یومِ مزدور اور کراچی کا مزدور طبقہ مسائل کے حصار میں
(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)
*از قلم : محمد ارسلان شیخ*
یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے حقوق، عزت اور جدوجہد کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے، مگر افسوس کہ کراچی جیسے معاشی شہ رگ شہر میں آج بھی مزدور طبقہ شدید مسائل کا شکار ہے۔ یہ دن صرف تقاریب، بیانات اور بینرز تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
کراچی کے مزدور آج روزگار کے عدم تحفظ، کم تنخواہوں، مہنگائی، اور استحصال جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب نجی اداروں میں بھی سرکاری ملازمتوں کی طرح کوٹہ سسٹم کا غیر اعلانیہ رواج بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث مقامی نوجوان اور کراچی کے اصل محنت کش خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً کم از کم اجرت بڑھانے کے اعلانات تو کیے جاتے ہیں، مگر بیشتر نجی ادارے ان احکامات پر عملدرآمد نہیں کرتے۔ مزدور مجبوراً خاموشی اختیار کرتا ہے کیونکہ اسے اپنے روزگار کے چھن جانے کا خوف لاحق رہتا ہے۔ اگر آواز اٹھائے تو ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اسی طرح EOBI جیسی سہولت، جو مزدور کے بڑھاپے کا سہارا بن سکتی ہے، آج بھی ہزاروں مزدوروں کو میسر نہیں۔ بہت کم ادارے اپنے ملازمین کی رجسٹریشن کرواتے ہیں، جبکہ نگرانی کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ آج یومِ مزدور کے دن بھی بڑی تعداد میں مزدور مختلف کمپنیوں میں کام کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ اگر وہ چھٹی کریں تو ان کی دیہاڑی کاٹ لی جاتی ہے۔ جن ہاتھوں نے صنعتیں چلانی ہیں، انہی ہاتھوں کو اپنے حق کے دن بھی آرام نصیب نہیں ہوتا۔
دوسری جانب بیشتر کمپنیوں میں ٹھیکیداری نظام رائج ہے، جہاں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو ٹھیکے دیے جاتے ہیں۔ اس نظام کا فائدہ چند بااثر لوگوں کو ہوتا ہے، جبکہ نقصان صرف مزدور کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ نہ مستقل ملازمت، نہ تحفظ، نہ سہولیات، اور نہ ہی مستقبل کی کوئی ضمانت۔
سیاسی جماعتوں سے وابستہ لیبر یونینز بھی عام مزدور کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی جماعتی پالیسیوں اور مفادات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔ مزدور کی آواز بننے کے بجائے وہ اکثر سیاسی مفادات کا آلہ کار بن جاتی ہیں۔
ان تمام حالات کے باوجود حکومت بے بس نظر آتی ہے۔ کہیں کوئی مؤثر چیک اینڈ بیلنس دکھائی نہیں دیتا۔ یومِ مزدور پر صرف سرکاری چھٹی دے دینا کافی نہیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑے سیمینارز ہوں، فیکٹریوں اور کمپنیوں کا معائنہ کیا جائے، مزدوروں سے براہِ راست بات کی جائے، اور دیکھا جائے کہ کہیں آج کے دن بھی کسی مزدور کے ساتھ ناانصافی تو نہیں ہو رہی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ یومِ مزدور پر صرف بیانات نہ دیے جائیں بلکہ کراچی کے مزدوروں کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ کم از کم اجرت پر سختی سے عملدرآمد، EOBI رجسٹریشن لازمی قرار دینا، مقامی افراد کو روزگار میں ترجیح، ٹھیکیداری نظام کی نگرانی، اور غیر سیاسی مزدور یونینز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔یومِ مزدور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ مزدور صرف روزی کمانے والا فرد نہیں، بلکہ قوم کی ترقی، معیشت کی مضبوطی اور روشن مستقبل کی حقیقی بنیاد ہوتا ہے۔ |
|