چراغ کا قرض
(Babar Alyas , Chichawatni)
“چراغ کا قرض” تحریر: بابر الیاس
گاؤں “نورپور” اپنی سادگی اور غربت کے لیے مشہور تھا۔ اسی گاؤں کے ایک کچے مکان میں زینب اپنے اکلوتے بیٹے، اویس کے ساتھ رہتی تھی۔ شوہر کی وفات کے بعد زینب نے لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اویس کو پالا اور ایک ہی خواب دیکھا— “میرا بیٹا پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے گا…” اویس ذہین تھا، مگر غربت اس کے راستے کی سب سے بڑی دیوار تھی۔ ایک دن شہر سے ایک شخص آیا اور اس نے اویس کو کام کی پیشکش کی: “اگر تم میرے ساتھ شہر چلو، تو اچھی کمائی کر سکتے ہو…” اویس کی آنکھوں میں امید جاگی۔ “امّی، میں جانا چاہتا ہوں… میں آپ کے لیے کچھ بننا چاہتا ہوں…” زینب کا دل کانپ اٹھا، مگر اس نے اپنے جذبات کو ضبط کیا۔ “بیٹا… شہر کی چمک ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی…” “امّی، آپ دعا کریں… میں کبھی آپ کو مایوس نہیں کروں گا…” زینب نے لرزتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا: “جا بیٹا… مگر یاد رکھنا، حلال کا راستہ کبھی نہ چھوڑنا…” اویس نے جاتے وقت وعدہ کیا: “امّی، میں جلد واپس آؤں گا، آپ کو اس غربت سے نکالوں گا…” شہر جا کر اویس ابتدا میں بہت محنت کرتا رہا، مگر جلد ہی وہ غلط صحبت میں پڑ گیا۔ آسان پیسے اور چمک دمک نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ “اتنی محنت کیوں کرتا ہے؟ آسان پیسے کما…” دوستوں کی باتوں نے اسے بہکا دیا۔ آہستہ آہستہ وہ بدل گیا۔ ماں کے خط… دعائیں… سب پیچھے رہ گئے۔ ادھر زینب ہر دن اس کا انتظار کرتی۔ گاؤں والے طعنے دیتے: “تمہارا بیٹا تمہیں بھول چکا ہے…” مگر زینب ہر شام ایک چراغ جلاتی اور کہتی: “یہ چراغ اسے راستہ دکھائے گا…” پڑوسن نے ایک دن طنز کیا: “زینب! تیرا بیٹا اب نہیں آئے گا…” زینب نے چراغ کی لو کو ہاتھ سے بچاتے ہوئے آہستہ کہا: “میرا بیٹا راستہ بھول سکتا ہے… ماں کو نہیں…” ایک رات شہر میں اویس ایک چوری کے الزام میں پکڑا گیا۔ جب اسے تھانے میں بند کیا گیا تو اس کے دل میں پہلی بار ماں کی یاد شدت سے ابھری۔ سلاخوں کے پیچھے بیٹھا وہ خود سے بولا: “میں نے کیا کر دیا…؟” اسی لمحے اسے زینب کی وہ بات یاد آئی: “بیٹا، حلال کا ایک لقمہ حرام کے ہزار لقموں سے بہتر ہے…” اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “امّی… میں آپ کے قابل بھی نہیں رہا…” اسی لمحے اس کے اندر ندامت جاگ اٹھی۔ “نہیں… کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی… میں واپس جاؤں گا…” کچھ دنوں بعد وہ رہائی پا کر سیدھا گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ زینب حسبِ معمول چراغ جلا کر بیٹھی تھی۔ ہوا تیز تھی، مگر وہ اپنے دوپٹے سے چراغ کو بجھنے نہیں دے رہی تھی۔ “جب تک سانس ہے… یہ چراغ بجھنے نہیں دوں گی…” اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ زینب کا دل زور سے دھڑکا۔ “کون ہے…؟” دروازہ کھلا— سامنے اویس کھڑا تھا، آنکھوں میں آنسو، دل میں شرمندگی۔ “امّی… میں لوٹ آیا ہوں… خالی ہاتھ نہیں… میں توبہ لے کر آیا ہوں…” زینب ایک لمحہ اسے دیکھتی رہی، پھر اسے گلے لگا لیا۔ “بیٹا… ماں کے لیے سب سے بڑی دولت تمہاری واپسی ہے…” اویس زار و قطار رونے لگا: “امّی… میں آپ کا قرض کبھی نہیں اتار سکوں گا…” زینب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا: “ماں کا قرض صرف اچھا انسان بن کر ادا ہوتا ہے…” چراغ اب بھی جل رہا تھا— مگر اب اس کی ضرورت نہیں رہی تھی… کیونکہ جس کے لیے وہ جل رہا تھا، وہ واپس آ چکا تھا۔ ماں کی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی، اور اس کی دعا انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی تک لے آتی ہے۔
|
|