����������سامراج یا سوشل ازم-جنگ یا امن

سامراج یا سوشلزم
------------------
جنگ یا امن
پروفیسر امیر حمزہ ورک صدر
عوامی ورکرز پارٹی پنجاب
اس وقت ساری دنیا میں ہمیں جنگ ہی جنگ،خانہ جنگیاں،لاقانونیت اور افراتفری ہی نظر آتی ہے اور عملا" جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا ماحول ہے-ایسا کیوں ہے؟ یہ اس لئے ہے کہ دنیا کے بہت بڑے اکثریتی علاقے میں سامراج کے نظام کے ماتحت ہیں اور سامراج کی بنیادٰی خصوصیات میں سے ایک یہ کہ یہ نظام جنگیں پیدا کرتا ہے اور ہلاکتوں، کشت و خون و تباہی بربادی کر کے بھی دولت کماتا ہے اور وسائل پر قبضہ کرتا ہے-دوسری طرف سوشلزم کا نطام ہے جس کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک امن قائم کرنا ہے کیونکہ مخلوق خدا کی ضروریات کو امن قائم کر کے ہی پورا کیا جا سکتاہے-آج سے ایک صدی قبل 1916/17 میں عظیم انقلابی فلاسفر ،ماہر سیاست و معیشت اور لیڈر لینن نے دلیل دی تھی کہ سرمایہداری کا روایتی معاشی نظام ختم ہو چکا ہے لینن کہتا ہے کہ روایتی سرمایہداری نظام کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک آزاد مسابقت یا مقابلہ بازی تھی جو بیسویں صدی کے شروع سے اجارہ داری سرمایہ داری کے نظام میں تبدیل ہو چکی ہے- لینن نے موقف اختیار کیا کہ یہ تبدیلی بڑی بڑی سرمایہدار کارپوریشنز اور بینکوں (مالیاتی سرمایہ) کا عالمی معیشت پر قبضے تک محدود نہی ہے-بلکہ سرمایہداری نطام اپنی ضروریات کے تحت ناگزیر طور پر ترقی کے اعلی مرحلے یعنی سامراج یا امپیرلزم بن چکا ہے-اس لئے آج دنیا بھر میں روائیتی سرمایہ دارنہ نظام ترقی کے اعلی درجے پر پہنچ کر سامراج کا روپ دھار چکا ہے-
لینن نے اس ترقی یافتہ اجارہدارانہ سرمایہ داری یا سامراج کی پانچ بنیادی خصوصیات کو اس طرح بیان کیا ہے-
1-اجارہ داریوں کی تشکیل
لینن کہتا ہے کہ وہ روائیتی سرمایہداری جو اپنا مال بیچنے کے لئے آپس میں مقابلہ کرتی تھی ختم ہو چکی اور اس کی جگہ پیداوار اور سرمائے کے ارتکاز کی وجہ سے اجارہ داریوں نے لے لی ہے- جو آزادانہ مقابلہ کرنے کی بجائے انسانوں اور سماج کی معاشی زندگی پر حاوی ہو جاتے ہیں-
2۔مالیاتی سرمائے کا عروج
لینن نے سامراج کی دوسری خصوصیت یہ بیان کی ہے کہ صنعتی سرمایہ بینک کے سرمائے کے ساتھ ضم ہو کر "مالیاتی سرمایہ" تخلیق کرتا ہے، جسے ایک چھوٹی "مالیاتی اولیگارچی" (یہ ایک معاشیات کی ٹرم ہے جس کا مطلب ہے کہ سرمایہدار لوگوں کا ایک چھوٹا گروپ جو کسی ملک یا تنظیم کا کنٹرول رکھتا ہے)۔کے زیر کنٹرول کہا جا سکتاہے۔
3-سرمائے کی برآمد
لینن کہتا ہے کہ سامراج کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ سرمائے کی برآمد (سستی مزدوری/وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری) اشیاء کی برآمد سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
4-بین الاقوامی اجارہ داریاں
