ٹاکسک سوسائٹی اور سیرت رسول ﷺ

ٹاکسک سوسائٹی اور سیرت رسول ﷺ
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)
آج کا انسان ترقی یافتہ ضرور ہوا ہے، مگر اندر سے تھک چکا ہے۔شہروں کی چمکتی سڑکوں، سوشل میڈیا کی مصنوعی مسکراہٹوں، اور تعلقات کی بھیڑ میں دل عجیب بے حسی کا شکار ہو رہا ہے۔ زبانیں تیز، رویّے سخت، اور مزاج انتقامی ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے زیادہ، شکست دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی وہ ماحول ہے جسے جدید اصطلاح میں Toxic Society کہا جاتا ہے؛ ایسا معاشرہ جہاں حسد، نفرت، مقابلہ بازی، خود غرضی اور روحانی خلا انسان کی شخصیت کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ایسے دور میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ “کامیاب کیسے ہونا ہے؟”
بلکہ یہ ہے کہ “انسان کیسے رہنا ہے؟”
اور اس سوال کا کامل جواب ہمیں رحمتِ عالم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ملتا ہے۔
Muhammad کی پوری حیاتِ مبارکہ اس حقیقت کی زندہ تفسیر ہے کہ زہریلے ماحول میں بھی نرم دل، باوقار، مہربان اور بااخلاق کیسے رہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے ایسے معاشرے میں رحم، درگزر اور محبت کی شمع روشن کی جہاں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، کمزوروں کو روند دیا جاتا تھا، اور طاقت ہی حق سمجھی جاتی تھی۔
مگر آپ ﷺ نے انتقام سے نہیں، اخلاق سے انقلاب برپا کیا۔
نرم دل ہونا کمزوری نہیں، نبوی قوت ہے
آج کی دنیا نے سختی کو “اسمارٹنس” اور بے حسی کو “سیلف پروٹیکشن” کا نام دے دیا ہے۔
لوگ کہتے ہیں:“زیادہ اچھے مت بنو، لوگ استعمال کرلیں گے۔”“دل نرم ہوگا تو دنیا جینے نہیں دے گی۔”
لیکن نبوی تعلیمات ہمیں ایک بالکل مختلف زاویہ دیتی ہیں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ
“اللہ کی رحمت ہی کے سبب آپ ان کے لیے نرم دل ہیں۔”
( سورۂ آلِ عمران: 159)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نرم دلی کمزور شخصیت کی علامت نہیں، بلکہ اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔
دنیا سخت ہو سکتی ہے، مگر مؤمن کا دل پتھر نہیں بنتا۔
________________________________________
زہریلے معاشرے کا سب سے بڑا نقصان: دل کا مر جانا
ٹاکسک ماحول صرف ذہنی دباؤ نہیں دیتا، بلکہ رفتہ رفتہ انسان کے جذبات کو بھی ختم کر دیتا ہے۔
آدمی دوسروں کے درد سے لاتعلق ہونے لگتا ہے۔
معاف کرنا مشکل لگتا ہے۔
اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔
اور پھر انسان ایک چلتی پھرتی مشین بن جاتا ہے۔
نبئ کریم ﷺ نے دل کی اسی کیفیت کو اصل خطرہ قرار دیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے۔”
— صحیح بخاری
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے کی اصل اصلاح قانون سے پہلے دل کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔
________________________________________
زخم کھا کر بھی رحمت بانٹنا
1. اذیت کے جواب میں اخلاق
طائف کا واقعہ انسانی تاریخ کے عظیم ترین اخلاقی مناظر میں سے ایک ہے۔
جب Muhammad کو پتھر مارے گئے، لہولہان کیا گیا، اور شہر سے نکال دیا گیا، تو فرشتے نے عرض کی کہ اگر حکم ہو تو ان پہاڑوں کو ان پر الٹ دوں۔
مگر جواب کیا تھا؟
“نہیں، مجھے امید ہے کہ ان کی نسلوں سے اللہ ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اس کی عبادت کریں گے۔”
یہ صرف رحم نہیں تھا، یہ زخمی دل کے اندر بھی انسانیت کو زندہ رکھنے کا فن تھا۔
آج ہم معمولی اختلاف پر رشتے ختم کر دیتے ہیں، سوشل میڈیا پر کردار کشی کرتے ہیں، اور دل میں نفرت پال لیتے ہیں۔
نبویؐ اسلوب ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر بدتمیزی کا جواب بدتمیزی نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی خاموشی، دعا، اور درگزر سب سے بڑی فتح ہوتی ہے۔
________________________________________
2. لوگوں کے رویّے نہیں، اپنا کردار کنٹرول کریں
ٹاکسک سوسائٹی کی ایک علامت یہ ہے کہ لوگ آپ کے مزاج کا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔
کسی کی تنقید آپ کو توڑ دیتی ہے، کسی کی بے وفائی آپ کو سخت بنا دیتی ہے۔
