عید مبارک

وہ آئے گھر میں ہمارے، خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم اُنکو کبھی، اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
ویسے تو یہ شعر جس قسم کے پیرائے میں ہے پڑھتے ساتھ ہی کچھ کچھ سمجھ آ جاتا
ہے۔تھوڑا کہیے کو بہت جانیے مزید تفصیل و کھوج میں نہ جائیے۔
اب اِس کو ایک نئے پیرائے میں لیجیئے جب مہمانوں نے آنا ہو اور امی جان صفائی کا آرڈر
نافذ کردیتی ہیں یہ موقع
عید
رشتہ دکھائی
شگُن کا آنا
ڈھولکی
یو کے والے ماموں کا آنا
سعودیہ والے چچا کا آنا
سہیلیوں کا گھر پر دھاوا بولنا
پائے کی دعوت
باربی کیو کی دعوت
بلاوجہ کی دعوت
وغیرہ وغیرہ
اِن سب میں مہمان تو ہوں گے نا۔۔۔
ڈھولا ہو سی تاں ہی رولا ہو سی

مہمانوں کو اللہ کی رحمت کہا جاتا ہے۔۔۔۔بچوں کو دو ہی اچھے کہا جاتا ہے
بے زبان انسان کو اللہ میاں کی گائے کہا جاتا ہے۔۔۔ اب ایسا کوئی نہیں ہوتااسی لئے سب کو چالاک ہی
کہا جاتا ہے
بنو کے مکھڑے کو چاند کا ٹکڑا کہا جاتا ہے۔۔۔ ایسا بنو کو چارا ڈالنے کے لئے کہا جاتاہے

کیونکہ بنو نے فیشل کروا کر عید کے مہمانوں کے لئے پیاز کاٹ کر چھم چھم نِیر بہاتے ہوئے
کھانا بنانا ہوتا ہے۔
نیر کو فارسی میں ۔ زیر کے بغیر پڑھیں۔ تو فارسی میں روشنی یا سورج کی کرن کے طور پر
بھی لیا جاتا ہے۔
جیسا کہ دُولہا دُلہن کی جوڑی کو چاند سورج کی جوڑی کہا جاتا ہے۔۔۔ میک اپ کے ساتھ
۔۔
اب اِس طرح کی جوڑی بننے کے چکر میں کتنے مسکین بغیر کسی جوڑی دار کے پھِر رہے ہیں۔
یہ ایک الگ بحث ہے۔
بحث تو تب ہوتی ہے جب عید پر دو موضوعات پر ہوتی ہے۔
دعوت پہلے کِدھر کھانی ہے کس سے کیا کھانا ہے۔
کھانا کیسا تھا۔
ہر کھانے والے کو ایک الگ طرح کی غلطی کھانے میں پکڑنی آتی ہے کبھی وہ شیریں
لہجے میں لپیٹ کر اور کبھی لٹھ مار کر آپکو سُنا دے گا۔
جس بنو نے فیشل کروا کر کھانا بنایا ہوتا ہے۔
مہمان بننے کی دیر ہوتی ہے غلطیاں وہ بھی نکال رہی ہوتی ہے۔
میں نے یہاں کسی بھی کھانے کا نام اِس لئے نہیں لکھا کہ سب پڑھنے والوں کو تو میرے
سے ذیادہ کھانوں کا پتہ ہے۔
ریسٹورنٹس اور فوڈ بلاگرز نے ہم سب کے اندر بھی ایک ننھا سا فوڈ بلاگر پروان چڑھا دیا
ہے۔
جس کے پاس گنجائش ہے وہ کھُلم کھُلا فوٹویں کھانوں کی سوشل میڈیا پر اَپلوڈ کرتا ہے اور
اپنی شو بناتا نظر آتا ہے۔
جس کے پاس کم گنجائش ہے وہ بہت ساری چیزوں پر کَٹ مار کر بازاری کھانے
کی اپنے اکائونٹس پر ترویج کر کےشو بنانے کی کوشش کرتا
نظر آتا ہے۔

وہ عید جو اللہ کا تحفہ ہے کھانوں اور جانوروں کی قیمتوں کی شو بنانے میں گُزر جاتی ہے۔

اللہ نے قُربانی رکھی کہ انسان کو جب اپنا مال خرچ کرنا پڑے اپنے کمائے میں سے غُربا کو
دینا پڑے تو انسان کے اندر بھی تو عاجزی آئے کہ دینے والا الل ہے اور اُسکے دیے
میں سے دینا ہے۔
روزہ حج زکوٰۃ یہی سکھاتے ہیں۔



sana
About the Author: sana Read More Articles by sana: 276 Articles with 358293 views A writer who likes to share routine life experiences and observations which may be interesting for few and boring for some but sprinkled with humor .. View More