مسافتوں کے غبار میں ، ہجرتوں کے فشار میں
(رعنا تبسم پاشا, Dallas, USA)
لیڈی ڈاکٹر کے پاس بیٹھی ایک انتہائی پژمردہ نڈھال کئی طرح کے عوارض سے بے حال مریضہ نے اس کے بہت پوچھنے پر بتایا کہ شادی کو چوبیس سال ہو چکے ہیں اور وہ اپنے خوب چاق و چوبند تازہ دم ساس سسر کے زیر سایہ پروان پانے والے ایک با برکت جوائنٹ فیملی سسٹم کی بڑی بہو ہے ۔ شوہر سعودی عرب میں کسی پیٹرو کیمیکل کمپنی میں ویلڈر ہےاور ہر سال دو مہینے کے لئے آتا ہے اس طرح چوبیس برسوں میں وہ کل چار سال اپنے شوہر کے ساتھ رہی ہے بیس سال جدائی اور تنہائی کے کاٹے ہیں پورے خاندان کی خادمہ بن کے ۔ تیئیس برس کا ایک بیٹا ہے جس نے اپنی زندگی کے کُل تین برس اپنے باپ کے ساتھ گزارے ہیں اور بیس برس اس کے بغیر رہا ہے تاکہ باقی سب ایکدوسرے کے ساتھ خوش رہیں ۔ اور ابھی بھی کچھ پتہ نہیں کہ زندگی کے اور کتنے برس یونہی تنہائیوں اور جدائیوں کی نذر ہو جائیں گے سب کے بخت سنوارتے ہوئے ۔ ویسے بھی اوور سیز جب چھٹی آتے ہیں تو سارا خاندان بس ان کے ارد گرد منڈلاتا رہتا ہے ان کے وقت پر بھی اپنا حق جتاتا ہے ، خود اپنی منکوحہ کے ساتھ کچھ کوالٹی ٹائم گزار لینا ان کو نصیب ہی نہیں ہوتا کوئی پرائیویسی نہیں ہوتی ۔ ایسی ہی دو چار نہیں ہزاروں کہانیاں ہیں ہزاروں نکاح یافتہ جوڑے اپنی پوری جوانی سالانہ ایک ماہ کی اوسط سے تک ایکدوسرے کے ساتھ نہیں رہے ہوتے ۔ پردیس کی کمائی میں کچھ ایسی ہی تاثیر ہوتی ہے کہ جب وطن میں بیٹھ کر کھانے والوں کو ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر مال مفت کی طرح ملتی ہے تو خون کے رشتے خون چوسنے والی جونکیں بن جاتے ہیں جن کا کسی رحم یا شرم سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔ اور پردیسی بکرا ساری عمر انہیں خود اپنی فیملی لائف کی قیمت پر خوش رکھنے کی کوششوں میں گزار دیتا ہے ۔ عمر اور صحت کی پونجی گنوا کر جب خالی ہاتھ واپس آتا ہے تو اس کی دو کوڑی کی اوقات نہیں ہوتی ۔ واپسی پر پردیس کی کمائی سے بنائی گئی جائیداد کے کاغذات ابا کے نام پر ہونے کی وجہ سے تمام بہن بھائی اس میں برابر کے حصے دار اور اس قربانی کے بکرے کے حصے میں ناراض نافرمان اولاد اور وقت سے پہلے بوڑھی ہو جانے والی چڑچڑی بیوی ۔ بیوی بچوں کو اپنی رفاقت سے محروم رکھنا انہیں وقت نہ دینا وسائل کی درست تقسیم نہ کرنا ایک بہت بھاری خسارہ ہے جس کا خمیازہ تقریباً ہر پردیسی کو اپنے بڑھاپے میں بھگتنا پڑتا ہے ۔ اس ظلم کا کب خاتمہ ہو گا پردیسیوں کو عقل کب آئے گی؟ ان کی سادگی اور فرمانبرداری کا نا جائز فائدہ اٹھانے والے خود اپنے خون کے رشتوں میں کب خدا کا خوف پیدا ہو گا؟ اگر پورے پریوار کو طفیلیے ہی بن کر جینے کا شوق ہو تو اس قربانی کے بکرے کو ساری عمر کنوارا رکھو کبھی اس کی شادی نہ کرو ۔ مگر دنیا دکھاوا بھی کرنا ہوتا ہے رسم بھی نبھانی ہوتی ہے تو بیٹی کے بوجھ سے بیزار اور اس کے لئے باہر کی کمائی کے تصور سے سرشار ایسے نادان انہیں مل ہی جاتے ہیں جنہیں ان کی بیٹی باہر شوہر کے پاس بھجوانے کا جھانسہ بھی دیا جاتا ہے ۔ سو میں سے بمشکل پانچ لوگ ہوتے ہیں جو بیوی کو ساتھ باہر لے جاتے ہیں باقی سب شادی کے وقت جو کہتے ہیں کہ ہم باہر پاس بلوا لیں گے وہ مطلق جھوٹ بولتے ہیں ۔ لیبر کلاس کا تو خیر ذکر ہی کیا؟ اوور سیز سے بیاہی جانے والی ہر دس میں سے نو لڑکی شوہر کے بغیر سسرال والوں کی نوکرانی بن کر زندگی گزارتی ہے ۔ باہر کے لالچ میں کبھی بیٹی کی شادی نہ کرو کسی مقامی غریب سے بیاہ دو اور بیٹی کو صبر و شکر کے ساتھ گزارہ کرنے کی تعلیم دو مگر کسی پردیسی کے پلے نہ باندھو ۔ ایک نام نہاد سہاگن روز جیتی ہے روز مرتی ہے یہ کوئی نہیں سمجھتا ۔ بڑھاپے میں بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے مگر جوانی میں ایمان کا امتحان ہوتا ہے ایک جنگ ہوتی ہے جو اپنے آپ سے لڑنی پڑتی ہے ۔ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ ایک نکاح یافتہ جوڑا اپنی پوری جوانی اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے گزار دیتا ہے ۔ جن کی کبھی شادی نہیں ہوتی وہ صبر کی سل اپنے سینے پر رکھ کر عمر گزار دیتے ہیں دنیا ختم نہیں ہو جاتی مگر خانہ آبادی کے نام پر جو بربادی ہوتی ہے اس کو صبر و شکر کے ساتھ سہنا آسان نہیں ہوتا ۔ محرومیوں اور قربانیوں کا سفر ہوتا ہے جس میں دشوار گزار راستوں اور خارزاروں میں تنہا چلتے چلتے پیر ہی نہیں دل بھی زخمی ہو جاتا ہے ۔
✍🏻 رعنا تبسم پاشا |
|