سید مسعود حسن شہاب دہلوی (ستارہ امتیاز) اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور

سید مسعود حسن شہاب دہلوی (ستارہ امتیاز) اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور

از. ڈاکٹر فرحین موعود

۱۴ اگست ۲۰۲۵ء کو وفاقی حکومت نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کے لیے سول ایوارڈز کا اعلان کیا تھا۔ ان شخصیات میں نامور محقق، ممتاز ادیب، شاعر اور صحافی سید مسعود حسن شہاب دہلوی بھی شامل تھے جنہیں ادب کے شعبے میں ان کی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارۂ امتیاز (بعد از وفات) سے نوازنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ اعزاز ۱۳ مئی ۲۰۲۶ کو ان کے صاحبزادے پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی نے وصول کیا، جو خود اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے طالب علم بلکہ شعبۂ تاریخ کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ وفات کے پینتیس برس بعد ملنے والے اس قومی اعزاز نے نہ صرف شہاب دہلوی کی شخصیت کو دوبارہ اجاگر کیا بلکہ اس بات کی بھی گواہی دی کہ حقیقی علمی خدمات کبھی فراموش نہیں ہوتیں۔

بہاولپور کی علمی روایت میں جامعہ عباسیہ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ 1924ء میں قائم ہونے والا یہ ادارہ بعد ازاں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی صورت اختیار کر گیا۔ جناب شہاب دہلوی کا اس علمی مرکز سے گہرا تعلق رہا ہے ۔جناب شہاب نے ابتدائی تعلیم جامعہ عباسیہ سے ملحق عباسیہ اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں دہلی چلے گئےجہاں باقی تعلیم کی تکمیل کے بعد عملی زندگی کا آغاز کیا اور قیام پاکستان کے بعد بہاول پور کو ہی اپنا وطنِ ثانی بنایا۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے کہ اپنے ابتدائی زمانے سے اس مادر علمی سے جو تعلق تھا آپ کی وفات تک برقرار رہا اور جامعہ کی ترقی کے مختلف مراحل میں وہ ہمیشہ آگے رہے اور اپنے قلم سے اس کی تعمیروترقی میں بھر پور حصہ لیا بلکہ اگلی نسلوں میں بھی منتقل ہوا۔ جنرل یونیورسٹی بننے کے بعد شعبہ اُردو میں بطور ممتحن خدمات انجام دیتے رہے اور بورڈ آف اسٹڈیز کے رکن بھی رہے۔ جامعہ کی علمی و ادبی نشستوں اور سیمینارز میں ان کی شرکت یونیورسٹی کے لیے باعثِ افتخارسمجھی جاتی تھی۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے مختلف شعبہ جات میں شہاب دہلوی کی شخصیت اور علمی ادبی و صحافتی خدمات پر تحقیقی کام بھی ہوا۔

ڈاکٹر مزمل بھٹی نے ڈاکٹر شفیق احمد کے زیرِ نگرانی "شہاب دہلوی: حیات اور خدمات" کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اسی طرح ایک پی ایچ ڈی کا مقالہ آپ کی ادارت میں شائع ہونے والے سہ ماہی الزبیر کی ادبی اور تحقیقی خدمات پرلکھا گیا ،ایم فل اور ایم اے کی سطح کے تو کئی مقالے لکھے گئے بلکہ شعبہ صحافت اور شعبہ تاریخ میں بھی کئی مقالات لکھے گئے۔ پاکستان کی دیگر جامعات میں ہونے والا کام اس کےعلاوہ ہے۔

جامعہ کے متعدد رئیس الجامعہ نے آپ کی کتب کے دیباچے تحریر کیے، جن میں ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی (خطہ پاک اوچ)، ڈاکٹر ابو بکر غزنوی (اولیاے بہاولپور) اور ڈاکٹر رفیق احمد (بہاولپور میں اُردو) کے نام نمایاں ہیں۔ آپ کے انتقال پر اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر مصباح العین نے جنازے میں شرکت کی اور تعزیتی مضمون بھی تحریر کیا، جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے تعزیتی ریفرنس بھی منعقد کیا گیا یہی نہیں جناب شہاب دہلوی کی یاد میں منعقد ہونے والے زیادہ تر سیمینار یونیورسٹی کے گھوٹوی ہال میں منعقد ہوتے رہے جن میں اس وقت کے وزراء تعلیم مثلاً فخر امام ، اسپیکر پنجاب اسمبلی حنیف رامے ، سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی اور سربراہ مقتدرہ قومی زبان ڈاکٹر جمیل جالبی کے علاوہ ملک بھر کے صاحبان علم و دانش اور اس وقت کے سربرہان یونیورسٹی بھی شریک ہوتے تھے۔

شہاب دہلوی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا تعلق کسی ایک فرد کی شخصی نسبت تک محدود نہیں رہا بلکہ نسل در نسل ایک زندہ علمی روایت کی صورت اختیار کر گیا۔ آپ کے صاحبزادے پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بطور استاد اور چیئرمین شعبۂ تاریخ خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی تسلسل میں آپ کے پوتے ڈاکٹر سید شہیر حسن رضوی اس وقت شعبۂ انٹرپرینیورشپ اینڈ انوویشن، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں تدریسی و تحقیقی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

یہ محض ایک تاریخی حوالہ نہیں بلکہ ایک ایسی علمی وراثت ہے جو وقت کے ساتھ اور گہری ہوتی گئی۔

بلاشبہ شہاب دہلوی سے بڑھ کر اس خطے کے علمی اور تاریخی تشخص کی نشرواشاعت کسی اور نے نہیں کی۔ ان کی تصانیف، ان کی صحافت، ان کی شاعری اور ان کا جامعہ سے طویل تعلق ، یہ سب مل کر اس بات کی دلیل ہیں کہ ایک سچا عالم اپنے شہر، اپنے ادارے اور اپنی نسلوں کو علم کی روشنی سے منور کر جاتا ہے۔

ستارۂ امتیاز کی صورت میں ملنے والا قومی اعتراف اس حقیقت کی سرکاری توثیق ہے جو اہلِ بہاولپور برسوں سے اپنے دلوں میں محسوس کرتے آئے تھے یہی وجہ ہے بہاول پور کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے صاحبان چاہے اُن کا تعلق سیاست سے ہے یا علم و ادب یا ثقافت یا علمی ادبی ادارے سب نے شہاب صاحب کو ملنے والے اعزاز کو بہاول پور کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔
 
Dr. Farheen Moud
About the Author: Dr. Farheen Moud Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.