قرض کا پاکستان: آئی ایم ایف سہارا ہے یا معاشی زنجیر؟ ایک تلخ مگر ضروری حقیقت
(Sumaira Tabassum, Lahore)
آئی ایم ایف پاکستان کے لیے ایک مسلسل بوجھ اور معاشی دائرہ بن چکا ہے، جس سے نکلے بغیر حقیقی خوشحالی کا تصور مشکل دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مختص وسائل کا بڑا حصہ قرضوں کے سود اور اقساط کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، جبکہ اصل قرض کم ہونے کے بجائے اکثر برقرار رہتا ہے یا مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال ملک کو ایک ایسے مالی جال میں جکڑ دیتی ہے جہاں ہر آنے والی حکومت پہلے سے زیادہ محدود فیصلوں کے ساتھ چلنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً، عوامی ریلیف اور ترقیاتی منصوبے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بار بار آئی ایم ایف کے مزید پروگرامز میں جانا دراصل وقتی سہارا تو ہو سکتا ہے، مگر طویل المدتی معاشی خودمختاری کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ |
|
ایف اور معاشی خودمختاری کا راستہ تعارف: ایک بار بار دہرانے والا معاشی چکر پاکستان کئی دہائیوں سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) سے قرض لے کر اپنے معاشی بحرانوں کو وقتی طور پر قابو میں لاتا رہا ہے۔ یہ قرضے وقتی سہارا تو دیتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ آنے والی شرائط ملکی پالیسیوں، مہنگائی اور عوامی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ پاکستان اب تک 20 سے زائد مرتبہ آئی ایم ایف پروگرامز میں جا چکا ہے۔ اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مستقل ترقی اس وقت تک ممکن ہے جب تک ملک بار بار قرض لینے پر مجبور رہے؟
پاکستان کا آئی ایم ایف قرض کتنا ہے؟ تازہ ترین اندازوں (2025–2026) کے مطابق: پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ بقایا قرض تقریباً 9 سے 10 ارب ڈالر ہے مجموعی طور پر پاکستان کئی دہائیوں میں درجنوں ارب ڈالر آئی ایم ایف سے حاصل کر چکا ہے یہ قرض قسطوں میں دیا جاتا ہے اور اکثر پرانے قرض کی جگہ نیا قرض لیا جاتا ہے یہ نظام ایک مسلسل قرضی چکر (debt cycle) بن چکا ہے۔
آئی ایم ایف کا سود کتنا ہے؟ آئی ایم ایف روایتی بینک کی طرح فکس سود نہیں لیتا بلکہ عالمی شرحوں پر مبنی نظام ہے۔ اوسط شرح: بنیادی شرح: 3% سے 5% اضافی چارجز اور سروس فیس زیادہ قرض پر اضافی جرمانہ (surcharge): 2% سے 3% مجموعی اثر: پاکستان کے لیے اصل لاگت تقریباً 5% سے 7% سالانہ بنتی ہے۔
پاکستان کی سالانہ آمدنی (GDP) مجموعی قومی پیداوار (GDP): تقریباً 350 سے 375 ارب ڈالر آبادی: تقریباً 24 کروڑ فی کس آمدنی: 1500 سے 1800 ڈالر سالانہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ایک کم آمدنی مگر بڑی آبادی والا ملک ہے۔
پیٹرول اور بجلی مہنگی کیوں ہوتی ہے؟ آئی ایم ایف پروگرامز کے دوران حکومت کو مالی خسارہ کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کرنے پڑتے ہیں: اہم شرائط: 1. سبسڈی کا خاتمہ حکومت بجلی اور پیٹرول پر دی جانے والی سبسڈی کم یا ختم کرتی ہے۔ 2. مارکیٹ ریٹس قیمتیں عالمی سطح کے قریب لائی جاتی ہیں۔ 3. ٹیکس میں اضافہ ریونیو بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں۔ نتیجہ: پیٹرول مہنگا بجلی کے بل بڑھتے ہیں ٹرانسپورٹ اور اشیاء خوردونوش مہنگی ہو جاتی ہیں
عام عوام پر اثرات آئی ایم ایف پروگرامز کا سب سے زیادہ اثر عام شہری پر پڑتا ہے: مہنگائی میں اضافہ بجلی اور گیس کے بل زیادہ ٹرانسپورٹ مہنگی ٹیکس بوجھ میں اضافہ تنخواہوں کی حقیقی قدر کم
. کیا آئی ایم ایف ترقی میں رکاوٹ ہے؟ آئی ایم ایف بنیادی طور پر: دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے قرض دیتا ہے معیشت کو وقتی استحکام دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ شرائط آتی ہیں جو: فوری طور پر سخت فیصلے کرواتی ہیں عوام پر بوجھ ڈالتی ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان بار بار اسی پروگرام میں واپس آتا ہے۔
آخری بات آئی ایم ایف پاکستان کے لیے ایک وبال بن چکا ہے۔ جب تک پاکستان آئی ایم ایف کے اس چکر سے باہر نہیں نکلتا، ملک میں خوشحالی آنا ممکن نہیں۔ کیونکہ عوام کی خوشحالی کے لیے مختص زیادہ تر پیسہ آئی ایم ایف کے سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، اور قرض جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے والے حکمران دراصل پاکستان کے مستقبل کے دشمن ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس “عذاب” سے نجات حاصل کی جائے۔ حکومتِ پاکستان کو ایسی پالیسی بنانی ہوگی جس کے ذریعے آئی ایم ایف کا سارا قرض کسی نہ کسی طرح ادا کیا جائے یا معاف کروایا جائے۔ جب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا، پاکستان میں ترقی ممکن نہیں۔
|
|