سرمایہ دارانہ کمنیاں، (ٹرسٹ/کارٹل) عالمی منڈی کو آپس میں بانٹتی ہیں۔ کہ کس ملک کی کس کمپنی کا مال کہاں بکے گا آپ کو یاد ہو گا کہ ایک زمانے میں فورڈ کمپنی کا ٹریکٹر پاکستان میں بکتا تھا-لیکن اب نہی بکتا کیونکہ پاکستان کی منڈی اٹلی کو الاٹ ہو گئی جو اپنا فیئٹ ٹریکٹر اب یہاں بیچتی ہے
5-علاقائی تقسیم
بڑی طاقتوں کے درمیان دنیا کی علاقائی تقسیم مکمل ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کو دوبارہ تقسیم کرنے کی جدوجہد شروع ہو جاتی ہے-سرمایہ دارانہ طاقتوں کے درمیان دنیا کو دوبارہ تقسیم کرنے کی جدوجہد (مثلاً وسائل، منڈیوں اور سرمایہ کاری کے شعبوں کے لیے) ناگزیر سامراجی جنگوں کا باعث بنتی ہے
لینن نے سامراج کو "طفیلی" یا " زوال پزیر" سرمایہ داری کے طور پر بیان کیا، جہاں ترقی یافتہ ممالک میں محنت کش طبقے کے ایک حصے ("مزدور اشرافیہ") کو استحصالی کالونیوں سے حاصل ہونے والے منافع سے رشوت دی جاتی ہے، اس طرح بنیادی ممالک یعنی ترقی یافتہ ممالک ہیں انقلابی صلاحیت کو سست کر دیا جاتا ہے-لینن ایک عظیم اور نابغہ روزگار شخصیت تھی اس نے سامراج کو "پرولتاریہ کے سماجی انقلاب کا موقع" (یعنی مددگار)کے طور پر بھی دیکھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ پیداوار کو سماجی بنانے اور دولت کو مرتکز کرنے سے، یہ ایک اعلیٰ سماجی نظم کے لیے معاشی بنیاد تیار کرتا ہے۔موجودہ دور میں سامراجی طاقتیں نہ صرف نوآبادیاتی حکمرانی کے ذریعے بلکہ ترقی پذیر ممالک سے مالیاتی نظام، غیر مساوی تجارت اور ہائی ٹیک اجارہ داریوں کے ذریعے اپنا تسلط برقرار رکھتی ہیں-
آپ نے دیکھا کہ سامراج کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک جنگیں پیدا کرنا،اسلحہ بیچنا، دنیا کو تقسیم کرنا،پھر دوبارہ تقسیم کرنا شامل ہے- ولادیمیر لینن نے وضاحت کی کہ سامراج لامحالہ تنازعات کا باعث بنتا ہے۔ جب سرمایہ دارانہ طاقتوں کو بحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے تسلط کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو جنگ ان کے مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔
ایک صدی پہلے اس نے لکھا: "دنیا کی تقسیم کی جدوجہد، جو کہ سامراج کا جوہر ہے، لامحالہ جنگ کی طرف لے جاتی ہے۔لینن نے واضح کیا کہ سامراج اپنی فطرت کے مطابق سرمایہ دارانہ طاقتوں کو تنازعات کی طرف دھکیلتا ہے جب ان کے تسلط کو خطرہ ہوتا ہے۔ معاشی مسابقت اور سامراجی طاقتوں کے درمیان وسائل کا مقابلہ تناؤ پیدا کرتا ہے جس کا نتیجہ لازمی طور پر جنگ کی صورت میں نکلتا ہے، کیونکہ یہ طاقتیں اپنی پوزیشن کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرتی ہیں۔ نہ صرف مغرب کو ایک کثیر قطبی دنیا کے عروج اور چین، روس، شمالی کوریا، ایران، فلسطین، کیوبا، ساحل اور دیگر اقوام کے سامراج مخالف گروہ کی مخالفت سے خطرہ ہے، بلکہ سامراجی آپس میں مزید کھلم کھلا اور وحشیانہ طریقے سے لڑ رہے ہیں تاکہ ابھی تک دستیاب مال غنیمت کو محفوظ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خاص طور پر امریکہ اور یورپ کے درمیان اور ان ممالک کے سامراجی دھڑوں کے درمیان تناؤ دیکھ رہے ہیں۔
