اس آرٹیکل کا مرکزی خیال کتاب unlearn 101 Truths for a Better Life سے لیا گیا ہے۔ آپکے پاس ایک ہلکا نارنجی acrylic jug ہو۔ جس کے اوپر ہلکے ہلکے سرخ پھول پینٹ کئے گئے ہوں۔ اسکے اندر ٹھنڈا ٹھار لیموں پانی ڈالیں۔ جس میں لیموں کی کھٹاس چینی کی مٹھاس کا خیال آنے والے مہمان کے ذائقے کو مدِنظر رکھتے ہوئے رکھا گیا ہو۔ پھر اِسی نمونے کے گلاسوں میں آپ لیموں پانی ڈال کر پیش کرنے کے لئے جگ کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ مگر آپکو پتہ لگے کہ جگ میں ایک crack تھا۔ جس سے سب ذائقہ دار مشروب جگ سے بہہ کر ٹرے میں رہ گیا اور آپ خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔ اب نہ تو آپ خود کچھ پی سکتے ہیں نہ مہمان کو پلا سکتے ہیں۔
آپ صبح ناشتے میں کھائیں دیسی گھی میں تلی پوریاں دوپہر میں کھائیں مٹن کڑاہی وہ بھی بازار کی رات میں کھائیں تکے اور کھانے بھی رات کے دو بجے ہیں اب جب ڈاکٹر بتائے گا شوگر کولیسٹرول بی پی ابنارمل ہو گیا ہے تو آپ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ صحت کے حوالے سے آپ خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔
زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اِس کو گزارنے کے لئے کام کرنا پڑتا ہے۔ خاتون ہونے کا خاص طور پر ڈیسنٹ گھر کی خاتون ہونے کا فائدہ ہے چاہے وہ کماتی نہ بھی ہو تو گزارہ ٹھیک ٹھاک ہو جاتا ہے۔باعزت انداز سے ہوتا ہے۔
مگر ہر جگہ یہ معاملہ نہیں ہوتا۔ کہیں کہیں خاتون کماتی بھی ہے باتیں بھی سُنتی ہے۔غصہ اگلی نسل میں منتقل کرتی ہے اور وہ بچے پھر موبائل اور جنک میں پناہ لیتے ہیں سو یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
اِس طرح کے حالات اِنسان کو خوش باش اور صحت مند انداز سے زندہ نہیں رہنے دیتے کیونکہ انسان اوپر سے کام کرتا ہے چاہے خوشنما بھی نظر آئے مگر اندر سےخالی اور جسمانی اور ذہنی بیمار ہوتا جاتا ہے۔
اِسی لئے اپنی جسمانی جزباتی بہتری کا کام کبھی خوشی کبھی مجبوری کبھی اولاد کے لئے اور کبھی صرف اپنے آپ کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ اگر اپنے آپ کے لئے کر لیا جائے تو اِس سے اچھی کیا بات۔۔۔۔ کیونکہ آپ جو اندر سے محسوس کرتے ہیں آپ وہی دوسروں میں بانٹتے ہیں۔ ۔۔۔۔ جب اچھا محسوس ہی نہیں کرتے تو بانٹیں گے اچھا کیسے ۔۔۔۔۔ پلے نئیں دھیلا ، کر دی میلہ میلہ
|