وفاقی بجٹ 27-2026 اور سرکاری ملازمین کی بڑھتی مشکلات

(Atif Rao, Karachi)

وفاقی بجٹ 2026-27 اور ملازمین کی بڑھتی مشکلات

تحریر: محمد عاطف راؤ
سیکریٹری اطلاعات
ریلوے ورکرز یونین (اوپن لائن) رجسٹرڈ
ای میل: [email protected]

ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ اور مہنگائی کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں عام آدمی کی زندگی مسلسل مشکلات کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ خاص طور پر سرکاری و نیم سرکاری ملازمین، جو محدود تنخواہوں میں اپنے خاندانوں کا نظام چلاتے ہیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ وفاقی بجٹ 2026-27 قریب آچکا ہے اور ہر ملازم کی نظریں حکومت کی جانب لگی ہوئی ہیں کہ شاید اس بار انہیں کوئی حقیقی ریلیف مل سکے۔

گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، سبزیاں، ادویات، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر شے کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی ہے۔ دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے نے ملازمین کے لیے دفاتر اور کام کی جگہوں تک پہنچنا بھی ایک بڑا مسئلہ بنادیا ہے۔ روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں ملازمین اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ صرف آنے جانے کے اخراجات پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کنویئنس الاؤنس آج بھی کئی اداروں میں پرانے حساب سے دیا جارہا ہے، جبکہ پٹرول کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ یہی صورتحال دیگر الاؤنسز کی بھی ہے جو موجودہ مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہوچکے ہیں۔ ایک عام ملازم اپنی محدود آمدنی میں بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، کرایہ مکان، یوٹیلیٹی بلز اور دیگر ضروریات پوری کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ یہ معاشی دباؤ اب صرف مالی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ملازمین کی ذہنی سکون، صحت اور خاندانی زندگی کو بھی متاثر کررہا ہے۔

یہ بات حکومت کو سمجھنا ہوگی کہ کسی بھی ریاستی ادارے کی اصل طاقت اس کے ملازمین ہوتے ہیں۔ پاکستان ریلوے، واپڈا، پاکستان پوسٹ، تعلیم، صحت، بلدیات اور دیگر اداروں کے ملازمین محدود وسائل اور سخت حالات کے باوجود اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اگر یہی ملازمین معاشی طور پر غیر محفوظ اور ذہنی دباؤ کا شکار رہیں گے تو اداروں کی کارکردگی اور عوامی خدمات بھی متاثر ہوں گی۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ملازمین کو ریلیف دے کر اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جاتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں اکثر بجٹ میں ملازمین کے مسائل کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 حکومت کے لیے ایک اہم امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بجٹ میں ضروری ہے کہ سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، کنویئنس الاؤنس کو موجودہ پٹرول قیمتوں کے مطابق فوری بڑھایا جائے اور کم آمدنی والے ملازمین کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔ اسی طرح پنشنرز اور ڈیلی ویجز ملازمین کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ بھی اسی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

ملازمین کسی احسان یا خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کررہے بلکہ وہ اپنے جائز حق اور باعزت زندگی گزارنے کے لیے ضروری معاشی تحفظ چاہتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی عوامی ریلیف، اداروں کی بہتری اور ملکی ترقی کی خواہاں ہے تو اسے بجٹ میں ملازمین کے مسائل کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ معاشی بوجھ تلے دبے ہوئے لاکھوں ملازمین کو فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ ذہنی سکون اور بہتر کارکردگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

 

Atif Rao
About the Author: Atif Rao Read More Articles by Atif Rao: 2 Articles with 409 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.