لیکن محنت کش طبقے اور غریب عوام اور ریاستوں کے لیے جنگ ایک مہنگی مشق ہے، لیکن حکمران اشرافیہ کے لیے یہ ایک بہترین موقع کی نمائندگی کرتی ہے۔ ملٹری-انڈسٹریل کمپلیکس اور اس کے شیئر ہولڈنگ منینز کے لیے کاروبار میں تیزی آتی ہے کیونکہ تناؤ بڑھتا ہے اور جنگ شروع ہوتی ہے۔ ان خوش قسمت سامراجیوں کے لیے کاروبار عروج پر ہے جو ایک فاتح جنگ میں لوٹے گئے وسائل پر قبضہ کرتے ہیں۔ بڑے بڑے فنڈ کی ملکیت والی کارپوریشنوں کے لیے کاروبار میں تیزی آئی ہے جن کا معاہدہ جنگ کی منافع بخش مشینری سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کا ہے۔
سامراج کی تاریخ تنازعات اور جنگوں کی تاریخ ہے۔ جب تک سامراج ہے جنگ رہے گی۔ پہلی عالمی جنگ نے سوویت یونین میں پہلی سوشلسٹ ریاست کو جنم دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، مزید ممالک نے سوشلزم کا تاریخی راستہ اختیار کیا۔ یہ ہے حالات کی جدلیات۔ یا تو عالمی جنگ انقلاب کو جنم دے گی یا انقلاب عالمی جنگ کو روکے گا۔
آج دنیا ملٹی پولر ہے عالمی سامراج جس کی قیادت امریکی سامراج کر رھا ہے اس کی پوری کوشش تھی کہ سابقہ سوویٹ یونین جو اب ایک سرمایہدار ریاست ہے اور بطور سرمایہدار ریاست ہی کے اس کا امریکی سامراج سے تضاد بھی ہے جسے سرمایہداری کے باہمی تضادات میں شمار کیا جاتا ہے کو کسی نہ کسی جنگ میں الجھا دے جس میں سامراج کامیاب ہوا اور یوکرین کی جنگ چھڑ گئی روس کو یہ امید نہی تھی کہ یوکرائن کے پیچھے یورپ اور امریکہ پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آ کر کھڑے ہو جائیں گے-اس لئے وہ جنگ لمبی ہو گئی اور چار سال ہونے کو ہیں اور یوکرائین عالمی سامراج کے قرضوں میں ڈوبتا چلا جا رھا ہے- اور روس کی کعاشئ مشکلات میں اضافہ ہو رھا ہے
عوامی جمہوریہ چین جو ایک سوشلسٹ ریاست ہے اور جو دیگر سوشلسٹ ریاستوں ( شمالی کوریا،کیوبا،ویٹنام،لاؤس) کے ساتھ ملکر سوشلزم کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے کو بھی امریکی سامراج آئے دن کسی نہ کسی جنگ میں الجھانے کی کوشش کرتا رھتا ہے اس کام کے لئے امریکی سامراج نےتائیوان،وینزویلا،اور اب ایران کا محاذ گرم کیا ہوا ہے-لیکن چین کی کیمونسٹ پارٹی،اس کی قیادت اور چین کے عوام یہ بات بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ دنیا کا مقدر،ترقی اور محنت کش عوام کے مسائل کا حل سوشلزم سے وابستہ ہے اور جدلیاتی طور پر سامراج اگر جنگیں پیدا کرتا ہے تو سوشلزم امن ، ترقی اور خوشحالی کا ضامن سمجھاجاتا ہے-یہی وجہ ہے کہ سوشلسٹ ملکوں نے ہمیشہ جنگوں کے خلاف امن کا راستہ اختیار کیا اور ہٹلر کے فاشسٹ نظریے کو
شکست دے کر یورپ سمیت ساری انسانیت پر احسان عظیم کیا اور امن کو استحکام دیا-
