مذہبی مضامین

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیائ والمرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

میت کے گھر کھانے کا اہتمام عصرحاضر کے تناظر میں
(شرکت جنازہ، تعزیت اوراہلِ میت وعام لوگوںکی ضیافت کا فقہی تجزیہ )

از.... مفتی محمد فیاض قاسمی، سمستی پوری
مصنف: ’’ریاضی ‘‘ و ’’رہبر انشا‘‘
ماہر مناسخہ وشریعہ ایڈوائزر، نیچروویدا ہیلتھ ورلڈ، کلکتہ،مغربی بنگال
Email- [email protected]

تمہید
موت ایک یقینی حقیقت ہے اور اسلام نے اس موقع پر صبر، سکون، سادگی اور اخلاص کی تعلیم دی ہے۔ تعزیت کا مقصد دل جوئی، تسلی اور غم گساری ہے، نہ کہ اظہارِ نمود و نمائش اور تکلف۔ لیکن عصرِ حاضر میں اکثر علاقوں میں یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے کہ میت کے اہل خانہ یا رشتہ دار جنازہ، تعزیت اور زیارت کے لیے آنے والوں کی خاطر بڑے پیمانے پر کھانے کا انتظام کرتے ہیں؛ کبھی اپنے خرچ سے، کبھی قرض لے کراور بعض اوقات میت کے ترکہ سے۔ مرد و خواتین اور بچوں کا اژدحام، کھانے پر اصرار اور اجتماعی ضیافت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے،حتیٰ کہ یہ مناظر شادی بیاہ کی تقریبات سے مشابہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس مقالے میں ہم اس رواج کا شرعی حکم قرآن و حدیث، فقہِ حنفی کے اصول اور معتبر کتبِ فتاویٰ کی روشنی میں تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اور موجودہ عرف و عادات کے تناظر میں رہنمائی کی گئی ہے۔
مسئلے کا تعارف اور معاشرتی پس منظر:
برصغیر کے بعض علاقوں میں تعزیت کو ضیافت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اہل میت پر نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے کہ اگر کھانا نہ کھلایا تو‘‘کمی’’رہ گئی؛ نتیجتاً کمزور گھرانے بھی قرض لے کر انتظام کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اہلِ میت کے لیے مشقت اور تکلیف کا باعث بنتا ہے ،بلکہ شریعت کی اس روح کے خلاف بھی ہے جو مصیبت کے وقت تخفیف، تعاون اور سادگی کی تعلیم دیتی ہے۔لہذاموضوع کی حساسیت کے پیش نظر مجموعی طور پر اس کے تین حصے کیے جارہے ہیںتاکہ مسئلہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو اور حکم شرعی واضح ہوجائے: (۱) میت کے گھروالوں یا قریبی رشتہ داروں کا اس غم کے موقع پر خود اپنے اہل خانہ و اعزہ کے لیے کھانا بنانا ۔(۲) تعزیت اور تکفین و تدفین وغیرہ میں شریک ہونے والے قریبی یا سسرالی رشتہ دار یا انتہائی مخلص دوست واحباب یا دور درازسے آئے ہوئے رشتہ دار یا عام لوگ جو میت کے یہاں شب گزاری کرنے والے نہ ہوں یاانتظاماً یا مصلحتایا مجبوراًانھیں ٹھہرنا پڑے، ان کے لیے اہل میت یا رشتہ داروں کی جانب سے کھانے کا انتظام کرنا۔ (۳)شریک ہونے والے قریب وبعید کے خاص و عام لوگ جو اسی دن واپس لوٹ جائیں گے؛ ان کے لیے معاشرتی نظام یا رواج کے زیر اثر اپنی رقم سے یا قرض لے کر اہل میت یا رشتہ داروں یا اہل محلہ کا باضابطہ کھانے کا انتظام کرنا اور لوگوں کا اس کھانے میں بلاجھجھک شریک ہونا۔ان تمام جزئیات کو بالترتیب سمجھیں۔
