اندھی محبت کا سراب کہانی کار: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
|
اندھی محبت کا سراب کہانی کار: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار |
|
اندھی محبت کا سراب کہانی کار: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
فائزہ اور عالیہ جب اپنے چھوٹے سے روایتی قصبے کی محدودات کو چھوڑ کر فیصل آباد آئیں، تو ان کی آنکھوں میں اعلیٰ تعلیم کے روشن اور سنہرے خواب رقصاں تھے۔ دونوں بچپن کی سہیلیاں تھیں، جن کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا، مگر محبت گہری تھی۔ فیصل آباد کی مصروف اور تیز رفتار زندگی ان کے لیے بالکل نئی تھی۔ انہوں نے ایک پرائیویٹ گرلز ہاسٹل میں ایک ہی کمرہ لیا اور بی ایس (BS) کی پڑھائی میں مگن ہو گئیں۔ دن بھر یونیورسٹی کے لیکچرز، اسائنمنٹس اور ہاسٹل کی چاردیواری کی بندشوں سے جب دل گھبرانے لگتا، تو وہ ذہنی سکون کے لیے روزانہ شام کو قریبی عوامی پارک میں سیر کے لیے نکل جاتیں۔ وہ شامیں دونوں سہیلیوں کے قہقہوں، ہنسی مذاق اور مستقبل کے خوبصورت منصوبوں سے بھرپور ہوتی تھیں۔ فائزہ کا خواب ایک کامیاب پروفیسر بننا تھا، جبکہ عالیہ زندگی کو کھل کر جینے کی قائل اور تھوڑی رومان پسند طبیعت کی مالک تھی۔ پھر ایک شام، ان کے اس پرسکون معمول میں طلحہ نامی نوجوان کا داخلہ ہوا۔ پارک کے ایک کونے میں بنے بنچ پر بیٹھے اس خوش پوشاک اور خوش گفتار لڑکے سے ایک دن اتفاقاً کتاب گرنے کے بہانے علیک سلیک ہوئی۔ طلحہ نے پہلی ہی ملاقات میں اپنی لفاظی اور سحر انگیز شخصیت کا ایسا تاثر چھوڑا کہ عالیہ کا دل دھڑک اٹھا۔ یہ علیک سلیک آہستہ آہستہ روزانہ کی طویل ملاقاتوں اور گھنٹوں کے تبادلۂ خیال میں بدل گئی۔ عالیہ رفتہ رفتہ اس کے سحر میں گرفتار ہونے لگی۔ فائزہ، جو ایک سلجھی ہوئی، سنجیدہ اور دور اندیش لڑکی تھی، اس نے محسوس کر لیا کہ عالیہ پڑھائی سے غافل ہو رہی ہے اور اس کی دوستی اب جائز حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ ایک رات، ہاسٹل کے کمرے میں جب عالیہ موبائل پر طلحہ سے میسجز پر ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی، تو فائزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انتہائی مخلصانہ لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی: "عالیہ! میری جان، جذبات کی رو میں اتنا آگے مت بہو۔ ہم یہاں اپنے غریب والدین کے خواب پورے کرنے اور پڑھنے آئی ہیں، کسی نادیدہ امتحان میں اپنی عزت اور مستقبل ہارنے نہیں آئی۔ یہ شہر جتنا بڑا ہے، یہاں کے سراب اتنے ہی گہرے ہیں برائے مہربانی سنبھل جاؤ۔" مگر عالیہ پر اس وقت اندھی محبت کا بھوت سوار تھا۔ اس نے تیکھی نظروں سے فائزہ کو دیکھا اور تلخی سے بولی: "تم میری خوشی سے جلتی ہو فائزہ! طلحہ کوئی عام لڑکا نہیں ہے، وہ مجھ سے سچی محبت کرتا ہے اور ہم جلد شادی کرنے والے ہیں۔" جب فائزہ نے دیکھا کہ عالیہ اب اس کی مخلصانہ نصیحتوں کو حسد اور بوجھ سمجھنے لگی ہے، تو وہ افسوس کر کے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ گئی اور خود کو صرف اپنی پڑھائی اور کتابوں تک محدود کر لیا۔ درمیانی حصہ: سراب کا جال، گناہ کی دلدل اور بلیک میلنگ کا کرب اب عالیہ کو دنیا میں طلحہ کے سوا کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ وہ محبت کے اس سراب میں اس قدر اندھی اور ذہنی طور پر مفلوج ہو چکی تھی کہ صحیح اور غلط، جائز اور ناجائز کی تمیز کھو بیٹھی۔ یونیورسٹی کے بنک مارنا اور ہاسٹل سے جھوٹ بول کر نکلنا اب اس کا روز کا معمول بن گیا تھا۔ طلحہ ایک عیار شکاری کی طرح اپنے جال کو مزید تنگ کر رہا تھا۔ اس نے عالیہ کو یقین دلایا کہ جب وہ ایک دوسرے کے ہو ہی چکے ہیں، تو پھر کیسی بندشیں؟ طلحہ کے اصرار، جذباتی بلیک میلنگ اور محبت کے جھوٹے، کھوکھلے دعوؤں کے جال میں پھنس کر عالیہ نے اخلاقی حدود کو پامال کرنا شروع کر دیا۔ وہ ہاسٹل کی وارڈن سے نظریں بچا کر، سہیلیوں سے جھوٹ بول کر شہر کے نامعلوم ہوٹلوں کے بند کمروں تک جانے لگی، جہاں انہوں نے کئی راتیں شب بسری میں گزاریں۔ جنون کی حدوں کو چھوتی اس اندھی محبت میں، عالیہ کی عقل پر ایسا پردہ پڑا کہ جب طلحہ نے "محبت کی یادگار" کے نام پر موبائل سے ان کے نازیبا لمحات کی تصویریں اور ویڈیوز بنانا شروع کیں، تو عالیہ نے احتجاج بھی نہ کیا۔ اسے گماں بھی نہ تھا کہ جن لمحوں کو وہ پاکیزہ محبت کی نشانی سمجھ رہی ہے، وہ دراصل اس کی زندگی، عزت اور خاندان کی تباہی کا ہولناک سامان بن رہے ہیں۔ وقت نے کروٹ بدلی، اور محبت کا یہ جھوٹا، سحر انگیز جادو اس وقت یکسر ٹوٹ گیا جب ایک دن کسی معمولی بات پر دونوں کے درمیان فون پر ناراضگی ہو گئی۔ عالیہ نے جب مانگنے کے انداز میں طلحہ سے شادی کا تذکرہ کیا، تو طلحہ کا لہجہ یکسر بدل گیا۔ اس کی آواز میں وہ پرانی مٹھاس غائب تھی اور اس کی جگہ ایک سفاک درندے نے لے لی تھی۔ اگلے دن جب وہ پارک کے اسی اندھیرے گوشے میں ملے، تو طلحہ نے انتہائی سرد اور وحشیانہ لہجے میں اپنے موبائل کی سکرین عالیہ کے چہرے کے سامنے لاتے ہوئے کہا: "دیکھو عالیہ! اب وہ پرانے قصے بھول جاؤ۔ اگر تم اب مجھ سے ملنے نہیں آؤ گی، یا جو میں کہوں گا وہ بات نہیں مانو گی، تو یہ گندی تصویریں اور ویڈیوز تمہارے والدین، تمہارے قصبے کے لوگوں اور سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا۔ میرے پاس تمہیں اپنے قابو میں رکھنے کا اور اپنی خواہشات پوری کرنے کا یہی ایک بہترین ذریعہ ہے!" یہ سننا تھا کہ عالیہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا اور چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ وہ گھٹنوں کے بل پارک کی مٹی پر بیٹھ گئی، گڑگڑائی، روئی، اور سہم کر کانپتی ہوئی آواز میں بولی: "طلحہ! کیا پیار میں تم نے یہ تصویریں ان گھٹیا مقاصد کے لیے بنائی تھیں؟ خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو، میرے بوڑھے باپ کی پگڑی اچھل جائے گی۔ ٹھیک ہے... تم میری تصویریں وائرل نہ کرنا، میں تمہارے ساتھ تعلقات بحال رکھوں گی، جیسا کہو گے کروں گی، بس مجھے برباد مت کرو۔" عالیہ ہاسٹل کے کمرے میں لوٹ آئی، مگر اب وہ عالیہ نہیں تھی، بلکہ ایک زندہ لاش بن چکی تھی۔ وہ شدید ذہنی اذیت، اندرونی کرب اور ایک ایسے خوف کا شکار تھی جو اسے اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا۔ وہ رات بھر بستر پر تڑپتی، ہاسٹل کے پنکھے کو دیکھ کر کبھی کبھی اس کا جی چاہتا کہ وہ دوپٹے کا پھندا ڈال کر یا چھت سے کود کر اپنی جان دے دے، کیونکہ اس کے نزدیک اس روز روز کی ذلت آمیز زندگی اور بلیک میلنگ سے موت کہیں بہتر تھی۔ مگر موت کے خیال کے ساتھ ہی اسے اپنے بوڑھے والدین کا چہرہ یاد آ جاتا۔ وہ چاہ کر بھی نہ فائزہ کو یہ سچ بتا سکتی تھی، نہ اپنے گھر والوں کو، اور نہ ہی پولیس کی مدد لے سکتی تھی؛ اسے ہر پل یہی خوف مارے جا رہا تھا کہ یہ بدنامی معاشرے میں کیسے چھپے گی؟ سوسائٹی کیا کہے گی؟ رشتہ دار کیا طعنے دیں گے؟ اور اس کے معصوم والدین اس صدمے کو کیسے جھیل پائیں گے؟ طلحہ اب اسے بار بار نئے ہوٹلوں میں بلانے کے لیے میسجز کر رہا تھا اور عالیہ کی روح ہر میسج پر کانپ اٹھتی تھی۔ کئی راتیں بغیر سوئے، آنسو بہا کر گزارنے کے بعد، ایک رات عالیہ کے ذہن میں ایک لرزہ خیز، ہولناک مگر حتمی تجویز آئی۔ اس کی آنکھوں کے آنسو خشک ہو چکے تھے اور ان کی جگہ ایک سرد انتقام نے لے لی تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اس بلیک میلر درندے سے جان چھڑانے کا اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ اسے اسی پیار کے جال میں واپس پھنسا کر ہمیشہ کے لیے ٹھکانے لگا دیا جائے، تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ اس نے اپنے اس خونی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اگلی شام طلحہ کو فون کیا اور بڑے نرم لہجے میں اسی پبلک پارک میں رات کے وقت ملنے کے لیے بلوایا جہاں ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ عالیہ نے اپنے ایک انتہائی قابلِ اعتماد رشتہ دار لڑکے کو (جسے اس نے پورا سچ تو نہیں بتایا تھا، لیکن یہ کہہ کر اپنی مجبوری اور بلیک میلنگ کا کچھ حصہ بتایا تھا کہ ایک لڑکا اسے تنگ کر رہا ہے اور اسے ڈرانا ضروری ہے) اپنے ساتھ بائیک پر چلنے کے لیے تیار کیا۔ رات کے اندھیرے میں، عالیہ نے کالے رنگ کا عبایا پہنا، اپنا چہرہ نقاب سے چھپایا اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر پارک پہنچ گئی۔ پارک کے ایک سنسان اور اندھیرے گوشے میں، درختوں کی اوٹ میں طلحہ پہلے سے موجود تھا اور اپنی ہونے والی مادی اور جسمانی کامیابی پر خبیثانہ مسکراہٹ کے ساتھ سگریٹ کے کش لے رہا تھا۔ عالیہ نے دور سے ہی اس کے سگریٹ کی چمک اور اس کے چہرے کو پہچان لیا۔ عبائے کی اوٹ میں اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو چھپائے، وہ بالکل اس کے قریب گئی۔ طلحہ نے اسے دیکھ کر تمسخر اڑانے کے لیے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ عالیہ نے سیکنڈوں کے ہزارویں حصے میں اپنے عبائے کے اندر سے پستول نکالی۔ اس سے پہلے کہ طلحہ کچھ سمجھ پاتا یا پیچھے ہٹتا، عالیہ نے بالکل اس کے سینے سے پستول لگا کر ٹرگر دبا دیا۔ "ٹھاہ!" کی زوردار آواز آئی۔ گولی اتنے قریب سے ماری گئی تھی کہ طلحہ کو دوسرا سانس لینے یا چیخنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ وہ ایک بھاری کٹے ہوئے درخت کی طرح وہیں زمین پر ڈھیر ہو گیا، اس کے منہ سے خون کا فوارہ ابل پڑا اور چند سیکنڈ تڑپنے کے بعد اس کا جسم ساکت ہو گیا۔ عالیہ نے نیچے جھک کر مقتول کی لاش اور اس کی پھٹی پھٹی آنکھوں کی طرف دیکھا۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ اس وقت عالیہ کے چہرے پر کسی قاتل کا خوف یا پچھتاوا نہیں تھا، بلکہ ایک عجیب، گہرا اور پراسرار سا سکون تھا ۔ وہ لاش کے پاس خود سے مخاطب ہو کر دھیمی مگر انتہائی مضبوط اور فولادی آواز میں بولی: "اب کرو میری عزت کو سرِعام نیلام! معاشرے میں مجھے گندا کرنے والے اور میری مجبوری کا فائدہ اٹھانے والے عیاش درندے... تجھے اس زمین پر جینے کا کوئی حق نہیں تھا! آج میں آزاد ہو گئی ہوں۔ "قتل کی اس سنسنی خیز واردات کے بعد شہر کی پولیس فوراً متحرک ہو گئی۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولی کے خول، پارک کے ارد گرد لگے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کی فوٹیج، طلحہ کے موبائل ڈیٹا کی انکوائری اور جدید ترین سائبر کرائم انویسٹیگیشن کے بعد، بالآخر پولیس کے ماہر افسران صرف تین دن کے اندر عالیہ کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گئے اور اسے ہاسٹل پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا گیا۔ جب عالیہ کو ہتھکڑی لگا کر تھانے لایا گیا اور میڈیا کے نمائندے بھی وہاں جمع ہو گئے، تو وہاں موجود سینیئر پولیس افسران عالیہ کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ عام مجرموں، چوروں یا قاتلوں کی طرح اس کے چہرے پر نہ تو آنسو تھے، نہ کوئی پچھتاوا تھا اور نہ ہی جیل جانے کا کوئی خوف۔ اس کے چہرے اور لبوں پر ایک فاتحانہ، پرسکون مسکراہٹ اور خوشی کے واضح آثار نمایاں تھے، جیسے اس نے قید خانہ نہیں پایا، بلکہ ہمیشہ کی ذہنی غلامی سے آزادی پا لی ہو۔ اس نے پولیس کسٹڈی میں کھڑے ہو کر، تفتیشی افسر کے سامنے اپنے سر کو فخر سے اٹھایا اور بلند، گرج دار آواز میں کہا: "آفسر صاحب! اللہ نے مجھے سرخرو کر دیا ہے۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بقیہ زندگی کو سرِعام نیلام ہونے اور روز روز کی ذلت سے بچا لیا ہے۔ میں نے کسی بے گناہ کا خون نہیں کیا، بلکہ ایک غلیظ، مکار بلیک میلر اور سوسائٹی کے ناسور شخص کو اس کے عبرتناک انجام تک پہنچا کر اس معاشرے کی بیٹیوں کو پاک کیا ہے۔ مجھے اپنے اس قدم پر کوئی افسوس نہیں!" تھانے کے کمرے میں موجود ہر شخص عالیہ کے اس جرات مندانہ مگر ہولناک اعتراف پر ساکت کھڑا اسے دیکھ رہا تھا، جبکہ باہر ہاسٹل کے کمرے میں فائزہ کی آنکھوں سے اپنی سہیلی کے اس انجام پر آنسو بہہ رہے تھے، جو محبت کے ایک سراب کا شکار ہو کر مجرم بن چکی تھی۔
|