حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ علم و عمل کا روشن مینار
(Muhammad Shoaib Ikram, Karachi)
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ علم و عمل کا روشن مینار از قلم: انجینئر علامہ محمد شعیب اکرام اختر القادری رضوی
|
|
برصغیر کی علمی و روحانی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں، جنہوں نے اپنے علم، تقویٰ اور خدمات کے ذریعے صدیوں تک یاد رہنے والا نقش چھوڑا۔ انہی عظیم ہستیوں میں ایک نمایاں نام حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری علیہ الرحمۃ کا ہے، جو اپنے زمانے کے عظیم فقیہ، محدث، مفتی اور عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ آپ کا اصل نام محمد اسماعیل رضا تھا جبکہ "اختر" آپ کا تخلص تھا، جس سے آپ علمی و ادبی حلقوں میں معروف ہوئے۔
آپ کی ولادت باسعادت 14 ذی قعدہ 1361ھ بمطابق 23 نومبر 1942ء کو ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی جو علم و فضل کا مرکز تھا۔ آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کے پڑپوتے تھے، اس لیے آپ کو وراثت میں علم و عشقِ رسول ﷺ کی دولت حاصل ہوئی۔
ابتدائی تعلیم آپ نے اپنی والدہ ماجدہ سے قرآن کریم ناظرہ پڑھ کر مکمل کی، جبکہ ابتدائی کتب اپنے والد مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خان علیہ الرحمۃ سے پڑھیں۔ بعد ازاں دارالعلوم منظر اسلام سے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ علمی تشنگی بجھانے کے لیے آپ جامعۃ الازہر مصر تشریف لے گئے، جہاں 1963ء میں داخلہ لیا اور تین سال تک تفسیر و حدیث کے ممتاز اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ 1966ء میں پورے مصر میں اول پوزیشن حاصل کرکے "جامعہ ازہر ایوارڈ" سے سرفراز ہوئے، جو آپ کی علمی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔
آپ کو بچپن ہی میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ کے دست پر بیعت کا شرف حاصل ہوا اور صرف 19 سال کی عمر میں خلافت و اجازت سے نوازے گئے اور کچھ عرصے بعد آپ کو جانشینی کا منصب بھی عطا ہوا۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ علم و فن کے بے مثال ماہر تھے۔ آپ کو 36 علوم و فنون پر مہارت حاصل تھی اور 15 زبانوں پر کامل عبور رکھتے تھے۔ قراءتِ عشرہ میں بھی آپ کو غیر معمولی مہارت حاصل تھی اور قرآن کریم کی تلاوت مصری لہجے میں نہایت دلنشیں انداز میں فرماتے تھے۔
عملی زندگی میں بھی آپ نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ دورانِ طالب علمی ہی آپ کو " جامع مسجد رضا" کی امامت و خطابت سونپ دی گئی، یہاں تک کہ خود حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ بھی آپ کی اقتداء میں نماز ادا فرماتے تھے۔ تدریس کا آغاز 1967ء میں کیا اور 1968ء میں فتویٰ نویسی کی عظیم ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی۔ آپ نے تقریباً 51 سال تک فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دی اور رضوی دارالافتاء کے صدر مفتی رہے۔
تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی آپ کی خدمات نہایت قابلِ قدر ہیں۔ آپ نے عربی، اردو اور انگلش زبانوں میں 61 سے زائد کتب تحریر فرمائیں۔ آپ کا نعتیہ کلام "سفینۂ بخشش" اور "نغماتِ اختر" اہلِ عشق کے دلوں میں خاص مقام رکھتا ہے۔ آپ کے فتاویٰ کے بارے میں اہلِ علم کا کہنا ہے کہ ان کا مطالعہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کی تحریروں کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔
آپ کی شخصیت کا اثر صرف برصغیر تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر میں آپ کے کثیر طلباء اور مریدین موجود ہیں اور کثیر خلفاء مختلف ممالک میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ 1983ء میں آپ کی نگرانی میں ماہنامہ "سنی دنیا" کا اجرا ہوا جو آج بھی علمی و دینی خدمات انجام دے رہا ہے۔
عالمی سطح پر بھی آپ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی نے دنیا کی 500 بااثر مسلم شخصیات میں آپ کو 28ویں نمبر پر شامل کیا، جو آپ کے اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہے۔
7 ذیقعدہ 1439ھ بمطابق 20 جولائی 2018ء کو یہ عظیم ہستی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ آپ کے وصال کی خبر سے پورا عالمِ اسلام غمزدہ ہوگیا۔ 22 جولائی 2018ء کو بریلی شریف میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں لاکھوں عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کی اور ایک تاریخی منظر دیکھنے میں آیا۔ آپ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کے مزار کے قریب سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج بھی عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کی زندگی علم، عمل، تقویٰ اور عشقِ رسول ﷺ کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
شعیب کو ہے فخر کہ دامن سے جا ملا اختر رضا کے ہاتھ سے فیضِ رضا ملا
|
|