اسلامی تعلیم اور روح شریعت :
(۱) اسلام نے وفات کے موقع پر ہمدردی، تسلی اور تعاون کی تعلیم دی ہے، نہ کہ غم زدہ گھرانے پر بوجھ ڈالنے کی۔لہذا جس گھر میں میت ہوجائے ان کے ہمسایوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لیے مستحب بلکہ مسنون اور باعث اجر و ثواب یہ ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں اور خود ساتھ بیٹھ کر، اصرار کر کے ان کو کھلائیںاور ضرورت ہو توان دو وقتوں سے زائد دنوں میں بھی کھانا کھلائے۔ اہلِ میت کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں کہ میت کے گھر میںیا میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا ممنوع ہے؛ بلکہ اس وجہ سے ہوکہ غم و حزن اور تکفین وتدفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا۔اس کے برعکس اگر میت کے گھر والے اپنی سہولت کے مطابق خود اپنے اور اعزہ کے لیے کھانا بنائیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے اورنہ ہی اسے خلاف غم وحزن یامعیوب سمجھا جائے گا ۔
جب جنگ موتہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی، تو رسول اللہ ﷺنے لوگوں سے فرمایا ’’اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَر طَعَامًا، فَقَدْ أَتَاہُمْ مَا یَشْغَلُہُم۔‘‘ کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، اس لیے کہ ان کو ایسا امر لاحق ہوا ہے جو ان کو مشغول کردے گا (یعنی جعفر کی شہادت کی خبر سن کر صدمہ اور رنج میں مشغول ہوکر انھیںکھانے پینے کے انتظام کی خبر نہیں رہے گی)۔
اسی طرح صحیح بخاری ومسلم میں ہے: عَنْ عَاءِشَۃَ، زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّہَاکانت إِذَا مَاتَ المَیِّتُ مِنْ أَہْلِہَا، فَاجْتَمَعَ لِذَلِکَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَہْلَہَا وَ خَاصَّتَہَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَۃٍ مِنْ تَلْبِینَۃٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِیدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِینَۃُ عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَتْ: کُلْنَ مِنْہَا، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: التَّلْبِینَۃُ مُجِمَّۃٌ لِفُؤَادِ المَرِیضِ، تَذْہَبُ بِبَعْضِ الحُزْنِ۔(کتاب الطب باب التلبینہ) ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں، صرف گھروالے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں ’’تلبینہ‘‘ پکانے کا حکم دیتیں، وہ پکایا جاتا، پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا، پھر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ؛ کیوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: ’’تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے۔‘‘ اس حدیث میں جہاں میت کے اہل خانہ کے لیے حضرت عائشہؓ کے ذریعہ کھانا بنوانے کا ثبوت ہے، وہیں یہ بھی واضح ہے کہ حضرت عائشہ نے میت میں شریک ہونے والی سبھی عام عورتوں کے لیے کھانا نہیں بنوایا، بلکہ ان کے چلے جانے کا انتظار کیا اور جوخاص قریبی عورتیں رہ گئی تھی ان کے لیے مع اہل میت کے کھانے کا اہتمام کروایا۔