روس اور چین یا دیگر سوشلسٹ ملکوں نے امن کا جھنڈا بلند کر کے کوئی احسان نہی کیا-ہر معاشی نظام کی اپنی اپنی ضروریات ہوتی ہیں اور وہ انھیں کے اندر ہی رہ کام کرتا ہے جیسے جاگیردارانہ معاشی نظام تعلیم دشمن سمجھا جاتا تھا کیونکہ تعلیم عام ہونے سے جاگیرداروں کے معاشی مفادات کو خطرہ تھا کیونکہ سسٹم تعلیم کے بغیر چل سکتا تھا لیکن سرمایہداری آئی تو کارخانہ چلانے کے لئے سرمایہداری کو تعلیم کی ضرورت پڑی-اس لئے سوشلزم یہ کہتا ہے کہ طبقاتی جدوجہد اور منافع کے مقاصد کو ختم کر کے جنگ کی ساختی وجوہات کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ سوشلسٹ نظام، سرمائے کے ذخیرے پر انسانی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے، قدرتی طور پر وسائل کے مقابلے کی بجائے بین الاقوامی یکجہتی اور تعاون کو فروغ دیتا ہے-
ایک اور سوشلسٹ دلیل یہ ہے کہ جنگ کو نئی منڈیوں، وسائل اور منافع کی سرمایہ دارانہ ضرورت کی وجہ سے تقویت ملتی ہے۔ ذرائع پیداوار کو سماجی بنا کر، سوشلسٹ نظریہ سامراج اور علاقائی توسیع کے لیے معاشی مراعات کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے- سوشلزم اس خیال کو فروغ دیتا ہے کہ مزدور دوسرے ممالک کے محنت کشوں کے ساتھ ان کے اپنے حکمران طبقے کے مقابلے میں زیادہ مشترک ہیں۔ یہ بین الاقوامی نقطہ نظر قوم پرستی کی مخالفت کرتا ہے اور تنازعات کی بجائے "عوام کے درمیان امن" کی حوصلہ افزائی کرتا ہے-سوشلزم کا مقصد اندرونی طبقاتی جدوجہد کو ختم کرنا ہے، جسے جبر کے ایک نطام کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو کہ بیرونی طور پر سامراجی تشدد کے طور پر ظاہر ہو سکتا ہے-
سوشلزم کے فلسفہ جدلی و تاریخی مادیت میں اور اس کے سیاسی ومعاشی نظام میں یہ بات شامل ہے کہ پائیدار جمہوریت اور امن" صرف سامراج اور "بورژوازی" (اجارہ دار سرمایہدار )کی مخالفت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تاریخی سوشلسٹ تحریکوں نے اکثر جنگ مخالف مظاہروں کی حمایت کی ہے اور امن کے اقدامات کی حمایت کی ہے، وہ امن کو محنت کش طبقے کی تحریک کے لیے اہم سمجھتے ہیں- سوشلزم سمجھتا ہے کہ معیشت کو نجی منافع کے بجائے رہائش ،تعلیم، روزگار اور صحت کی دیکھ بھال جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاھئے سوشلزم کسی قوم،علاقے یا ریاست کے وسائل کو فوجی اخراجات سے دور اور سماجی ترقی کی طرف موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
امن اور سوشلسٹ ممالک کی حاصلات
انسانی تاریخ طبقاتی کشمکش اور طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے انسانی تاریخ نے طبقاتی جدوجہد کو سماجی تنازعات کے محرک کے طور پر دیکھا ہے-مارکس نے کہا تھا کہ سوشلزم طبقاتی تقسیم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے استحصال کو ختم کر دے گا، اس لیے امن کو صرف اسی صورت میں ممکن سمجھنا چاھئےجب یہ طبقاتی تقسیم ختم ہو جائے-تمام سوشسلٹ ممالک بشمول سابقہ سوویٹ یونین نے کبھی کسی جنگ کو شروع نہی کیا بلکہ یہ ہمیشہ سامراجی جنگوں