مگر نبی کریم ﷺ نے شخصیت کی خود مختاری سکھائی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔”
— صحیح بخاری
اصل طاقت ردعمل میں نہیں، ضبط میں ہے۔
اصل وقار چیخنے میں نہیں، اپنے ظرف کو بچانے میں ہے۔
________________________________________
3. دل کو نرم رکھنے کے لیے عبادت ضروری ہے
روحانی تعلق کے بغیر انسان کا دل دنیا کی گرد میں سخت ہو جاتا ہے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ راتوں کو قیام فرماتے، دعا کرتے، آنسو بہاتے، اور اللہ سے دل کی زندگی مانگتے تھے۔
ٹاکسک ماحول میں رہتے ہوئے اگر انسان:
• نماز سے جڑ جائے،
• تلاوتِ قرآن کو معمول بنا لے،
• درودِ پاک کی کثرت کرے،
• اور تنہائی میں اللہ سے گفتگو کرے،
تو دل کے اندر عجیب سکون پیدا ہوتا ہے۔
روحانی طاقت انسان کو اندر سے محفوظ بنا دیتی ہے۔
________________________________________
4. ہر کسی کو دل میں جگہ دینا ضروری نہیں
نرم دل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان حدود کھو دے۔
نبی کریم ﷺ نے محبت بھی سکھائی اور حکمت بھی۔
ہر شخص آپ کے خلوص کا حق دار نہیں ہوتا۔
بعض لوگوں سے فاصلہ رکھنا بھی سنتِ حکمت ہے۔
اسلام اندھی معصومیت نہیں سکھاتا؛
بلکہ باوقار رحمت سکھاتا ہے۔
آپ ﷺ نے منافقین کے رویّے برداشت کیے، مگر ان کی سازشوں سے بے خبر نہیں رہے۔
یہ توازن آج کے انسان کے لیے نہایت ضروری ہے۔
________________________________________
5. لوگوں کو معاف کرنا، خود کو آزاد کرنا ہے
کینہ دل کو سب سے زیادہ زخمی کرتا ہے۔
نفرت انسان کے سکون کو کھا جاتی ہے۔
فتحِ مکہ کے دن Muhammad کے پاس مکمل اختیار تھا۔ وہ لوگ سامنے کھڑے تھے جنہوں نے آپ ﷺ کو ستایا، آپ کے ساتھیوں کو قتل کیا، اور برسوں ظلم کیا۔
مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
“آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ جاؤ، تم سب آزاد ہو۔”
یہ صرف معافی نہیں تھی، یہ انسانیت کی اخلاقی معراج تھی۔
بعض اوقات معاف کرنا دوسروں کے لیے نہیں، اپنے دل کے سکون کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
________________________________________
جدید انسان کے لیے نبویؐ نسخۂ سکون
اگر آپ ایک زہریلے معاشرے میں رہتے ہوئے بھی نرم دل رہنا چاہتے ہیں، تو یہ چند نبوی اصول اپنی زندگی کا حصہ بنا لیجیے:
• ہر صبح نیت کریں:
“میں لوگوں جیسا نہیں، اپنے نبی ﷺ جیسا بننے کی کوشش کروں گا۔”
• ردعمل دینے سے پہلے توقف کریں:
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
• سوشل میڈیا سے دل کی حفاظت کریں:
ہر شور سننا عقل مندی نہیں۔
• نیک صحبت اختیار کریں:
دل ماحول سے رنگ پکڑتا ہے۔
• دعا کو ہتھیار بنائیں:
کچھ جنگیں دلیل سے نہیں، سجدوں سے جیتی جاتی ہیں۔
________________________________________
نرم دل لوگ دنیا نہیں بدلتے… فضا بدل دیتے ہیں
دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑے انقلاب تلواروں سے نہیں، کردار سے آئے ہیں۔
ایک نرم لہجہ، ایک معاف کر دینے والا دل، ایک سچا انسان — پورے ماحول کی کیفیت بدل سکتا ہے۔
جب معاشرہ زہر اُگل رہا ہو، تب محبت بانٹنا عبادت بن جاتا ہے۔
جب لوگ توڑ رہے ہوں، تب کسی کا سہارا بننا صدقہ بن جاتا ہے۔
اور جب دنیا سخت ہو رہی ہو، تب نرم رہ جانا سنتِ مصطفیٰ ﷺ بن جاتا ہے۔
________________________________________
اختتامیہ
آج انسان کو صرف کامیاب لوگوں کی نہیں، محفوظ دلوں کی ضرورت ہے۔
ایسے دل جو نفرت کے باوجود محبت کرنا جانتے ہوں۔
ایسے دل جو دھوکے کے بعد بھی خیرخواہی نہ چھوڑیں۔
ایسے دل جو دنیا کی سختیوں کے باوجود رحمت کا چراغ بجھنے نہ دیں۔
ٹاکسک سوسائٹی میں نرم دل رہنا آسان نہیں۔
مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو عام ہجوم سے اٹھا کر اخلاقی عظمت عطا کرتا ہے۔
اور اس راستے کے سب سے کامل رہبر صرف ایک ہیں:
Muhammad — جنہوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ طاقتور وہ نہیں جو لوگوں کو ہرا دے، بلکہ وہ ہے جو نفرتوں کے زمانے میں بھی اپنے دل کو انسان رکھ سکے۔

DR ZAHOOR AHMED DANISH
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 457 Articles with 709174 views i am scholar.serve the humainbeing... View More