فتاویٰ شامی میں ہے (قولہ: وباتخاذ طعام لہم) قال فی الفتح: ویستحب لجیران أہل المیت والأقربائ الأباعد تہیئۃ طعام لہم یشبعہم یومہم ولیلتہم، لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جائہم ما یشغلہم‘‘۔ حسنہ الترمذی وصححہ الحاکم؛ ولأنہ بِرٌ ومعروف، ویلح علیہم فی الأکل؛ لأن الحزن یمنعہم من ذلک فیضعفون۔
(۲) تعزیت اور تکفین وتدفین کے لیے شریک ہونے والے افراد خواہ مرد وعورت ہوں یا جوان،بوڑھے یا بچے ہوں؛ ان کے لیے فوتگی کے کھانے میں شرکت اور عدم شرکت کو ذرا دوشقوں میں کرکے اس طرح تفصیل سے سمجھیں کہ(الف) فوتگی کا گاؤں دیہات جہاں نہ کوئی ہوٹل نہ دکان وغیرہ، نہ کھانے پینے کی کوئی سہولت دستیاب ہو؛ بلکہ وہاں صرف کسی کے گھر سے مانگ کر ہی کھایا سکتا ہے یا پھر بھوکارہنا پڑے یا اگر اس علاقے میں آنے والے شخص کے رشتہ دار ہوں تو ان کے گھرکھائے ورنہ بھوکا رہے؛تو ایسے دیہاتوں میں فوتگی کے موقع پر دور دراز کے علاقوں سے جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے لوگوں کے لیے مذکورہ بالا عدم سہولیات کے پیش نظر اہل میت یا رشتہ دار یا پڑوسی یا محلے والوں کی طرف سے کھانا پکانا اور کھلانا جائز ہے؛خواہ وہ رکنے والے ہوں یا واپس لوٹ جانے والے ہوں۔(ب) لیکن فوتگی کا محلہ و علاقہ ایسا ہو جہاں کھانے پینے کی سہولت تو میسر ہو، مگر جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والے میت کے قریبی رشتہ دار یا احباب ہوں جو دوردراز کے علاقوں اور مختلف شہروں سے آتے ہیں اور وہ فوراً واپس نہیں جا سکتے اور میت سے خصوصی تعلق و رشتہ داری کی وجہ سے ان کا فورا ًواپس چلے جانا مناسب بھی نہیں ہوتااور انھیں مجبوراً رک جانا پڑتا ہو، تو ان کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ فوتگی کے کھانے سے گریز کریں، لیکن اگرچاہیں تو شریک بھی ہوسکتے ہیں؛ ان کے لیے کوئی کراہت نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’ویَحِلُ(الطعام) للذین یطولُ مقامہم عندہ و للذی یَجیئ من مکان بعیدٍ یستوی فیہ الاغنیائ والفقرائ ولا یجوز للذی لا یطول مسافتہ ولا مقامہ.‘‘ترجمہ: یہ کھانا ان لوگوں کے لیے جائز ہے جو دیر تک ٹھہرنے والے ہوں اور جو دور دراز علاقہ سے آئے ہوئے ہوں،چاہے وہ مالدار ہوں یا غریب۔البتہ ان کے لیے درست نہیں جو نہ ٹھہرنے والے ہوں اور نہ ہی دور علاقہ سے آئے ہوں۔
اقوال رسول ؐ اورصحابہؓ کا تعامل:
(۳) قرض لے کر کھانے کا انتظام تو قطعاً جائز نہیں اور بلا قرض کے بھی مکروہ ہے اور جانبین یعنی اہل میت اور شرکت کرنے والے قریب وبعید کے عام لوگ، جنھیں مجبوراً ٹھہرنا نہ پڑے ؛ دونوں کو اس سے بچنا لازم ہے۔ ان کے لیے کھانا بنوانا اور ایسے لوگوں کا کھانے میںشریک ہونا یا زبردستی انھیں شریک کرنا شرعا درست نہیں؛ بلکہ قابل ترک عمل ہے۔یہاں تک کہ اس رواج کوختم کرنا معاشرہ کے دینی طبقہ اور اہل علم و ائمہ و مصلحین کے اوپر لازم ہے۔اگر اس پر نکیر نہ کی گئی اور اسے ختم نہ کیا گیا تو ’’سنت سیئہ ‘‘کے ارتکاب کی بنیاد پر سب گنہ گار ہوں گے۔’’ مَن سَنَّ فی الاسلام سنۃً سیئۃ کان علیہ وِزرُھا و وَزرُمَن عمِل بھا،الخ‘‘(مسلم،کتاب الزکاۃ)۔ترجمہ: جو شخص دینی امور اور اسلامی معامالات میںکسی غلط یا برے طریقہ کو قائم کرے گا، تو اس کا گناہ اس پر لازم ہوگا اور جو اس کے ایجاد کردہ طریقہ پر عمل کرے گا تو اس کا بھی گناہ اُس قائم کرنے والے شخص کو ہوگا۔
