جلتا چراغ


جلتا ہوا چراغ
تحریر: بابر الیاس

کومل شہر کی روشن گلیوں میں ایک جلتے ہوئے چراغ کی مانند تھی—روشنی بھی بکھیرتی اور خود خاموشی سے پگھلتی بھی جاتی۔
اس کے قدموں کی جھنکار کوٹھے کی سیڑھیوں تک کو رازدار بنا دیتی تھی، جیسے ہر زینہ اس کے دکھ سے واقف ہو۔
وہ جب بازارِ حسن میں اترتی تو چراغوں کی لو بھی جیسے ٹھہر کر اسے دیکھتی—خاموش، مگر گواہ۔
لوگ اسے دیکھتے… جیسے کوئی منظر ہو—دلکش، مگر اداس۔
“آج بہت خاموش ہو…”
شگفتہ نے ایک شام اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
کومل نے ہلکی سی مسکراہٹ سجائی،
“خاموشی بھی بولتی ہے… بس سننے والا چاہیے۔”
اس کی مسکراہٹ خزاں کے اس پھول کی مانند تھی جو کھل تو جاتا ہے، مگر خوشبو میں نمیِ غم چھپی ہوتی ہے۔
آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی تو خود کو نہیں، ایک ادھوری کہانی کو دیکھتی—ایسی کہانی، جسے کسی نے کبھی مکمل سننے کی کوشش نہ کی۔
وہ کبھی ایک معصوم کلی تھی…
مگر حالات کی تیز آندھی نے اسے وقت سے پہلے ہی شاخ سے جدا کر دیا۔
زندگی کے بے رحم ہاتھوں نے اسے اس راہ پر لا کھڑا کیا جہاں ہر قدم پر دکھ کے کانٹے تھے اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک زخم۔
رات گہری ہو چکی تھی۔
محفل کی آوازیں بجھ چکی تھیں اور کمرے میں خاموشی یوں پھیلی تھی جیسے سمندر کی تہہ میں سناٹا اتر آتا ہے۔
کومل آئینے کے سامنے بیٹھی خود کو تکنے لگی۔
“یہ میں ہوں…؟”
آئینہ خاموش تھا—مگر اس کی خاموشی میں ایک بے رحم سچ جھلک رہا تھا:
وہ چراغ جو سب کو روشنی دیتا رہا، خود اندھیروں میں گھلتا جا رہا تھا۔
وہ حسن جو دوسروں کو سکون دیتا تھا، خود بے سکونی کی سانسوں میں قید تھا۔
اس کی آنکھوں میں ایک لرزتا ہوا سوال ابھرا:
“کیا میں کبھی اس زندگی سے نکل سکوں گی…؟ کیا میں اس دلدل کو چھوڑ پاؤں گی…؟”
اسی لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے دل کے کسی گوشے میں روشنی کی ایک ننھی سی کرن جاگی ہو—
اندھیری رات میں صبح کے پہلے تارے کی مانند۔
“نہیں… کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…”
اس نے آہستہ مگر مضبوط لہجے میں کہا،
“اب میں خود اپنی کہانی لکھوں گی… آزادی کی طرف۔”
دروازے کے باہر سے شگفتہ کی آواز آئی،
“کومل… سو گئی کیا؟”
کومل کھڑکی کی طرف بڑھی،
“نہیں… اب جاگ گئی ہوں…”
اس نے کھڑکی کھولی۔
باہر رات اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی، اور افق پر روشنی پھیل رہی تھی۔
اس نے گہرا سانس لیا—
شاید پہلی بار اسے اپنی سانس اپنی محسوس ہوئی۔
وہ چراغ جو برسوں سے دوسروں کے لیے جل رہا تھا،
اب خود کے لیے روشنی تلاش کرنے نکلا تھا—
اور یہی اس کی اصل کہانی کا آغاز تھا۔
 
Babar Alyas
About the Author: Babar Alyas Read More Articles by Babar Alyas : 931 Articles with 813047 views استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More