامی ہیں وہ ادب کے فروغ کا دعوا کرسکتے ہیں لیکن حقیقی ادب دوست نہیں ہیں۔اختلاف نہ صرف زندگی بل کہ ادب کے فروغ کے لیے ضروری ہے لہذا اُسے ادیبوں کو منظرعام پر آنے سے روکنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا کرکے آپ ادب کی ترویج و ترقی کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر رسائل کے مدیران کا سوشل میڈیا پر بھی تخلیق کاروں کا بائیکاٹ دکھائی دیتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ادب کے فروغ کا دعوا کرنے والوں کا دل کتنا بڑا ہے۔

۔ختم شد۔

بشکریہ
روزنامہ معاشرت، ساہیوال
بتاریخ ٧ اپریل ٢٠٢٦
Zulfiqar Ali Bukhari
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 419 Articles with 631718 views I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More