حضرت ابوسعید ؓ کی روایت کے مطابق’’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ‘‘ ۔ہے ۔ترجمہ: آپﷺ نے فرمایانہ خود نقصان اٹھاؤ ، نہ دوسرے کو پہنچاؤ۔ (موطأ امام مالک، ابن ماجہ)۔حضرت جریر بن عبداللہ بجلیؓ فرماتے ہیں:’’کُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ اِلی أَہْلِ الْمَیِّتِ وَصَنِیعَۃَ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِہِ مِنَ النِّیَاحَۃِ‘‘(سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز)ترجمہ: ہم (صحابہ) میت کے گھر جمع ہونے اور تدفین کے بعد وہاں کھانا تیار کرنے کو نوحہ (ناجائز رسم) میں شمار کرتے تھے۔گویاصحابہؓ کے نزدیک میت کے گھر کھانے کا اہتمام کرنا ناپسندیدہ اور جاہلیت کی رسم کے مشابہ تھا۔
فقہی اصول اور تصریحات ائمہ:
فقہی قاعدہ ہے ’’الضَّرَرُ یُزَالُ‘‘(ضرر کو دور کیا جاتا ہے)۔ لہذا میت کے گھر والوں پر مالی بوجھ ڈالنا، قرض میں ڈالنا، یا معاشرتی دباؤ کے تحت کھانے کا انتظام کروانا صریح ضرر ہے، جو شریعت کے خلاف ہے۔اس سلسلہ میں امام نوویؒ (شافعی)کہتے ہیں:’’وَأَمَّا صَنِیعَۃُ أَہْلِ الْمَیِّتِ الطَّعَامَ لِلنَّاسِ فَہُوَ مَکْرُوہٌ؛ لِأَنَّہُ اِحْدَاثُ شُغْلٍ لَہُم‘‘۔(شرح النووی علی مسلم)ترجمہ: میت کے گھر والوں کا لوگوں کے لیے کھانا تیار کرنا مکروہ ہے، کیونکہ یہ ان پر ایک نیا بوجھ ڈالنا ہے۔علامہ ابن قدامہؒ (حنبلی)کہتے ہیں:’’وَیُکْرَہُ صُنْعُ الطَّعَامِ مِنْ قِبَلِ أَہْلِ الْمَیِّتِ لِلنَّاسِ؛ لِأَنَّہُ زِیَادَۃٌ فِی مُصِیبَتِہِمْ‘‘۔(المغنی، ابن قدامہ) ترجمہ: میت کے گھر والوں کا لوگوں کے لیے کھانا بنانا مکروہ ہے، کیونکہ یہ ان کی مصیبت میں اضافہ ہے۔ فقہ حنفی کی کتاب فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’وَیُکْرَہُ اتِّخَاذُ الطَّعَامِ مِنْ قِبَلِ أَہْلِ الْمَیِّتِ لِلنَّاسِ‘‘۔(الفتاوی الہندیہ، کتاب الکراہیۃ)ترجمہ: میت کے گھر والوں کا لوگوں کے لیے کھانا تیار کرنا مکروہ ہے۔
برصغیر کے معتمد دارالافتائ کے فتاویٰ:
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے:’’میت کے گھر کھانا پکانا اور لوگوں کو کھلانا درست نہیں، بلکہ سنت کے خلاف اور مکروہ ہے۔ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ اہلِ میت کے لیے کھانا بھیجیں۔‘‘دارالافتائ ندوۃ العلماء الکھنؤ): ’’اہلِ میت کا تعزیت کرنے والوں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا خلافِ سنت اور قابلِ ترک رسم ہے‘‘۔مفتی محمد تقی عثمانی صاحب (پاکستان):’’میت کے گھر والوں پر کھانے کا بوجھ ڈالنا شریعت کے خلاف ہے۔ یہ رسم ترک کرنا واجب کے قریب ہے‘‘۔(فتاویٰ عثمانی)۔دارالافتائ جامعہ بنوری ٹاؤن، کراچی:’’تعزیت کے موقع پر میت کے گھر دعوت کا اہتمام کرنا بدعت اور مکروہِ تحریمی کے قریب ہے‘‘۔
