خطرناک صنعتوں میں نئی ٹیکنالوجی کا انقلاب

خطرناک صنعتوں میں نئی ٹیکنالوجی کا انقلاب
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ صنعتی شعبے بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا امتزاج روایتی طریقۂ کار کو بدل رہا ہے۔ چین میں اس میدان میں ہونے والی پیش رفت خاص طور پر قابلِ توجہ ہے، جہاں “روبوٹس اور مصنوعی ذہانت” کو خطرناک صنعتی کاموں میں استعمال کر کے نہ صرف کارکردگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ انسانی جانوں کو بھی محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل کی صنعتیں زیادہ خودکار، محفوظ اور ذہین ہوں گی۔

چین کے صوبہ زے چیانگ میں تیار کیا جانے والا ایک ایسا ہی جدید روبوٹ اس تبدیلی کی واضح مثال ہے، جو عمودی اسٹیل دیواروں پر بغیر کسی حفاظتی رسی کے باآسانی چل سکتا ہے۔ یہ روبوٹ نہ صرف ویلڈنگ جیسے پیچیدہ کام انجام دیتا ہے بلکہ بیک وقت سطح کا معائنہ بھی کرتا ہے، جس سے صنعتی معیار اور حفاظت دونوں میں بہتری آتی ہے۔ ماضی میں یہی کام انسانوں کو انتہائی خطرناک حالات میں انجام دینا پڑتا تھا، جہاں وہ گھنٹوں بلندی پر معلق رہ کر کام کرتے تھے۔
یہ روبوٹ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل سے لیس ہے، جسے خاص طور پر صنعتی ماحول کے لیے تربیت دی گئی ہے۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ عملی کام کے دوران مسلسل سیکھتا رہتا ہے۔ ہر کام ایک ڈیٹا پوائنٹ کے طور پر محفوظ ہوتا ہے، جسے بعد میں نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ روبوٹ وقت کے ساتھ زیادہ ذہین اور مؤثر ہوتا جاتا ہے۔
اس روبوٹ کی ساخت بھی جدید انجینئرنگ کا شاہکار ہے۔ اس کا نچلا حصہ مقناطیسی پہیوں پر مشتمل ہے، جو اسے دھاتی سطح پر مضبوطی سے چپکائے رکھتا ہے، جبکہ اوپری حصہ دو بازوؤں پر مشتمل ہے جو مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صرف آلات کی تبدیلی کے ذریعے یہ روبوٹ ویلڈنگ، زنگ صاف کرنے، معائنہ اور اسپرے جیسے مختلف کام انجام دے سکتا ہے۔

چین میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف صنعتی دیواروں تک محدود نہیں بلکہ دیگر شعبوں میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ زیرِ سمندر کیبلز کی نگرانی کے لیے تیار کردہ روبوٹس اب 300 میٹر گہرائی تک کام کر سکتے ہیں، جس سے توانائی اور مواصلاتی نظام کی حفاظت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے میں بھی خودکار روبوٹس بڑے گوداموں میں اناج کو منظم کرنے جیسے مشکل کام انجام دے رہے ہیں، جو پہلے انسانی محنت سے کئی دنوں میں مکمل ہوتے تھے۔

یہ تمام پیش رفت چین کی ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کو معیشت کے نئے محرک کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کے تحت ان شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ صنعتی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے اور عالمی سطح پر مسابقت کو بڑھایا جا سکے۔

چین میں صنعتی ماحولیاتی نظام کی وسعت بھی اس ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ دریائے یانگسی ڈیلٹا ، دریائے پرل ڈیلٹا اور بیجنگ۔ تھیان جن ۔حہ بی علاقے جیسے صنعتی مراکز میں ہزاروں کمپنیاں روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کر رہی ہیں، جو اس ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

یہ وسیع صنعتی نظام چین کو ایک ایسا منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں مختلف حالات میں ٹیکنالوجی کی آزمائش ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی روبوٹکس صنعت محض نظریاتی تحقیق تک محدود نہیں بلکہ عملی اطلاق پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

سو کہا جا سکتا ہے کہ چین میں انسان نما مصنوعی ذہانت کا فروغ صنعتی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف خطرناک کاموں میں انسانی جانوں کو محفوظ بنا رہی ہے بلکہ پیداواریت اور معیار میں بھی نمایاں اضافہ کر رہی ہے۔ مستقبل میں اس طرح کی جدتیں عالمی صنعتوں کے ڈھانچے کو مزید تبدیل کریں گی، جہاں انسان اور مشین کا اشتراک ایک نئی سطح پر پہنچ جائے گا اور معیشت زیادہ محفوظ، مؤثر اور پائیدار بنے گی۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093567 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More