گندم پالیسی: غذائی تحفظ کی جانب اہم قدم
(Ghulam Murtaza Bajwa, Lahore)
گندم پالیسی: غذائی تحفظ کی جانب اہم قدم
|
|
|
ایوان اقتدارسے غلام مرتضیٰ باجوہ |
|
پنجاب پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے والا سب سے بڑا زرعی صوبہ ہے۔ ملک کی مجموعی گندم پیداوار میں پنجاب کا حصہ سب سے زیادہ ہے، اسی لیے صوبے میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا استحکام نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کی معاشی اور سماجی صورتحال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی ویڈیو لنک اجلاس میں گندم اور آٹے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ایسے اہم فیصلے کیے گئے جن کے مثبت اثرات عام شہریوں تک پہنچنے کی توقع ہے۔اجلاس میں پاسکو سے دس لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا گیا، جسے موجودہ حالات میں ایک بروقت اور دانشمندانہ اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد صوبے میں آٹے اور گندم کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا اور عوام کو سستی روٹی اور سستا آٹا فراہم کرنا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں خوراک کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر دیتا ہے، اس لیے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ بنیادی غذائی اشیاء کی دستیابی اور مناسب نرخ کو یقینی بنائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس میں واضح کیا کہ عوامی مفاد ہر فیصلے کا محور ہونا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت فلور ملوں کو 3300 روپے فی من کے حساب سے گندم فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام سے فلور ملوں کے لیے خام مال کی دستیابی آسان ہوگی جبکہ آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ حکومت کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب حکومت صرف انتظامی اقدامات تک محدود نہیں بلکہ عوامی ریلیف کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو مہنگائی، موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی معاشی دباؤ جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں زرعی اجناس خصوصاً گندم کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا آسان کام نہیں۔ اس کے باوجود پنجاب حکومت نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متوازن حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ دراصل مارکیٹ میں سپلائی کو بہتر بنانے اور ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت کے امکانات کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ اجلاس میں ایک اہم پہلو صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل کے حوالے سے بھی زیر غور آیا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پنجاب سے دیگر صوبوں خصوصاً خیبرپختونخوا اور سندھ کو گندم کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ تاہم اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ ایسے دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ مزید یہ کہ سندھ کی جانب سے گندم کی فراہمی روکنے کے حوالے سے کسی قسم کی شکایت بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔یہ وضاحت نہایت اہم ہے کیونکہ بعض اوقات افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات نہ صرف مارکیٹ میں بے چینی پیدا کرتی ہیں بلکہ صوبوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی جنم دیتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے حقائق پر مبنی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی کہ گندم کی بین الصوبائی ترسیل کو جان بوجھ کر محدود کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت معاملات کو شفافیت کے ساتھ آگے بڑھانے پر یقین رکھتی ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب میں گندم کے سٹاک ڈکلیئر کرنے کا عمل جاری ہے اور مکمل ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی مؤثر غذائی پالیسی کے لیے درست اعداد و شمار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب حکومت کے پاس گندم کے ذخائر، پیداوار اور طلب سے متعلق مکمل معلومات موجود ہوں گی تو مستقبل کے فیصلے زیادہ مؤثر اور حقیقت پسندانہ انداز میں کیے جا سکیں گے۔ موجودہ انتظامیہ کا ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کی جانب رجحان ایک مثبت پیش رفت ہے۔رواں سال گندم کی فصل کے حوالے سے ایک اہم حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ دانہ نسبتاً چھوٹا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق موسمی حالات، درجہ حرارت میں تبدیلی اور دیگر عوامل فصل کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کا یہ فیصلہ کہ پہلے صوبے کی غذائی ضروریات کا درست اندازہ لگایا جائے اور پھر مستقبل کی حکمت عملی مرتب کی جائے، نہایت مناسب معلوم ہوتا ہے۔ غذائی تحفظ کے معاملے میں جلد بازی کے بجائے حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں ہونے والے اجلاس کا ایک اور قابل ذکر پہلو بین الصوبائی یکجہتی کا عزم ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے بعد خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کا فرض ضرور ادا کرے گا۔ یہ فیصلہ وفاقی وحدت اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کی علامت ہے۔ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں ایک صوبے کی خوشحالی دوسرے صوبوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گندم صرف ایک زرعی جنس نہیں بلکہ قومی غذائی سلامتی کا ستون ہے۔ اگر اس کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رہے تو عوام کو ریلیف ملتا ہے، مہنگائی کے دباؤ میں کمی آتی ہے اور معاشی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی حالیہ پالیسی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ گندم کی خریداری، فلور ملوں کو مناسب نرخ پر فراہمی، سٹاک کا شفاف ریکارڈ اور دیگر صوبوں کے ساتھ تعاون جیسے اقدامات مجموعی طور پر ایک متوازن حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں عوامی فلاح کے متعدد منصوبوں کو ترجیح دی ہے۔ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ پر خصوصی توجہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت بنیادی ضروریات کو نظر انداز نہیں کر رہی۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام کا براہ راست تعلق عام آدمی کی زندگی سے ہے، اس لیے اس شعبے میں مؤثر فیصلوں کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ مستقبل میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گندم کی پیداوار بڑھانے، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ، کسانوں کی معاونت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے۔ اگر کسان خوشحال ہوگا تو زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور ملک غذائی اعتبار سے مزید مضبوط ہو سکے گا۔ ساتھ ہی شفاف نگرانی اور مارکیٹ مینجمنٹ کے ذریعے آٹے اور گندم کی قیمتوں کو عوام کی قوت خرید کے مطابق رکھنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے عوامی مفاد، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے تناظر میں اہمیت کے حامل ہیں۔ پاسکو سے گندم خریدنے، آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور بین الصوبائی تعاون کو فروغ دینے کے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف پنجاب بلکہ پورا ملک اس کے مثبت ثمرات سے مستفید ہو سکتا ہے۔ |