کا نشانہ بنے سوویٹ یونین کا انقلاب امن کے نام پر پہلی عالمی جنگ میں وقوع پزیر ہوا کیمونسٹوں کا نعرہ تھا،"ہمیں جنگ نہی امن اور روٹی چاھیے،انقلاب کے بعد 14سرمایہدار ملکوں کی مشترکہ افوج نے حملہ کیا- پھر سامراجی جرمنی نے ھٹلر کی قیادت میں حملہ کیا اسی طرح ویت نام پر 17 سال سامراجی ممالک حملہ آور رہے،شمالی کوریا میں امریکی سامراج نے قتل عام کیا اور کیوبا کو پچاس سالوں سے اور آئے دن دھمکیوں اور معاشی پابندیو ں کا سامنا ہے- عوامی جمہوریہ چین مسلسل امن کا پرچم سربلند کئے ہوئے ہے- کیونکہ بڑھتے ہوئے اور غیر یقینی معاشی نقطہ نظر اور بڑھتے ہوئے بین الاقوامی جغرافیائی وسیاسی مسابقت سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، چین 2035 تک ایک اعلیٰ معیاری سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کا مقصد سوشلسٹ جدیدیت حاصل کرنا اور نظام اور حکمرانی کی صلاحیت کو جدید بنانا ہے اور یہ صرف اور صرف امن اور چین کا کسی جنگ میں نہ الجھنے اور امن کا نقطہ نظر رکھنے کی وجہ سے ممکن ہو رھاہے-
چین نےسستی اور معیاری ٹکنالوجیوں کو حاصل کیا ہے۔ دہائیاں گزرنے کے بعد، چین سوشلزم کے نچلے مرحلے سے 2035 تک سوشلزم کے اعلی درجے کی طرف بڑھتے ہوئے اپنی دوسری منتقلی میں جا رہا ہے۔ سی پی سی نے 100 ملین (دس کروڑ) کارکنوں کے ساتھ 20 لاکھ کارکنوں کو دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے اور وہاں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھیجا۔ پارٹی نے گزشتہ 40 سالوں میں 850 ملین (اسی کروڑ پچاس لاکھ )لوگوں کو غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی،
چین نے کبھی بھی سرمایہ داری کی بحالی کی حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ اس نے ملک کو صنعتی بنانے کے لیے سرمایہ داری کے کچھ عناصر کو تعینات کیا۔ ایک بار صنعتی ہونے کے بعد، ملک سوشلزم کے اعلی درجے کی طرف جائے گا، کیونکہ یہ اس وقت سوشلزم کے نچلے مرحلے میں ہے۔ سوشلزم کا نچلا مرحلہ سرمایہ داری اور سوشلزم کا مرکب ہے جسے مارکیٹ سوشلزم ،عوامی جمہوریت اور مختلف ملکوں میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔سی پی سی نے یہ تمام پیش رفت ایک اچھی طرح سے بنے ہوئے منصوبے کے تحت کی۔ پارٹی نے صنعتی انقلاب کا آغاز کیا، مقامی لوگوں کی بنیادی عادات کو تبدیل کیا اور ٹیکنالوجی، صنعت، کاشتکاری، تعلیم، صحت اور بہت کچھ میں تربیت فراہم کی۔ سیاسی جنگ جیتنے کے بعد سی پی سی نے مغرب سے مقابلہ کرنے اور سوشلزم اور کمیونزم کو مضبوط کرنے کے لیے صنعتیں لگا کر اقتصادی محاذ جیتنے کا منصوبہ بنایا۔
