نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کی اجتماعی جدوجہد

غلام مرتضیٰ باجوہ

معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان ذہنی، جسمانی اور اخلاقی طور پر مضبوط ہوں تو قومیں ترقی کی راہوں پر گامزن رہتی ہیں، لیکن جب یہی نوجوان منشیات جیسی لعنت کا شکار ہو جائیں تو معاشرہ زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے، جس نے نہ صرف نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ خاندانی نظام، تعلیمی ماحول اور معاشرتی اقدار کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں تعلیمی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور سماجی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نئی نسل کو اس ناسور سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس میں منعقد ہونے والی منشیات کے خلاف آگاہی تقریب اسی اجتماعی شعور اور قومی ذمہ داری کا ایک مثبت اظہار تھی۔ ڈرگ ایڈوائزری ٹریننگ حب کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب میں منشیات کے خلاف پوسٹرز کی نمائش کی گئی جبکہ“سموک اینڈ ڈرگ فری کیمپس”پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ یہ تقریب صرف ایک رسمی اجتماع نہیں تھی بلکہ نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل دینے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔
تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے کی جبکہ افتتاح ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی اعجاز نے کیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر منشیات کے خلاف بنائے گئے پوسٹرز نے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اہم سماجی پیغام بھی دیا کہ منشیات صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کرتی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی اعجاز نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ منشیات کے خلاف مختلف اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات کا مقصد نوجوانوں کو اس خطرناک لعنت سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اگر نوجوان نسل کو بروقت شعور دیا جائے تو معاشرے کو بہت سی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کا نوجوان بے شمار ذہنی دباؤ، معاشی مسائل اور سماجی الجھنوں کا شکار ہے۔ بعض اوقات غلط صحبت، بے روزگاری، مایوسی یا تفریح کے نام پر نوجوان منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ ابتدا میں یہ محض ایک تجربہ محسوس ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ یہی عادت زندگی کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ منشیات نہ صرف انسان کی جسمانی صحت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، کردار اور معاشرتی تعلقات کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں منشیات کے خلاف شعور بیدار کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے کہا کہ طلبا کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ان کے اس بیان میں ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ یہ نوجوانوں کی شخصیت سازی کے مراکز ہوتے ہیں۔ اگر تعلیمی ادارے طلبا کی اخلاقی تربیت، ذہنی رہنمائی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں تو نوجوان منفی سرگرمیوں سے دور رہ سکتے ہیں۔
این سی اے میں منعقدہ پوسٹر نمائش نے بھی اس پیغام کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ فنونِ لطیفہ سے وابستہ طلبا نے اپنے تخلیقی خیالات کے ذریعے منشیات کے نقصانات کو تصویری شکل میں پیش کیا۔ کہیں ایک تباہ حال نوجوان کی تصویر تھی، کہیں بکھرتے خاندان کی جھلک، تو کہیں ایک روشن مستقبل کے بجھتے چراغ کی عکاسی کی گئی تھی۔ یہ پوسٹرز محض فن پارے نہیں تھے بلکہ معاشرے کے لیے ایک خاموش مگر طاقتور پیغام تھے۔تقریب میں“سموک اینڈ ڈرگ فری کیمپس”کے دوسرے مرحلے کے لیے سید ذوالفقار حسین اور بشرہ سعید کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں میں ایک ایسا ماحول قائم کرنا ہے جہاں طلبا خود کو محفوظ، پُراعتماد اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف محسوس کریں۔ ایسی مہمات اس لیے بھی ضروری ہیں کیونکہ نوجوانوں کو صرف منشیات کے نقصانات بتانا کافی نہیں بلکہ انہیں متبادل مثبت سرگرمیاں فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
معاشرے میں منشیات کے خاتمے کے لیے والدین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی مصروفیات کے باعث بچوں کی سرگرمیوں پر مکمل توجہ نہیں دے پاتے۔ نوجوان کن دوستوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، ان کی ذہنی کیفیت کیا ہے اور وہ کن مسائل کا شکار ہیں، ان امور پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ ایک مضبوط خاندانی نظام نوجوان کو ہر برائی سے محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اسی طرح میڈیا بھی اس حوالے سے اہم ذمہ داری ادا کر سکتا ہے۔ اگر ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا پر مثبت پیغام کو فروغ دیا جائے اور منشیات کے نقصانات کو حقیقت پسندانہ انداز میں اجاگر کیا جائے تو نوجوانوں میں شعور پیدا کیا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا نوجوان نسل پر گہرا اثر رکھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس پلیٹ فارم کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
منشیات کے خلاف جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، مستقل آگاہی اور سماجی تعاون ناگزیر ہے۔ تعلیمی اداروں میں سیمینارز، واکس، پوسٹر مقابلے، تھیٹر پرفارمنسز اور مشاورتی سیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو مثبت سمت دی جا سکتی ہے۔ لاہور میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اسی سوچ کی عکاس تھی کہ اگر تمام ادارے متحد ہو جائیں تو نئی نسل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ منشیات کے خلاف مہم کو وقتی سرگرمی کے بجائے ایک مستقل قومی مشن بنایا جائے۔ حکومت، تعلیمی ادارے، والدین، میڈیا اور سماجی تنظیمیں اگر مل کر کام کریں تو یقینی طور پر ایک صحت مند، باصلاحیت اور باشعور نسل پروان چڑھ سکتی ہے۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، اور ان کا محفوظ مستقبل ہی دراصل پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
Ghulam Murtaza Bajwa
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 56 Articles with 54364 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.