بہرحال ایسے موقع پربلا استثنائ لوگوں کے لیے کھانا تیار کرنا، ان کو دعوتوں کی طرح کھانا کھلانا یا انہیں کھانے پر مجبور کرنا یا دعوت عام کی منادی کرنا تکلیف مالایطاق ہے۔یہ طریقہ اصحاب ثروت نے شروع کیا ہے جن کے لیے چند دیگیں پکا لینا کوئی مشکل امرنہیں؛مگر اس رواج نے کم وسائل والے لوگوں کےلئے مشکلات پیدا کردیا ہے۔فتح القدیرمیں ہے: ویُکرَہُ اِتِّخاذُ الضیافۃ من الطعام من أہل المیت لأنہ شرع فی السرور لا فی الشرور، وہی بِدعَۃ مُستقبحۃ۔قالَ الطیبی: وفیہ أنَّ مَن أصرّ علی مندوب، وجعلہ عزمًا، ولم یعمل بالرخصۃ، فقد أصاب منہ الشیطان من الاضلال فکیف من أصرّ علی بدعۃٍ أو منکرٍ؟.(مرقاۃ المفاتیح لملا علی القاری)۔طیبیؒ کہتے ہیں’’اس بات میںیہ نکتہ ہے کہ جو شخص کسی مستحب (نفل یا پسندیدہ) عمل پر اس طرح جم جائے کہ اسے لازم اور پختہ بنا لے، اور شریعت کی دی ہوئی رخصت کو قبول نہ کرے، تو شیطان اس کو گمراہ کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتا ہے۔ پھر سوچو کہ اس شخص کا کیا حال ہوگا جو کسی بدعت یا برے کام پر اصرار کرے۔
جامع اور متوازن نتیجہ:
بنا بریںمندرجہ بالا نصوصِ قرآن، احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہ، فقہی تصریحات اور برصغیر کے معتمد دارالافتائ کے فتاویٰ کی روشنی میں واضح اور دو ٹوک حکم یہ ہے کہ وفات کے موقع پر اہلِ میت کا کھانا بنوانا، لوگوں کو کھلانا، دعوتی انداز اختیار کرنا، قرض لے کر یہ رسم نبھانااور اس میں مرد و خواتین و بچوں کا اژدحام کرنا؛یہ سب خلافِ سنت، مکروہ اور قابلِ ترک اعمال ہیں۔سنت یہ ہے کہ لوگ اہلِ میت کے لیے کھانا لے کر جائیں، نہ کہ اہلِ میت لوگوں کو کھلائیں۔ اس موقع پر تمام شرکائے جنازہ کےلئے دعوت عام کا اہتمام کرنا قابل اصلاح ہے، کھانے کا یہ انتظام ضرورتاً صرف قریبی اعزہ کےلئے ہونا چاہیے۔دوسروں کے لیے نہ قطعاً اس کا اہتمام کیا جائے،نہ دوسرے لوگ اس میں شریک ہوں۔کیوں کہ یہ مسئلہ محض ایک رسم کا نہیں، بلکہ شریعت کے مزاج اور امت کے اخلاقی ڈھانچے کا ہے۔ اگر ہم نے اس موقع پر بھی دنیا داری، نمائش اور رسم پرستی کو ترجیح دی تو آہستہ آہستہ سنت مٹتی چلی جائے گی۔
علماء اور ذمہ دارانِ ملت کی ذمہ داری:
اسلام نے غم کے موقع پر سادگی، اخلاص اور تعاون کا درس دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے کو غیر شرعی رسومات سے پاک کریں اور سنتِ نبوی ﷺ کو زندہ کریں۔لہٰذا ضروری ہے کہ علمائ آواز اٹھائیں،عوام سمجھیںاور یہ غلط رواج ختم کیا جائے۔اس لیے علمائ کرام پر لازم ہے کہ منبر و محراب سے تعلیم دیں کہ سنت کیا ہے اور بدعت کیا ہے۔عملی نمونہ قائم کریں کہ تعزیت مختصر اور سادہ ہو۔اہلِ میت کو روکتے رہیں کہ وہ کھانے کا اہتمام نہ کریں۔ لو گوں کو ترغیب دیں کہ وہ اہلِ میت کے لیے کھانا بھیجیں،نہ کہ خود ان کے یہاں جاکر کھائیں۔
× × ×

 

Mufti Mohammad Faiyaz Qasmi
About the Author: Mufti Mohammad Faiyaz Qasmi Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.