ماضی میں چین نے امریکی اور یورپی کمپنیوں کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جہاں وہ کمزور تھا۔ ایک بار جب ان ملٹی نیشنل کمپنیوں نے) نے سرمایہ کاری کی تو چینیوں نے ٹیکنالوجیز سیکھی اور ریورس انجینئرنگ کے ذریعے مصنوعات تیار کیں، جیسا کہ فونز ،ایپل فونز وغیرہ کی نقل تیار کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر تیمور رحمان نے کے بقول امریکیوں کا خیال تھا کہ چین میں ان کی سرمایہ کاری چینیوں کو سرمایہ دار بنا دے گی، لیکن چین سخت کمیونسٹ ملک ہے – چین نے بڑے پیمانے پر نجکاری نہیں کی ہے۔ وہ غیر ملکی سرمایہ اپنے ملک میں لایا اور خصوصی اقتصادی زونز میں کارخانے لگائے- لیکن ریلوے اور ٹیلی کمیونیکیشن،زمین بینک وغیرہ اور کئی ادارے مکمل سرکاری کنٹرول میں رھے - ۔ روس کے برعکس، جو تھوک کی نجکاری کا شکار تھا، چین نے ضروری شعبوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔چین نے کبھی آزاد منڈی قائم نہیں کی بلکہ دوہری قیمتوں کا نظام متعارف کرایا۔ ریاست گندم کا آٹا، چاول، چینی، توانائی، صحت اور تعلیم جیسی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ غیر ملکی سرمائے سے تیار کی جانے والی لگژری مصنوعات آزاد منڈی کا حصہ ہیں۔
ویتنام، لاؤس، شمالی کوریا چین کے علاوہ، کیوبا، ویتنام،لاؤس کیمونسٹ پارٹیوں کے زیر کنٹرول ہیں اور شمالی کوریا ورکرز پارٹی کے زیر کنٹرول ہے "سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی" کے راستے پر چلتے ہوئے، ریاستی کنٹرول کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ شمالی کوریا، اس دوران، سوشلسٹ شراکت داروں کی حمایت کے ساتھ بین الاقوامی پابندیوں کو نیویگیٹ کرتے ہوئے، "جوچے" کے نام سے ایک الگ نظریہ کی پیروی کرتا ہے جو مقامی زبان میں مارکسزم لیننزم ہی کہلاتا ہے – یہ تمام ملک امن کے سب سے بڑے علمبردار ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح وہ سوشلزم کے انتہائی پہلے مرحلے میں ہیں اور جو کچھ انھوں نے اپنے عوام کے لئے ھاصل کیا ہے جنگوں سے وہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا-ان ممالک کے تجربات نے یہ بھی ثابت کیا کہ لینن کا پسماندہ ملکوں میں مرحلہ وار سوشلزم کے نفاز کا نظریہ درست ثابت ہوا ہے- اور انقلاب برپا کرنے سے سوشلزم کے ابتدائی مراحل کی تکمیل میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ امن ایک عالمگیر سچائی ہے امن کے بغیر ترقی کا سفر طے نہی کیا جا سکتا اور ہر ملک میں سماجی تبدیلی یا انقلاب اور سوشلزم کا نفاز صرف اور صرف مقامی حالات،کلچر اور روایات کے مطابق ہی ہو گا-
یہی وجہ ہے کہ جس طرح چین والے کہتے ہیں کہ " ہمارا سوشلزم چینی خصوصیات "کے ساتھ ہے- ویت نام والے اسے "ڈوئی موئی" اور کوریا والے جوچے ازم کا نام دیتے ہیں یہ تمام ممالک جو امریکی سامراج کی جارحیت کا نشانہ بھی بنے ہیں انھوں نے امن کی بہت بھاری قیمت بھی ادا کی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہی کہ ابدی امن اس کرہ ارض کو اسی دن نصیب ہو گا جب ایک نظام کے طور پر سامراج کاخاتمہ ہو گا اور دنیا کے بڑے حصے پر سوشلزم کا نفاز ہو گا

 

Ameer Hamza Virk
About the Author: Ameer Hamza Virk Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.